January 06, 2015

خبر وتعليق المحكمة العليا في تتارستان تطلق أول أحكامها في قضية مسلمي تشيستوبل (مترجم)


الخبر:


نشر موقع إنترفاكس في 2014/12/30م خبراً مفاده أن "المحكمة العليا في تتارستان قررت بأن ديمتري كودرياتسيف من سكان مدينة تشيستوبل مذنب في قضية المشاركة في منظمة إرهابية وتحضير عبوات ناسفة...". كما وذكرت الأخبار قبل ذلك عن "اثنين من المسلمين المتهمين في المشاركة فيما بات يعرف بـ "جماعة تشيستوبل" وهما دانييل مخليصوف حيث اعتبرته المحكمة مذنباً في المشاركة في أعمال إرهابية وحكمت عليه بالحبس لخمس سنوات مع الأشغال الشاقة. وفي 26/12 حُكم على راييس شايدولين بالحبس لأحد عشر عاماً مع الأشغال الشاقة بتهمة المشاركة في أعمال إرهابية".

التعليق:


إن هذه الأحكام جاءت بعد التعذيب، والامتهان والفبركة التي استمرت لأكثر من عام. فبعد اعتقال مسلمي مدينة تشيستوبل في نوفمبر 2013م، قالت الأجهزة الأمنية بأنه لن يوقفها شيء. وبعد أن وقع المسلمون في أيدي الأجهزة القذرة أدخلوا إلى المشافي بكسور خطيرة وبعضهم صار معاقاً. فكل معتقل كان ينتظره التعذيب، والامتهان، والضغط المادي والمعنوي، ولا مجال لإيقاف هذه الخروقات القانونية، فلا شكاوى المحامين ولا المدافعين عن حقوق الإنسان ولا الأعمال الجماهيرية الهادفة للوقوف إلى جانب المعتقلين، أجدت نفعاً. بل إن الحكومة ووسائل الإعلام إما أنهم كانوا يتجاهلون الحقائق حول المخالفات القانونية، أو أنهم كانوا ينكرون وقوعها، مدافعين بذلك عن المجرمين الذي يتخفون خلف عباءة القانون. وكل من حاول الدفاع عن المسلمين أو حاول بيان الحقائق حول التعذيب الذي تمارسه الأجهزة الأمنية، كان له حظ من التهديد بل وحتى من الدعاوى القضائية، كما حصل مع الكاتبة التترية المشهورة فوزية بايراموف والمغرد إلمير إيمايف.


وبغض النظر عن الأمور غير المعقولة والمحيرة حول حرق الكنيسة وإطلاق الصواريخ على مصنع تكرير البترول، وأنها من البداية جعلت الكثير من الأسئلة تطفو على السطح، فإن وسائل الإعلام بالتعاون مع الأجهزة الأمنية أصروا على النفخ في قربة محاولة لزعزعة الوضع في تتارستان، والذي يحاول القيام به أنصار "الإسلام المتطرف". بعد ذلك بدأ الكلام في تتارستان حول بروز وضع يشابه ما وجد في القفقاس، حتى ظهر في الإنترنت "أمير مجاهدي تتارستان" الذي لا يعرفه أحد.


ثم بعد ذلك، ظهر في الإعلام تسجيل فيديو لمن بات يعرف بـ "أمير مجاهدي تتارستان" المحير، مما جعل الأمر يصبح واضحاً بأن التهديدات الإرهابية والفبركة حول الدعاوى القضائية لا تمت للواقع بصلة. ثم إن هذا الشخص هدد سكان البلد بعدم الاستقرار ولم يهدد الأجهزة الأمنية، على خلاف ما يقوم به المتطرفون، فهو هدد بإطلاق صواريخ ذاتية الصنع على مصنع تكرير البترول. وهو تهديد للمسلمين بأن عليهم الهجرة من أراضي جمهورية تتارستان. إن هذا التسجيل موضع شك من أوله وحتى آخر ما ورد فيه. أما تهديده الوقح للمسلمين بترك أراضيهم فإنه يدل على أن هذه هي رغبة أعداء المسلمين، وليست رغبة المسلمين. يبدو أن هذا التسجيل قد فضح من وراء هذه المسرحية المسماة "جماعة تشيستوبل" مما حدى بهم إلى حذفه بسرعة، ليبقى مجرد خيالات حول إرهابيي تتارستان.


لماذا تم إخراج هذه المسرحية؟ ربما من أجل البدء في حملة اضطهاد للمسلمين في تتارستان على خلفية الأحداث الجارية في الشرق الأوسط وتعزيز سياسة الحرب ضد الإسلام التي تنتهجها موسكو في المنطقة. إحراق الكنائس والتظاهر بأن صواريخ أطلقت على مصنع تكرير البترول، لم يؤثر على نفسية المسلمين لحسن الحظ، ولكنها كانت مبررات من أجل رفع دعاوى قضائية وتشكيل الرأي العام حين البدء في تطبيق خطتهم المضحكة.


وبعد التعذيب والتخويف الذي طال مئات المسلمين، تم رفع دعاوى قضائية ضد 24 منهم، ممن لم يتحملوا التعذيب الوحشي، فاعترفوا بما طلب منهم المجرمون المختبئون خلف عباءة القانون الاعتراف به. فشهد مسلمو تشيستوبل على أنفسهم شهادة زور بأنهم هم من أحرق الكنيسة، وأنهم أعضاء في "الجماعة" المجهولة. والأهداف من وراء هذه الأعمال كما ذكرها النائب العام في الجمهورية حيث قال: "كانت أعمال مادية في الصراع (الجهاد) وذلك عن طريق القيام بأعمال إرهابية على أراضي تتارستان، لإقامة حكم إسلامي متطرف، وإقامة دولة إسلامية في روسيا الاتحادية".


إن موقف الحكومة يدل على أنهم ماضون في سياستهم ضد الإسلام إلى أبعد مدى. كما وأن الشرطة والمخابرات جاهزون "للعثور" على الإرهابيين حتى حيثما لم يوجدوا أبداً، والمحققون جاهزون لفبركة القضايا وتلفيق أي تهمة عند اللزوم، ولديهم من يطيعون الأمر بتعذيب المعتقلين. والمحكمة جاهزة بالمساهمة في هذه الجرائم والحكم على المسلمين الأبرياء بالسجن. أما وسائل الإعلام فهي تقدم خدماتها وتبدي استعدادها في المشاركة بوضع الرأي العام في عكس صورة ما يجري. إن هذه الأعمال كانت تمارس فيما مضى في جمهوريات شمال القفقاس، والآن امتدت إلى باقي المناطق. ولكن يبقى السؤال: بماذا ستأتي هذه السياسة الروسية المجنونة ضد الإسلام؟ روسيا لا تدرك أن نتائجها ستكون التأكيد على النظرة إليها على أنها عدوة للأمة الإسلامية جمعاء وليس فقط لعشرين مليون مسلم يعيشون فيها. والله سبحانه يقرر تلك الحقيقة بقوله: ﴿وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ﴾.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سليمان إبراهيموف

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست