March 13, 2015

خبر وتعليق الملك عبد الله الثاني يضلل المسلمين ويدعوهم إلى محاربة الإسلام باسم الإرهاب!


الخبر:


جفرا نيوز - قال الملك عبد الله الثاني الثلاثاء، إن عالمنا يواجه عدوانًا من إرهابيين يحملون أطماعًا لا تعرف أي رحمة. ليس دافعهم الإيمان، بل شهوة السلطة.
وقال الملك خلال كلمة له أمام البرلمان الأوروبي في مدينة ستراسبورغ أنه "لا يوجد وسيلة لحماية المجتمعات، إلا باليقظة والعمل الجاد، وهذا يتطلب ما هو أكثر من مجرد تدابير أمنية.


وأضاف الملك بخصوص مقتل الطيار الأردني الشهيد معاذ الكساسبة "إن ما ارتكبته عصابة داعش الإرهابية من قتل وحشيّ لطيارنا البطل، قد أغضب جميع الأردنيين والأردنيات، وروَّع العالم، وكان ردّ الأردن على هذه الجريمة سريعًا وجادًا وحازمًا، وسوف تستمر معركتنا".


وقال: "إننا، ومعنا دول عربية وإسلامية، لا ندافع فقط عن شعوبنا، بل عن ديننا الحنيف".

التعليق:


وصف الملك "الإرهابيين" بـ"أنهم يحملون أطماعًا لا تعرف أي رحمة. ليس دافعهم الإيمان، بل شهوة السلطة. السلطة التي يسعون إليها عبر تمزيق البلدان والمجتمعات بإشعال النزاعات الطائفية، والإمعان بإنزال الأذى والمعاناة بالعالم أجمع".


إن هذا التعريف ينطبق على أمريكا وبريطانيا وفرنسا وروسيا ومن يسير في ركابهم ويدور في فلكهم، فهم الذين يحملون أطماعًا لا تعرف الرحمة، ظهر ذلك في ملايين القتلى من الشعب العراقي الذين قتلهم الاحتلال الأمريكي، وفي ربع مليون من القتلى السوريين وتشريد ما يزيد على 10 ملايين الذين قتلهم وشردهم النظام السوري بدعم من روسيا وإيران وأمريكا، وقتلى وسط أفريقيا والصومال وأفغانستان وليبيا واليمن ومصر وغيرها من دول العالم، فمن قتلهم تنظيم الدولة لا يَعدون عشر معشار ما قتلته الأنظمة الإرهابية وعلى رأسهم أمريكا صانعة الإرهاب في العالم.


أما السلطة على العالم الإسلامي فقد سعت لها بريطانيا وفرنسا وروسيا وأمريكا عبر تقسيم العالم الإسلامي وتمزيقه إلى 58 دويلة، بإشعال الفتن الطائفية، بين النصارى والمسلمين في لبنان، وبين الأكراد والعرب في العراق، وبين الأكراد وتركيا، وبين العرب والبربر في الجزائر، وبين شمال اليمن وجنوبه، وشمال السودان وجنوبه، وأخيرًا بين السنة والشيعة في العراق وسوريا، وبين السنة والحوثيين في اليمن، وبين عملاء أمريكا وعملاء أوروبا في ليبيا...


فمن هو الإرهابي حقًا؟ المجرم الذي أجرم في حق الملايين، أم الضحية الذي ذبحته دول الإرهاب في سجون غوانتامو وأبو غريب وصيدنايا فقام يتحرك حركة المذبوح يلطش هنا وهناك بلا وعي ولا تفكير!


وأضاف الملك قائلًا: "إن ما ارتكبته عصابة داعش الإرهابية من قتل وحشيٍّ لطيارنا البطل قد أغضب جميع الأردنيين والأردنيات، وروَّع العالم. وكان ردّ الأردن على هذه الجريمة سريعًا وجادًا وحازمًا، وسوف تستمر معركتنا، لأننا، ومعنا دول عربية وإسلامية، لا ندافع فقط عن شعوبنا، بل عن ديننا الحنيف. فهذه معركة على الدول الإسلامية تصدرها أولا، فهي - قبل كل شيء - حرب الإسلام".


حقيقة أن من قتل الطيار هو النظام الأردني نفسه الذي أرسله ليقاتل المسلمين في الشام ويلقي عليهم حممًا من الجحيم، والآن يسعى الملك لتوريط الجيش في الحرب البرية بدعوى أنه يجاهد في سبيل الدفاع عن الدين الحنيف!! وليس هذا فقط بل دعا الدول العربية والدول القائمة في البلاد الإسلامية لتدخل هذه الحرب.


لم يعد الغرب الكافر قادرًا على خوض معارك بأبنائه، فقد عرفوا بأس المسلمين وقوة روح العقيدة لديهم في أفغانستان والعراق، وهم يريدون حسمًا للمعركة ولا يمكن حسمها إلا بالحرب البرية، لذا على دول المنطقة أن تقوم بهذه المهمة، وحتى يوجد الدافع للقتال عند الجيوش لا بد من إيهامهم أن الحرب للدفاع عن الإسلام... فهل يعقل هذا؟ هل يقتنع الجيش الأردني والجيش التركي والجيش السعودي مثلًا بأن قتاله للمسلمين في الشام والعراق هو جهاد في سبيل الإسلام!


لذا رأى الملك عبد الله الثاني أنه "لا بد من حرب فكرية في اتجاهات ثلاث، الأول على أوروبا أن تقضي على ظاهرة الخوف من الإسلام لأن الإسلام دين التسامح والسلام والتعايش واحترام الآخرين، كما دين النصارى.


والثاني معالجة تآكل الثقة في القانون والمجتمع الدولي لأنه لم يستطع إرجاع الحقوق للشعب الفلسطيني ولم يمنع يهود من بناء المستوطنات وإيجاد السلام بين الفلسطينيين والإسرائيليين.


والثالث هو تمكين الناس بإيجاد الفرص الاقتصادية والاجتماعية وجعل عام 2015 عام التنمية"، ولم ينس الملك في نهاية الخطاب التسوّل لمساعدة الأردن فهي ثالث دولة في استضافة اللاجئين.


نسي الملك أن الإسلام دين التسامح والرحمة مع المسلمين ودين القوة مع الكفار عامة والمغتصبين والمحتلين لأرض المسلمين خاصة، قال تعالى: ﴿محمد رسول الله والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم﴾.


أما الثقة في المجتمع والقانون الدولي فلا ثقة للمسلم بهما لأنهما أدوات الكافر المستعمر في بسط نفوذه على الشعوب وأكل خيراتهم ونهب ثرواتهم، وأن عقيدة الإسلام لا تؤمن بالصلح والسلام مع اليهود بل يجب اجتثاثهم من الأرض التي احتلوها ودنسوها، ولن يهدأ للمسلمين بال حتى يتم هذا الأمر، ومن يدعو للسلم معهم فليس من أمة الإسلام.


أما التنمية التي تقودها الأمم المتحدة فلم تَجْنِ الشعوب منها سوى الخراب والدمار والبطالة والفقر وغلاء الأسعار وتراجع القوى الشرائية وخصخصة الملكية العامة بحيث أفقدت الدول القدرة على رعاية شؤون شعوبها، وذهبت الملكية العامة لجيوب الساسة ورجال الأعمال فزادوا ثراءً على ثراء وزاد الناس فقرًا على فقر، وأصبحت الشعوب تعمل بالسخرة في مزارع الحكام.


لن ينقذ البشرية من هذا الدمار إلا خلافة راشدة على منهاج النبوة، والملك عبد الله الثاني يدرك هذا الأمر، لذا حرك كل قواته الأمنية والعسكرية لإفشال مشروع الخلافة، ويريد من الجيش الأردني أن يكون الأداة التي تضرب الإسلام والخلافة، فهل يثور الجيش لإسلامه ودينه وعقيدته قبل أن يلقى به في نار جهنم؟


تذكر أيها الجيش الأردني أن على جهنم دعاة من أطاعهم قذفوه فيها فلا تستجب لهم وقف مع أمتك وإسلامك وعقيدتك.


كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أميمة حمدان - ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست