خبر وتعليق   الخلافة هى نظام الحكم الإسلامي وإقامتها فرض يا علماء السلاطين
خبر وتعليق   الخلافة هى نظام الحكم الإسلامي وإقامتها فرض يا علماء السلاطين

الخبر: ذكرت شبكة رصد على موقعها الإلكتروني في 2014/10/19م، زعم الشيخ علي جمعة مفتي الجمهورية الأسبق، أن الرسول عليه الصلاة والسلام، لم يأمر بتأسيس الخلافة الإسلامية مرة أخرى إذا سقطت، وإنما أمر المسلم بالجلوس في بيته واعتزال كافة الجماعات وعدم السعي لتأسيس الخلافة مرة أخرى.وما قاله أيضا خلال برنامجه والله أعلم على قناة cbc: "الخلافة إلي 57 دولة إلي عايزين يجمعوها في دولة واحدة ودي موجودة من ساعة النبي لغاية العثمانية ودلوقتي مفيش خلافة والرسول قال لو مفيش خلافة "فالزم بيتك فاعتزل تلك الفرق كلها وكن حلسا من أحلاس بيتك حتى يأتيك الموت، مقالهومش ينشئوا الخلافة تاني زي ما داعش بتقول بل أمر باعتزال كافة الفرق".   التعليق: قد يهاجم العلمانيون الخلافة ويتطاولون عليها، ويصفونها بالرجعية والتخلف، وقد يدفعهم جهلهم وحقدهم للقول بأن ليس في الإسلام نظام حكم معين، ولكن الغريب العجيب أن يخرج علينا من يتصدون للفتيا بهذا الزعم الخطير، متهمين الإسلام بالنقص والعجز عن إيجاد حلول لمشكلات الناس كبيرها قبل صغيرها. من المعلوم أن الله عز وجل ما ترك لنا شيئا من أمور حياتنا إلا وبينه وفصله، ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ﴾ فلم ينزل حكما واحدا إلا وبين النبي صلى الله عليه وسلم طريقة تنفيذه والقيام به، فلما نزل أمر الصلاة قال «صلوا كما رأيتموني أصلي»، ولما نزل أمر الحج قال «خذوا عني مناسككم». ومعلوم أن الأصل في أفعال العباد التقيد بأحكام الشرع، وسياسة الناس لا تخرج عن كونها فعلاً من أفعال العباد، فهل يستقيم أن يتركها الله عز وجل بلا حكم يبين تفصيلاتها وكيفية القيام بها؟! وإذا كان الله عز وجل قد خاطب نبيه قائلا ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ﴾، وخطاب النبي هو خطاب لأمته ما لم يرد دليل تخصيص فكيف حكم النبي بالإسلام؟! وكيف يكون الحكم بالإسلام من بعده؟! إن ما ثبت عن رسول الله أنه حكم بالإسلام من خلال دولة واحدة أقامها وأرسى قواعدها، على أن تكون السيادة فيها للشرع، ويكون السلطان للأمة، فهي من تنيب عنها من يحكمها بالإسلام، على أن يكون حاكما واحدا سماه النبي خليفة وجعل رئاسته عامة لجميع المسلمين، وجعل له وحده الحق فى تبني الأحكام الشرعية وسنها دستورا وقوانين، وكل النصوص الشرعية الثابتة تحرم تفرق المسلمين في أكثر من دولة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ، أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ، فَاقْتُلُوهُ» [صحيح مسلم]. فمن أين أتيت يا فضيلة المفتي الأسبق، بقولك أن النبي لم يأمر بإعادة الخلافة بعد إسقاطها، وكيف ستحكم الأمة بالإسلام بغير الخلافة؟! أم أنك تقول أيضا إذا تعطل الحكم بالإسلام فلا داعي للعمل على تحكيمه مرة أخرى؟! ألا ترى أن هذه تؤدي إلى تلك، حتى فهمك لحديث رسول الله الذي يقول باعتزال الفرق فهم قاصر، لأن اعتزال الفرق يكون إذا لم تتمايز الصفوف ولم يعرف الحق من الباطل، فهل يا شيخ جمعة اختلط عليك الحق بالباطل؟! أم اخترت لنفسك أن تكون في صف الباطل، تدعمه وتؤيده وتكون معه؟!، فضلا عن أن الاعتزال يصطدم مع نص قطعي يأمر بتكوين جماعة تدعو إلى الاسلام وتأمر بالمعروف وتنهى عن المنكر ﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾. أما وجوب الخلافة يا فضيلة المفتي الأسبق، ففضلا عن كونها هي النظام الذى أخبر عنه النبي فى قوله «كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء كلما هلك نبي خلفه نبي وإنه لا نبي بعدي وستكون خلفاء فتكثر»، قالوا: فما تأمرنا؟ قال: «فوا ببيعة الأول فالأول وأعطوهم حقهم فإن الله سائلهم عما استرعاهم»، فإنها فرض من باب ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب، والبيعة واجبة على كل مسلم ولا تكون إلا لخليفة، فهل إذا سقط الفرض (الدولة)، سقط فرض العمل لاستعادته مرة أخرى؟! كان الأولى بك والأوجب عليك وأمثالك يا فضيلة المفتي الأسبق أن تتسابق وإياهم إلى حمل الدعوة لإقامة الخلافة التي تعرفها وتعرف حملتها، والتي تعي تماما أنها ليست خلافة على منهاج تنظيم الدولة، وإنما خلافة على منهاج النبوة، والتي تقام فقط بالصراع الفكري والكفاح السياسي دون أي عمل مادي، تأسيا برسول الله صلى الله عليه وسلم في طريقته لإقامة الدولة، لا أن تتخذ من أفعال التنظيم مطية لتشويهها في أعين الناس، ورغم خلافنا مع تنظيم الدولة وغيره من التنظيمات التي تتبنى العمل المادي كطريقة لإقامة الدولة، إلا أننا وعموم الأمة لن نرضى بديلا عن خلافة على منهاج النبوة. وإننا ندعو الأمة عامة وأهل الكنانة خاصة، منادين على كل أفرادها حكاما ومحكومين، إلى العمل لاستئناف الحياة الإسلامية من خلال خلافة على منهاج النبوة، ونذكرهم ناصحين لهم بأن حال المسلم لا يجوز أن يخرج عن واحدة من ثلاث، إما حاكما يحكم بالإسلام أو محكوما يحكم به أو عاملا لكي يُحكم أو يَحكم به، ونحذرهم غضب الله وعذابه وعقابه فى الدنيا والآخرة، حيث لا تبرأ ذمة مسلم إلا بإقامة الخلافة أو التلبس بالعمل لها، فلا تسمعوا قول المرجفين فإنهم لن يغنوا عنكم من الله شيئا، إنهم إنما يبيعون دينهم بدنيا الحكام، ولئن أطعتموهم اليوم فسيبرأون منكم أمام الله يوم تحشرون إليه جميعاً، فبادروا إلى طاعة الله ورسوله والعمل مع المخلصين العاملين لإقامة الخلافة، الذين يقومون منكم مقام الرائد الذي لا يكذب أهله، فالتفوا حولهم وكونوا لهم أنصارا كأهل المدينة المنورة تكن مصركم مصر المنورة.     ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرسعيد فضلعضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

0:00 0:00
Speed:
October 27, 2014

خبر وتعليق الخلافة هى نظام الحكم الإسلامي وإقامتها فرض يا علماء السلاطين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست