خبر وتعليق   الحكومة تدثر المنظمات الأجنبية بثوب الإنسانية لكنه ثوب شفاف يفضح ما بداخله
December 14, 2014

خبر وتعليق الحكومة تدثر المنظمات الأجنبية بثوب الإنسانية لكنه ثوب شفاف يفضح ما بداخله


الخبر:


ذكرت صحيفة السوداني في 2014/12/10م بأن مجلس الولايات اتهم "المنظمات الأجنبية العاملة بالبلاد، بأنها تزيد افتعال الأزمات في مناطق النزاع. وكشف عضو بالمجلس عن وجود منظمة بمنطقة كاودا بجنوب كردفان ترسل الأطفال إلى إسرائيل، وأكد أن المنظمات الأجنبية لها أضرار كبيرة على الأمن القومي، كما أنها تسرِّب أسرار البلاد، وكشف عن تجسس منظمة أمريكية في السنوات السابقة على البلاد وقد قامت باستئجار شركة طيران خاصة من أجل أن تتجول كما تريد، وأكد أن (80%) منها لها أغراض خاصة".


وكانت وكالة (سونا) في 2014/12/9م أوردت خبرا جاء فيه "... من جهتها كشفت وزيرة الرعاية والضمان الاجتماعي في بيانها عن وجود (13) من وكالات الأمم المتحدة و(104) منظمة أجنبية وهي تعمل بميزانية سنوية تقدر بمليار دولار لانفاذ 455 مشروعا في مختلف القطاعات وبلغ عدد العاملين فيها 2960 وعدد السودانيين العاملين فيها 2655 بنسبة 90% من العدد الكلي خلال هذا العام 2014 م وبلغ الصرف على المشروعات 333 مليون دولار بنسبة 80% والصرف الإداري 83 مليون دولار، ومن أهم المانحين المؤسسات الأوروبية والأمريكية ووكالات الأمم المتحدة وصندوق المانحين لمركز الاستجابة للطوارئ والدعم العربي والإسلامي".

التعليق:


بلغ التناقض ذروته في الدولة؛ فالتشهير بما ترتكبه المنظمات الأجنبية ثم الإشادة بالجهود المبذولة إن دل فإنما يدل على خواء فكري وتنكبٍّ عن الصراط المستقيم، بل من يتعمق يجزم أنهم ﴿وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَا أَبْصَارُهُمْ وَلَا أَفْئِدَتُهُمْ مِنْ شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآَيَاتِ اللَّهِ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ [الأحقاف: 26].


لكن من يستنير في تفكيره يتيقن إصابتهم بمرض سلب الإرادة الذي يجعل من الإنسان تابعا مع أنه صاحب سلطان، ويجعل من القادر كَلاً؛ فأصبحوا مجندين لتمرير سياسات دول الغرب الكافر وهم يدعون أنهم يفضحون مكائدها اللعينة تجاه الإسلام والمسلمين وهم من ذلك براء، بل هي مجرد مجريات أحداث أخرى (اتهامات منظمات للحكومة باغتصابات في فرية تابت) استدعت أن تفضح هذه المنظمات ولكنها ما تلبث أن تتدثر بثوب الإنسانية المهيب الذي تغطيها به حكومة الإنقاذ ولكنه ثوب شفاف بالٍ ممزق كما تثبت مجريات الأحداث.


فكيف تقبل دولة لها أدنى سيادة على أرضها بهذا العدد الكبير من وكالات الأمم المتحدة ومنظماتها مع علمها أنها عدو لدود لشعبها وأفعالها تدل على ذلك؟! الجميع لا ينسى البارونة البريطانية "كوكس" التي لعبت دورا عبر إحدى منظمات الإغاثة الأجنبية في السودان - منظمة التضامن المسيحي - في مساندة متمردي الحركة الشعبية في جنوب السودان، والتي ظهرت أدلة على تعاونها مع المخابرات الأمريكية لدعم الجنوب ضد حكومة الخرطوم ضمن مخطط فصل الجنوب عن الشمال!!!


هذه المنظمة يوجد غيرها ما لا يقل عن 130 منظمة أوروبية منتشرة في السودان بعضها له أجندات مختلفة وتمثل واجهات لأجهزة الاستخبارات الغربية، وهي أشبه بجيش متقدم لغزو السودان. ولا نجافي الحقيقة إن قلنا أن السودان محتل فعليا. فقد أعد المدير المحلي السابق لمنظمة كير العالمية الأمريكية "باركر"، ورقة عبارة عن سيناريوهات لدخول القوات الدولية بديلاً للقوات الإفريقية مع تحليل أمني واستخباري يوصي بإمكانية قبول الحكومة السودانية لدخول القوات الدولية بصفة تحفظ ماء وجهها.


وأصبحت قضايا السودان مثل دارفور وغيرها تبحث في برلمانات الغرب كأنها قضية داخلية لتأثيرها على الرأي العام نتيجة لما تنقله المنظمات، بل أصبحت السودان قضية انتخابية يتبناها هذا وذاك.


تقول مصادر شبه رسمية أن حوالي (22) منظمة من هذه المنظمات الغربية ذات خلفيات صهيونية وإداراتها وتمويلها صهيوني ومقارها تتوزع ما بين نيويورك وواشنطن وبعض دول أوروبا والحكومة تغض الطرف عمدا. بل انتقد وزير الخارجية أمام البرلمان الممارسات الداخلية التي لها أثر في تشويه سمعة السودان أمام الدول الأجنبية مما يتطلب وقتاً لتفهم تلك الدول لما يحدث ومع ذلك يشيد رئيس مجلس الولايات بجهود المنظمات!!


أما سرد وزيرة الرعاية لعمل المنظمات كأنها قطاع من قطاعات الدولة لها ميزانية وقوة عاملة ودول كبرى داعمة ومشروعات فهو محض تضليل لا ينطلي على أي واعٍ على واقع هذه المنظمات العدوة حتى لو تمت سودنة عملها ووضع قانون موجهات العمل الطوعي والإنساني، والاتفاقية القطرية هي عباءة الدولة لهذه المنظمات لتعطى شرعية العمل ليستمر عبثها اللاإنساني.


وأصلُ بلاء القوم حيث تورّطوا هو الجهل في حكم الموالاة عن زلل


فمـا فرّقوا بين التولّي وحكمه وبين المـوالاة التي هي في العمـل


أخـفّ، ومنها ما يكفر فعـله ومنها يكون دون ذلك في الخلـل


والمضحك المبكي هو طلب الوزيرة من الصليب الأحمر باحترام السيادة الوطنية، فأي سيادة تعني؟ تلك التي امتهنتها المنظمات الأجنبية فأصبحت بإذن الدولة تقيم المشروعات وتسد الرمق وتطبب وتعلم؟ ولماذا يعمل الصليب الأحمر أصلا في بلد به حكومة تدعي أنها ذات مشروع إسلامي؟ قال تعالى: ﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾.


يقول سيد قطب في الظلال: «إن هذا القرآن يربي المسلم على أساس إخلاص ولائه لربه ورسوله وعقيدته وجماعته المسلمة، وعلى ضرورة المفاصلة الكاملة بين الصف الذي يقف فيه وكل صف آخر لا يرفع راية الله، ولا يتبع قيادة رسول الله. والولاية التي ينهى الله الذين آمنوا أن تكون بينهم وبين اليهود والنصارى هي التناصر والتحالف معهم... ولا تتعلق بمعنى اتباعهم في دينهم». وهي اليوم عمالة وتبعية من بعض بني جلدتنا لهؤلاء الكفرة المستعمرين في واشنطن ولندن وباريس. ويقول: «إن سماحة الإسلام مع أهل الكتاب شيء، واتخاذهم أولياء شيء آخر».


فهل يقبل مسلم بعد هذا أن يتدخل الغرب، أميركا وأوروبا، فضلاً عن يهود في بلاد المسلمين؟! فكيف بمن يبادر من المسلمين لتدخلهم في قضايانا وبلادنا؟! كيف بمن يطلب من المسلمين معونتهم ومشورتهم من هؤلاء الكفار المستعمرين؟ قال تعالى: ﴿يا أيها الذين آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الذين اتخذوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الذين أُوتُواْ الكتاب مِن قَبْلِكُمْ والكفار أَوْلِيَاءَ واتقوا الله إِن كُنتُم مُّؤْمِنِين﴾.


إن الأمة الإسلامية وشعوبها قد بلغت من الوعي ما قاد إلى الثورات على أنظمة التبعية والخضوع والاستسلام للكفار، وهي بهذا ترسم حدودا للمفاصلة مع أعدائها الحقيقيين وأنها مسألة زمن، فطوبى لمن أطاع الله في أمته وعمل فيهم بشرع الله الحنيف وانحاز إليها في التحرر من العبودية للغرب بإقامة دولة المسلمين الخلافة الراشدة، ومن أعرض وتولى فلن يضر الله شيئا. قال تعالى: ﴿فَتَرَى ٱلَّذِينَ في قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَـٰرِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِىَ بِٱلْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَىٰ مَا أَسَرُّواْ في أَنفُسِهِمْ نَـٰدِمِينَ﴾ [المائدة: 52].


كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم أواب/ غادة عبد الجبار

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست