خبر وتعليق    المبعوث الأممي الثاني إلى اليمن كالأول يعمل لصالح الحوثيين
خبر وتعليق    المبعوث الأممي الثاني إلى اليمن كالأول يعمل لصالح الحوثيين

الخبر: تناقلت وسائل الإعلام خارج اليمن وصحيفة اليمن اليوم اليومية الوحيدة الصادرة حالياً في اليمن - بعد اختفاء مثيلاتها جراء انقطاع الكهرباء لأيام وشح المشتقات النفطية - يوم الخميس 22 أيار/مايو الجاري في عددها 1044 خبراً بعنوان "28 مايو الجاري موعداً لإجراء مؤتمر جنيف" جاء فيه "أعلن الأمين العام للأمم المتحدة بان كي مون رسميا عن عقد اجتماع في جنيف في 28 مايو الجاري، برئاسته، لإجراء مشاورات بين مختلف الأطراف المعنية بالأزمة اليمنية. وقال المبعوث الخاص لليمن إسماعيل ولد شيخ خلال مؤتمر صحفي عقده أمس مع نائب الأمين العام للجامعة العربية أحمد بن حلي: "لقد دعونا كل الأطراف اليمنية لهذا الاجتماع، ولدينا إشارات إيجابية منها بالحضور، الفترة الراهنة تتطلب إجراء مشاورات لعقد هذا المؤتمر نظرا لقصر الفترة الزمنية التي تفصلنا عنه، فلا يوجد لدينا رفاهية الوقت نظرا لصعوبة الأوضاع في اليمن". وقال إسماعيل ولد الشيخ، مبعوث الأمين العام للأمم المتحدة إلى اليمن، إنه التقى جماعة أنصار الله (الحوثيين)، ولديه ضمانات بأنهم سيحضرون اجتماعات جنيف لحل الأزمة اليمنية (لم يحدد موعده بعد). وأضاف: "قمت بزيارة صنعاء والتقيت بممثلين عن الحوثيين وحتى الآن لدي ضمانات على مشاركتهم في الحوار". وأكد ولد شيخ أحمد أنه كلما تم الإسراع بالتوصل لحلول للأزمة اليمنية كلما كان ذلك أفضل، نظرا للمعاناة الكبيرة التي يواجهها الشعب اليمني، مشيرا إلى مشاركته وبن حلي في أعمال مؤتمر الرياض الأخير لإنقاذ اليمن، معتبرا أن هذا المؤتمر شكل خطوة مهمة لترسيخ شرعية المؤسسات اليمنية المنتخبة".   التعليق: إن الإعلان عن مؤتمر جنيف للمفاوضات بين الأطراف السياسية في اليمن يوم 2015/05/20م هو أول نقطة يسجلها المبعوث الأممي الثاني إلى اليمن إسماعيل ولد الشيخ لصالح الحوثيين، وصفعة لمؤتمر الرياض الذي انتهت أعماله في اليوم نفسه الذي أعلن فيه عن مؤتمر جنيف. فقد كان إسماعيل ولد الشيخ في محاولته الوصول إلى صنعاء يوم 2015/04/28م "لولا تدمير طائرات التحالف مدرج مطار صنعاء لمنع وصوله" يريد نسف مؤتمر الرياض الذي أعلن يوم 2015/05/17م موعداً لعقده باستباقه بعقد مؤتمر جنيف في 2015/05/13م. ومن ناحية ثانية مع أن إسماعيل ولد الشيخ قال "لقد دعونا كل الأطراف اليمنية لهذا الاجتماع" إلا أن رياض يس المكلف بأعمال وزير الخارجية قال "لم نبلغ عن مؤتمر جنيف حول اليمن وقد لا نشارك فيه". يأتي مؤتمر جنيف هذا لقلب نظرة الرأي العام عن الحوثيين كمعتدى عليهم يتعرضون يومياً لغارات طائرات التحالف بعد اعتداءاتهم التي انطلقت من صعدة وجاوزت عمران وصنعاء لتصل إلى عدن وأبين وشبوة لمحاربة القاعدة والتكفيريين وتنظيم الدولة!! واتخاذ الآية ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ شعاراً لاعتداءاتهم، هذه الآية التي نزلت على الرسول عليه الصلاة والسلام وهو في طريق هجرته لإقامة دولة الإسلام الأولى في المدينة المنورة تأذن له وللمسلمين بالقتال بعد أن كانوا ممنوعين منه في مكة المكرمة، لا الاستمرار فيه. وفي أول رد فعل على إعلان الأمم المتحدة عن عقد مؤتمر جنيف في 2015/05/28م طالب عبد الملك الحوثي في خطاب متلفز له في اليوم نفسه بـ "وقف العدوان " لحضور جماعته المؤتمر. كما يجعل مؤتمر جنيف الحوثيين غير معنيين ببنود مؤتمر الرياض السبعة الذي طالبهم فيها باستعادة مؤسسات الدولة منهم واستعادة الأسلحة التي استولوا عليها وإخراج ميليشياتهم من كل المدن حيث قال عبد الملك الحوثي أن مؤتمر الرياض "لا يخص سوى العدو وعملائه"، مما يعني أنه سوف يذهب إلى مؤتمر جنيف للمفاوضات لاكتساب شرعية حكم اليمن وقواته تسفك الدماء وتخوض حرباً في مأرب وتعز وعدن وشبوة وأبين والجوف. الجدير بالذكر أن المبعوث الأممي إسماعيل ولد الشيخ التقى في زيارته لصنعاء في 2015/05/14م مع طرف واحد وهم "الحوثيون واللجنة العامة لحزب صالح" فقط ثم خرج يقول للناس بأنه تم الاتفاق على نقل المفاوضات إلى جنيف، وأن الحوثي وصالح رفضا حضور مؤتمر الرياض وهما المرحبان بمؤتمر جنيف، لأن صالح وحزبه يشاكسون الحوثي بعدم إخلاء الساحة له ليحكم اليمن وحده. مؤتمرا الرياض وجنيف للمفاوضات بين الحوثيين وصالح الملتصق بهم من جهة وبقية الأطراف السياسية في اليمن من جهة ثانية يدل على أن هناك مسارين للسياسة في اليمن، الأول يرسمه الإنجليز أصحاب النفوذ السياسي في اليمن طوال الفترة الماضية، الذين عملوا بفريقين هما هادي وحكومته وصالح وحزب المؤتمر الشعبي تدعمهم أنظمة الخليج وهم الداعون لمؤتمر الرياض، ولا يستطيع عملاء أمريكا "سلمان بن عبد العزيز وابنه محمد وابن أخيه محمد بن نايف" مخالفتهم علناً في هذا الأمر. والمسار الثاني يرسمه الأمريكان العاملون على إخراج نفوذ الإنجليز السياسي من اليمن وإحلال نفوذهم محله عن طريق إيصال الحوثيين للحكم عن طريق الحروب الست الماضية ثم بالمبعوث الأممي الأول جمال بن عمر الذي وصل اليمن في شهر نيسان/أبريل 2011م لتنفيذ "المبادرة الخليجية" فأبدلها بتمكين الحوثي من الحكم بدءاً بلقائين مع عبد الملك الحوثي في صعدة وإدخال جماعته مؤتمر الحوار في 2013/03/18م وإفساح الطريق لهم للوصول إلى صنعاء في 2014/09/21م وإبرامه لهم اتفاق السلم والشراكة، بعد تحييد الجيش والأمن من اعتراضهم بتخويفهم من الحرب الأهلية، وها هي اليوم تأتي بالمبعوث الأممي الثاني لاستكمال مخططها من حيث انتهى جمال بن عمر، وهي الداعية لمؤتمر جنيف. يعد الإعلان عن مؤتمر جنيف في 2015/05/28م أول نقطة يسجلها المبعوث الأممي الثاني إلى اليمن إسماعيل ولد الشيخ لصالح الحوثيين، لننتظر كيف وكم من النقاط سيحاول تسجيلها لصالحهم! وهل سيقف الناس في اليمن "أحزاباً وجماعات وأفراداً" ينظرون لأمريكا وهي تحل محل بريطانيا في اليمن ليخضعوا لنفوذها وهيمنتها على ثرواتهم بعد أن كانوا كذلك للإنجليز عقودا، أم أنه سيكون لهم رأي وفعل آخر بعد أن انكشفت لهم مخططات دول الغرب الاستعمارية في الصراع على اليمن والتناوب عليه ويفشلونها لتكون العزة للإسلام وحده واستئناف الحياة الإسلامية بإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة في جميع مناحي الحياة؟ جاء في مسند أحمد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «تكون النبوة فيكم ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها الله إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون خلافة على منهاج النبوة فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها الله إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون ملكًا عاضًا فيكون ما شاء الله أن يكون، ثم يرفعها إذا شاء الله أن يرفعها، ثم تكون ملكًا جبرية فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها الله إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون خلافة على منهاج النبوة، ثم سكت».     كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرالمهندس: شفيق خميس

0:00 0:00
Speed:
May 24, 2015

خبر وتعليق المبعوث الأممي الثاني إلى اليمن كالأول يعمل لصالح الحوثيين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست