October 29, 2014

خبر وتعليق الفقر يدفع نساء جنوب آسيا إلى الانتحار في ظل حكم الرأسمالية البشع (مترجم)


الخبر:


قامت أم فقيرة في باكستان بقتل طفلتيها بواسطة السم ومن ثم حاولت الانتحار ولكن تم إنقاذها وذلك وفقًا لتقارير وسائل الإعلام في 26 تشرين الأول/أكتوبر عام 2014. وقع الحادث المأساوي في منطقة أدا في ولاية رضاباد، حيث إن امرأة اسمها بلقيس قامت بتسميم ابنتيها مما أدى لوفاتهما؛ وهما مقدس وعشرات اللتين تبلغان من العمر أربع سنوات وسنتين على التوالي. وورد أن المرأة حاولت الانتحار ولكن تم إنقاذها ويجري معالجتها في مستشفى محلي. وقالت إن زوجها كان مدمناً على الكحول وقد أجبرها على ممارسة البغاء، وهو ما أجبرها على اللجوء لهذا الإجراء الشديد. وكان حادث مماثل قد وقع في لاهور في وقت سابق هذا الشهر عندما قامت أم - تدعي أنها مريضة وقد أعياها الفقر - بقتل طفليها من خلال خنق واحد وإغراق الآخر. وادعت الأم القاتلة أنها لم تستطع رؤية أطفالها يعيشون في شقاء مما دفعها للقيام بهذا الإجراء الخطير.


التعليق:


إن هذه الحادثة هي إضافة جديدة إلى الكثير من حوادث الموت التي تحصل في شبه القارة الهندية الباكستانية، والتي تحدث جراء معاناة الناس هناك من الفقر فيدفعهم للانتحار والجوع والقتل. وبحسب التقرير السنوي لعام 2012 لحالات الوفاة والانتحار العرضي في الهند، فإن هناك حوالي 6 حالات انتحار يوميًا بسبب الفقر، و5 حالات بسبب النزاع حول المهر الذي تتكفل به النساء، و129 حالة انتحار ارتكبتها نساء بشكل يومي من بينها 60 حالة قامت بها ربات البيوت. وفي جنوب الهند، تم الإبلاغ عن أن معدل الانتحار بين النساء الشابات بلغ نحو 148 من كل مئة ألف، مما يجعله من أعلى معدلات الانتحار في العالم. وبالمثل، في بنغلاديش، فقد ورد في تقرير المركز الآسيوي للموارد القانونية أن 165 امرأة قتلت في سنة واحدة، 77 منهن قتلن من خلال إلقاء الأحماض عليهن، و11 انتحرن بسبب مطالب تتعلق بالمهور. وقد تم حظر المهر رسميًا بموجب القانون. والفتيات اللواتي تتراوح أعمارهن بين 14 إلى 17 سنة أكثر عرضة للانتحار ومحاولة الانتحار من الأولاد الذكور. وأفادت دراسة تتعلق بالصحة والإصابة في بنغلاديش أن أكثر من 2200 طفل قد انتحروا خلال عام واحد - أي نحو ستة أطفال في اليوم الواحد، ومن هؤلاء الستة، وجد أن عدد الإناث بلغ 4. وفي باكستان فالأمر لا يختلف، حيث يدفع الفقر المدقع في كل يوم الشباب والشابات لقتل أنفسهم وأطفالهم، لأنهم غير قادرين على إطعامهم وكسائهم.


والواقع هو أن الدول قد ألغت دورها تمامًا تجاه واجب توفير الاحتياجات الأساسية لمواطنيها، لأن الدول في ظل الرأسمالية الليبرالية العلمانية ليست ملزمة بإشباع الحاجات الأساسية لكل فرد بعينه، وبدلًا من ذلك فإنها تكتفي بزيادة الناتج المحلي الإجمالي، وبارتفاع مؤشرات الأسواق المالية. وذلك لأن النظام الاقتصادي الرأسمالي هو نظام كفر مبني على حرية التملك والربا والاحتكار. ووفقًا للنظرية الرأسمالية، فإن الحاجات الإنسانية الأساسية غير محدودة في الوقت الذي تعتبر فيه الموارد محدودة لإشباع تلك الحاجات، لذلك فإنها تخلص إلى أنه لن يتم إشباع احتياجات جميع الناس، وبالتالي يجب زيادة إنتاج السلع لتلبية احتياجات أكبر عدد ممكن من الناس. وبناء على ذلك، فإن الرأسمالية تقنع نفسها بأن هناك عددًا كبيرًا من الناس سيظل يعاني من الجوع، والفقر، وانعدام المسكن، وهو أمر حتمي. ولذلك فإن قيام باكستان والهند وبنغلاديش، وجميع دول العالم الأخرى، بتطبيق هذا النظام الرأسمالي الوضعي الخاطئ من شأنه أن يؤدي إلى مضاعفة أبعاد قضية الفقر في جميع أنحاء العالم. ومن ناحية أخرى، فإن الإسلام قد قسم حاجات الإنسان إلى نوعين: أساسية وكمالية، وأقر أن الموارد الموجودة على الأرض تكفي لإشباع الحاجات الأساسية (الغذاء والكساء والمأوى) لخمسين مليار إنسان. وقد ساهمت نظرية المبدأ الرأسمالي الخاطئة بإخفاء حقيقة أن الجوع والفقر والتخلف الاقتصادي هي نتائج لسوء توزيع الموارد التي قررتها القوانين والأنظمة الوضعية. ووفقًا لحسابات قام بها برنامج الأمم المتحدة الإنمائي، فإن فرض ضريبة تبلغ 4٪ سنويًا على أغنى 225 شخص في العالم (متوسط 1998 ثروة: 4.5 مليار) سيكون كافيا لتوفير الأساسيات التالية لجميع الناس في الدول النامية: الغذاء الكافي والمياه النقية والصرف الصحي، والتعليم الأساسي، والرعاية الصحية الأساسية والرعاية الصحية الإنجابية.


والإسلام يعطي الحل لهذه المشكلة باعتباره نظامًا من عند الله سبحانه وتعالى يطبق في دولة الخلافة الإسلامية وذلك من خلال إشباع جميع الحاجات الأساسية لكل أفراد الرعية فردًا فردًا، بينما توفر الأحكام الشرعية المتعلقة بالبلاد الإسلامية الفرصة لجموع الناس ليكتفوا ذاتيًا فيما يتعلق بالمأكل والمسكن. فقد روى البخاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: »من أحيا أرضاً ليست لأحد فهو أحقُّ بها»، ورواه البخاري بلفظ: «من أَعْمَر أرضاً ليست لأحدٍ فهو أحق«. فقد جاء النظام الاقتصادي في الإسلام ليشبع الحاجات الأساسية بغض النظر عن وضع السوق، فقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: »لَيْسَ لابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ: بَيْتٌ يَسْكُنُهُ، وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ، وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ» أخرجه الترمذي.


وبحسب هذا الخط العريض، فإنه يجب على الدولة الإسلامية أن تضمن لجميع مواطنيها (مسلمين وغير مسلمين) الأمن الذي لن تحققه الرأسمالية أبدًا وهي تعمل بلا رحمة لتطبيق سياسات السوق الحرة. ولهذا السبب فإننا لم نسمع قط خلال 1300 سنة من الحكم في ظل الخلافة عن امرأة قامت بالانتحار وقتلت أطفالها بسبب الفقر، لأن الناس كانوا يعيشون حياة سعيدة ومزدهرة في ظل الاحتكام إلى تشريع الخالق سبحانه. وعليه، فإن تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي في ظل دولة الخلافة هو الحل الوحيد للقضاء على الفقر وعلى الانتحار الذي يكون الدافع إليه الفقر.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم مصعب
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست