September 27, 2014

خبر وتعليق الدول الغربية تخشى من الظهور بمظهر المعادي للإسلام!!

الخبر:


ألقى الرئيس الأمريكي باراك أوباما منذ يومين كلمة في الأمم المتحدة قال فيها: (وقلنا مجددًا إن الولايات المتحدة ليست ولن تكون أبدًا في حالة حرب مع الإسلام...)، وقال: (إن تنظيم الدولة لا يمثل الإسلام بل هو يسيء إلى الإسلام). ومنذ يومين قال وزير الخارجية الفرنسي لوران فابيوس: (إن مصطلح "الدولة الإسلامية"، الذي تطلقه الدولة الإسلامية في العراق والشام أو ما يُعرف بـ"داعش،" هو اسم غير صحيح، ففي البداية هم ليسوا دولة وثانيًا هم لا يمثلون الإسلام).

التعليق:


واضح من كلام أوباما وفابيوس وغيرهما من قادة الدول الغربية حرصهم على أن لا يظهروا كأعداء للإسلام والمسلمين، بل وإنهم ينفون عن الإسلام تهمة الإرهاب التي لطالما ربطوها به لتخويف شعوبهم من الإسلام ولتبرير حملاتهم العسكرية المتكررة ضد المسلمين وبلادهم.


إن قادة الدول الغربية ومفكريهم قد أدركوا أكثر من كثير من المسلمين التحوّل الحاصل في الأمة الإسلامية تجاه الإسلام بوصفه مبدأً لشؤون الحياة، وأدركوا أن العيش في ظل أنظمة الإسلام في دولة خلافة على منهاج النبوة صار له تأييد قوي في أوساط المسلمين، وهذا بالنسبة لهم يُعتبر خطرًا داهمًا ينبغي الوقوف في وجهه قبل أن توجد القوة اللازمة لتحويل ذلك التأييد إلى حقيقة واقعة، فيكون ذلك كارثة على نفوذ الدول الغربية ومصالحها في بلاد المسلمين. ولذلك فهم يحاولون خداع المسلمين بأن الحرب ليست ضد الإسلام وإنما هي ضد من يشوّه صورة الإسلام، وهذا بحد ذاته إشارة مهمة إلى إدراك الغرب لحجم التحول الحاصل بين المسلمين تجاه الإسلام.
إن الغرب يدرك أنه ينتقل من فشل إلى فشل في خططه المتعلقة بمنع إقامة الخلافة. فالدول الغربية التي قامت بهدم دولة الخلافة وضعت حينها الخطط السياسية والبرامج التعليمية والثقافية في بلاد المسلمين على أساس فكرة فصل الدين عن الحياة، لإبعاد فكرة الخلافة وفكرة أن الإسلام نظام حياة عن الأذهان، لتَحُول دون عودة الخلافة من جديد. وعملت على جعل المسلمين يقدّسون أفكار الغرب ومفاهيمه عن الحياة.. وبالرغم من سيطرة الدول الغربية على البلاد الإسلامية، إلا أن خطة الغرب تلك قد فشلت فشلًا ظاهرًا، فها هي الخلافة على منهاج النبوة صارت مطلبًا عامًا عند المسلمين، بل صار الحديث عنها ومنذ سنوات ملءَ السمع والبصر.. وزيادة على ذلك فإنّ مفاهيم الغرب عن الحياة آخذة بالانحسار بين المسلمين، فصار طبيعيًا الحديث عن أفكار الغرب بوصفها أفكار كفر وأنها تناقض الإسلام، وقادة الغرب يدركون هذا التحول، وهذا ما دفع الرئيس الأمريكي باراك أوباما إلى أن يقول في كلمته التي أشرت إليها أعلاه: (فنحن لن نكف عن تأكيد المبادئ التي تتناغم مع مُثُلنا.. أو مؤازرة المبادئ المنصوص عليها في الإعلان العالمي لحقوق الإنسان.. إننا سنرفض الفكرة القائلة بأن هذه المبادئ ليست سوى صادرات غربية لا تتوافق مع الإسلام أو العالم العربي..)، وللعلم فإن هذا التحول في أوساط المسلمين لا ينحصر في البلاد الإسلامية، بل تعداه إلى الدول الغربية وهو ما جعل على سبيل المثال الرئيس الفرنسي ساركوزي يقول: (لا نريد إسلامًا في فرنسا بل نريد إسلامًا فرنسيًا).


وبعد فشل الغرب في منع انتشار فكرة الخلافة، قامت مراكز الأبحاث في الغرب بتقديم نموذج غربي ألبسوه لبوس الإسلام، وسموه الإسلام المعتدل ليتم اتباعه من قبل الدول الغربية في العالم الإسلامي لمواجهة فكرة الخلافة، فأوصلت أمريكا الحركات الإسلامية المعتدلة إلى سدة الحكم في العديد من البلدان.. ولكن حجم التحوّل السريع في الأمة نحو فكرة الخلافة على منهاج النبوة جعل الغرب يدرك أن رهانه على تلك الحركات هو رهان فاشل، فعاد إلى أسلوبه القديم وهو الاعتماد على العسكر لإخماد الأصوات المطالبة بالتغيير الجذري.


وآخر ما قرر الغرب اتباعه للحيلولة دون إقامة الخلافة على منهاج النبوة هو تشويه فكرة الخلافة نفسها والتخويف منها من خلال تشجيع تنظيم الدولة على إعلان الخلافة، وتسهيل سيطرته على أجزاء واسعة من سوريا والعراق. ويهدف الغرب من وراء ذلك إلى ثني المسلمين عن المطالبة بالخلافة بوصفها "قاطعة رؤوس" ولا تسمح لغير المسلمين بالعيش في ظلها، بل إنها تقتل المسلمين الذين يحملون آراء مخالفة للقائمين عليها. كما ويهدف الغرب إلى اتخاذ محاربة الإرهاب المتمثل بتلك "الدولة" ذريعة للتدخل في المنطقة لضرب كل توجه يتعارض مع سياساته وليحول دون عودة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة من جديد، وليقسّم البلاد تقسيمًا جديدًا..


أيها المسلمون:


إن عليكم أن تدركوا أن حملة الدول الغربية الحالية وإن كان ظاهرها الهجوم، إلا أنها في حقيقتها دفاع عن نفوذ تلك الدول الآيل للسقوط في بلادنا بعد التحول الحاصل في الأمة الإسلامية، فلا يغرنّكم جمعهم، فإنه أوهى من بيت العنكبوت.. كما وعليكم أن تدركوا أن ما يُنْزِل بنفوذ الدول الغربية في بلادنا وجيوشهم وأساطيلهم الضربة الساحقة، هو أن تنخرطوا في مشروع إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وأن تقوموا بمواجهة حكامكم على ما اقترفوه من خيانة بحقكم مواجهة صريحة، منكرين عليهم وقوفهم مع الأعداء، وساعين لتغييرهم من خلال قواكم الحقيقية الكامنة في الجيوش وغيرها من أهل القوة، مخاطبين أبناءكم في الجيوش خطابًا صريحًا لا لبس فيه: كلامكم علينا حرام ما دمتم حماة للحكام العملاء، كلامكم علينا حرام ما دمتم أداة في تنفيذ سياسات الكفار في بلادنا، كلامكم علينا حرام وأنتم ساكتون بل ومشاركون في ذبح إخوانكم المسلمين، كلامكم علينا حرام حتى تزيلوا عروش الطواغيت وتعلنوها خلافة راشدة على منهاج النبوة التي بها يُطبق الإسلام تطبيقًا كاملًا في واقع الحياة، وبها نحرر بلادنا من نفوذ الكفار المستعمرين، وبها نحمل الإسلام رسالة هدى ونور إلى العالم أجمع.


قال تعالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أبو مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست