February 22, 2015

خبر وتعليق الحل الحقيقي لمشاكل طاجيكستان هو تبني نظام الإسلام (مترجم)


الخبر:


ذكرت وكالة أنباء "أفيستا" الطاجيكية في 9 شباط/فبراير: "يتوقع البنك الأوروبي لإعادة الإعمار والتنمية "EBRD" انخفاضا في نمو الناتج المحلي الإجمالي في عام 2015 في طاجيكستان إلى 4.4٪، ولوحظ ذلك في التقرير المقدم EBRD "آفاق الاقتصاد الإقليمي. التراجع في روسيا، نتيجة لانخفاض أسعار النفط يميل إلى إضعاف الاقتصادات في البلدان في نطاق مناطق عمل البنك". ووفقا لرأي مؤلف التقرير، فإن التراجع في الناتج المحلي الإجمالي في طاجيكستان يؤثر على الانكماش الاقتصادي في روسيا. وبحسب التقرير، فقد بلغ حجم التحويلات المالية من روسيا إلى طاجيكستان في عام 2014 ثلاثة مليارات دولار".


التعليق:


في أوائل القرن العشرين جاء الشيوعيون إلى السلطة في أراضي آسيا الوسطى. فكرة المادية التي تتمثل في المبدأ الشيوعي قد أدخلت نظاما جديدا لحياة الإنسان والمجتمع والدولة. وكان تنفيذ هذا المبدأ في طاجيكستان وغيرها من بلدان آسيا الوسطى بداية التقدم العلمي والاقتصادي والتنمية. فبدؤوا ببناء المدن الجديدة والطرق والمدارس والمستشفيات وغيرها. وزودت الدولة المستشفيات الموجودة والمدارس الأخرى بخدمات كان يتمتع الناس بها مجانا. ووجدت في الدولة التدفئة والكهرباء والفرص المختلفة لتلبية الاحتياجات الحيوية اللازمة للناس بشكل مستمر. ووفرت الدولة للمواطنين العمل ووسائل معيشتهم الخاصة.


وفي نهاية القرن العشرين، انهار الاتحاد السوفياتي وحل مكان النظام الشيوعي سلطة جديدة، فظن المسلمون في طاجيكستان أن حالهم في ظل هذه السلطة ستتحسن اقتصاديا وعلميا وصحيا أضعاف ما كانت عليه في عهد الحقبة الشيوعية. هذا من ناحية، ومن ناحية أخرى سترفع عنهم الكبت والقمع والقهر الديني الذي مارسه عليهم الشيوعيون الملاحدة، لكن خاب ظنهم للأسف؛ فها هو إمام علي رحمون ومنذ أكثر من 20 عاما يتولى السلطة في البلاد هو وزبانيته، وطوال هذا الوقت، أوضاع الناس تتفاقم عاماً بعد عام، واقتصاد البلد يعتمد على رفاهية اقتصاد البلدان الأخرى. لقد بدأ في المدن تدريجيا قطع الكهرباء، والتدفئة، وتوقفت خدمات المرافق. وكانت البنية التحتية للبلاد لا تفيد أحداً، وأما بناء الطرق والاتصالات الجديدة فهي فقط حيث هناك حاجة لمن هم في السلطة. وقد فرض على الناس أن يدفعوا مقابل الخدمات في المستشفيات والمدارس، ومن لا يملك المال فلن يستطيع أن يحصل على التطبيب أو التعليم. ليس هناك إمكانية للعثور على وظيفة لأن الحكومة لا توفر العمل لشعبها، ولهذا، يضطر الناس من أجل توفير الغذاء، يضطرون للحصول على أموال في بلدان أخرى، مثل روسيا. ووفقا لدائرة الهجرة الاتحادية الروسية فإنه يوجد في روسيا أكثر من 1.1 مليون عامل مهاجر من طاجيكستان.


واليوم يحكم العالم النظام الرأسمالي الذي فرض على جميع البلدان، وسياسات الاستعمار تفرض على الدول والشعوب. وعلى أساس فكرته الاقتصادية الرأسمالية بأن الفرد لديه حاجات غير محدودة، وأن عليه أن يلبي حاجاته باستمرار. وأما الموارد لتلبية الاحتياجات البشرية فهي محدودة، وبالتالي فإنه من الضروري زيادة إنتاج السلع والخدمات. هذا ما تقدمه الدول الغربية كحل للمشاكل الاقتصادية، وهكذا، فإذا كان البلد ينتج المزيد من السلع والخدمات، فإن ذلك يرفع اقتصاد البلاد ويحسن رفاهية الناس بحسب قولهم. ولكن الحكومات في البلدان الغربية لا تنظر في مسألة توزيع الثروة بين الناس، تاركة جزءا كبيرا من الثروة في أيدي عدد محدود من الأفراد.


طاجيكستان بلد غني بالموارد الطبيعية والطاقة المائية ولديه إمكانيات كبيرة. والزيادة في القطاعات الصناعية لم تؤد أبداً إلى زيادة رفاهية الشعب والبلاد. افتتاح الشركات الجديدة للكهرباء والطاقة والغذاء وغيرها من الصناعات، كذلك لم يساعد على تلبية الحد الأدنى من احتياجات جميع المواطنين. زيادة محطة توليد الطاقة الكهرومائية وإنتاج الكهرباء أدى إلى أن يحصل الناس على الطاقة الكهربائية لمدة 10 ساعات يوميا فقط. وفي نهاية المطاف لا يهم ارتفاع الناتج المحلي الإجمالي للبلاد أو انخفاضه، لأن الربح الرئيسي الذي تم الحصول عليه من الإنتاج يستقر في جيوب المستعمرين، وجزء صغير فقط من الأرباح يذهب إلى الناس الذين لا يستطيعون تغطية حتى الاحتياجات الحيوية الأساسية للسكان.


إن الحل الحقيقي لمشاكل لطاجيكستان هو تبني الإسلام كنظام لحياة الإنسان والمجتمع والدولة. فالإسلام ينظر للمشاكل على أنها مشكلة إنسانية، وليست مشكلة اقتصادية أو سياسية أو اجتماعية. وفي الحقيقة فإن كل ثروات الأرض هي لله سبحانه وتعالى. وهو الذي استخلف الناس في هذه الثروة. وأخبرهم أنه هو الذي يأذن للفرد أن يمتلك من هذه الثروة. والمطلوب من الفرد هو استخراجها وإنفاقها واستغلالها بحسب أوامر الله ونواهيه. أحد واجبات الدولة الإسلامية هو التوزيع الصحيح للثروة بين الناس. قال الله سبحانه وتعالى في كتابه الكريم: ﴿... كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
إلدر خمزين
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست