الخبر: لقد تم اتهام جنود فرنسيين يعملون مع قوات حفظ السلام التابعة للأمم المتحدة في جمهورية إفريقيا الوسطى باغتصاب واستغلال الأطفال الفقراء مقابل الطعام. وبحسب تقرير داخلي اطلعت عليه الجارديان تحت عنوان (الاستغلال الجنسي ضد الأطفال من قِبل القوات الدولية)، فإن أطفالاً أخبروا محققين يعملون لحساب منظمات حقوق الإنسان، أنه تم استغلالهم جنسيًا بما يشمل الاغتصاب واللواط في العاصمة بانجي في مطلع العام 2014. وصف طفل يبلغ التاسعة من عمره كيف أجبره جنود فرنسيون في معسكر لإيواء المشردين على القيام بأعمال جنسية، هو وأصحابه، عندما توجهوا للمعسكر باحثين عن طعام. سُرّب هذا التقرير المزعوم من قِبل جماعة مساعدات العالم الحر في الوقت الذي ينوي فيه مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة الموافقة على إبقاء القوات الدولية في جمهورية إفريقيا الوسطى لسنة أخرى. في شهر آذار/مارس تمت الموافقة على إجراءات لتوفير 1000 عنصر جديد إضافة لـ12000 من قوات حفظ السلام الموجودين حاليا، والتي أوكل إليها مهمة حماية الضعفاء منذ تشكيلها في نهاية 2013 عندما اشتد العنف بين النصارى والمسلمين. بالإضافة إلى التعقيدات المتوقعة لهذا التقرير في هذا البلد، فإنه يهدد أيضًا بالتسبب بأزمة دبلوماسية في أوروبا بعدما تم طرد موظف كبير في الأمم المتحدة لتسريبه هذا الخبر للسلطات الفرنسية. لقد تم إخبار آندرس كومبس موظف سويدي في الأمم المتحدة "أنه كان واجبه معرفة وإطاعة قوانين الأمم المتحدة التي تعني أن التقرير كان يجب أن يبقى سريًا، كما أوردت الجارديان". يتم حاليا تحقيق على مستوى عالٍ من الفرنسيين لهذه الادعاءات في جمهورية إفريقيا الوسطى، وفي الوقت نفسه فإن ناطقاً رسمياً في مكتب الأمم المتحدة لمفوضية حقوق الإنسان أكد للجارديان أن تحقيقًا يجري حاليا في موضوع تسريب معلومات سرية من قِبل أعضاء للهيئة. التعليق: إن مفهوم قوات حفظ السلام التابعة للأمم المتحدة هو مفهوم معكوس. إنه مشابه للقول "ملاك سيئ"، أو "إسلام ديمقراطي". لطالما كانت الأمم المتحدة أداة بيد الغرب للتدخل في شؤون العالم منذ نشأتها، فتحت ذريعة تقنين قوانين الحروب واستبدال الظلم بالأمن فقد تدخلت تقريبًا في كل دولة على وجه الأرض، وأقامت وجودًا لأعضائها فيها وبالتالي تأسيس بؤر للعلمانية والرأسمالية والديمقراطية، وفي الوقت نفسه القيام بهجوم كبير على أي محاولة لإقامة الإسلام السياسي العقائدي. إن حوادث مثل هذه الحادثة في إفريقيا الوسطى ليست بالأمر الجديد على الإطلاق. في الواقع فإن الممارسات الجنسية السيئة من قِبل موظفي الأمم المتحدة أثبتت بأنه مرض مزمن، وأنه مشكلة مقبولة في كل بعثة أممية حول العالم. لقد وثقت تحقيقات داخلية تابعة لوكالات داعمة للاجئين حالات اغتصاب واعتداء جنسي على الأطفال والدعارة من قوات الأمم المتحدة في أكثر من 30 دولة بما فيها بوروندي، ليبيريا، والكونجو، وأفغانستان، وكوسوفو، والبوسنة، وكمبوديا. إن هذا التصرف هو أمر مقبول وعادي بالنسبة للمنحطين خُلُقيا، ومؤيد من القيم الوضيعة للعلمانية التحررية التي تعطي المجال أمام إشباع رغبات المرء بحسب هواه وشهواته بغض النظر عن النتائج. يجب أيضا ملاحظة موضوع فصل الموظف السويدي لتسريبه معلومات سرية. إن الأمم المتحدة تحبذ إهدار الوقت الثمين والمصادر الضخمة في إقامة تحقيقات بخصوص آندرس كومبس، في الوقت الذي يجب أن تعمل فيه على إنهاء وبشكل جذري مثل هذه الجرائم ضد المدنيين الأبرياء الذين يعانون أصلاً من الظلم والفقر وانعدام العناية الصحية وغيرها من مشاكل صعوبة العيش. إن الأمم المتحدة واضحة بموقفها الطبيعي الذي تستمتع فيه بالخطيئة وبشكل مدمر، وفي الوقت نفسه تسعى إلى عدم رؤية شرورها، وتستمر في ضبط شؤون العالم بحسب جدول أعمالها الفاسد والجشع. إن هذا دليل آخر، وكأننا بحاجة إلى دليل إضافي، على عدم قدرة الدول الغربية على إيجاد أي شكل من أشكال الأمن والتماسك في بلادنا. إنهم يفتقدون الإرادة الفكرية لتحسين واقع البلدان التي يحتلونها، فضلاً عن تحقيق العدالة والسعي لخدمة مصالحهم الخاصة في إقامة وجود عسكري والمحافظة على عقود استخراج النفط والغاز والمعادن تحت ذريعة استرجاع تكاليف مساعداتهم. أيها المسلمون، لا يوجد أي أمل أو مستقبل بدون الخلافة الإسلامية على منهاج النبوة إنه النظام الوحيد العادل الموحى به من عند الله سبحانه وتعالى. في ظل الخلافة فإن الأمة لم تُنهب من قِبل حكامها ولم يُترك الناس فقراء، إن دولة الإسلام توزع الثروات على الجميع بشكل عادل باعتبارهم شركاء ومتساوين في الثروة الطبيعية. في ظل الدولة الإسلامية لم يخشَ الناس الظلم من المسلمين في الوقت الذي تمددت الدولة في كل العالم، على العكس فإنهم تقبلوا طواعية العقيدة الروحية والسياسية للإسلام كطريقة راقية للحياة. ﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرينَ عَلَى المُؤمِنِينَ سَبِيلاً﴾ [النساء: 141] كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرمليحة حسن
خبر وتعليق الجنود الفرنسيون ليسوا قوات حفظ للسلام وإنما هم منحرفون جنسيا ونتاج دول خاطئة (مترجم)
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست