خبر وتعليق   المساعدات الإنسانية في ظل الإنسانية الغربية!   (مترجم)
خبر وتعليق   المساعدات الإنسانية في ظل الإنسانية الغربية!   (مترجم)

الخبر: ذكرت صحيفة الإندبندت يوم الجمعة 29 أيار/مايو 2015، أن بعض السياح البريطانيين اشتكوا من أعداد المهاجرين الذين يتوافدون على جزيرة كوس اليونانية مما جعل عطلاتهم "محرجة". وقد وفد أكثر من 1500 من الرجال والنساء والأطفال الأسبوع الماضي فارين من استمرار الصراع والفقر. لا مأوى لهم يحملون ما تبقى لهم من حياتهم السابقة في أكياس بلاستيكية، فقد غادروا للبحث عن ملجأ أو فندق مهجور أو في الشوارع المطلة على البحر، في الوقت الذي تلقى السلطات صعوبة في التعامل معهم.   التعليق: تم ذكر هذه القصة أيضًا في صحف أخرى ومن خلال وسائل الإعلام (الاجتماعية) من زوايا مختلفة. في حين حملت "الإندبندنت" صور الأطفال والنساء، وأعدت الـ "بي بي سي" تقريرًا عن المهاجرين الفرديين وعن فرارهم من بلدانهم الأصلية لإعطاء هذه القصة صبغة إنسانية. وقالت تقارير أخرى كيف أن المهاجرين مصدر إزعاج للسياح البريطانيين الذين أرادوا أن لا يروا هكذا مشاهد في أيام عطلتهم. وتزامنت ما تسمى أزمة المهاجرين مع عطلة نهاية الفصل الأول من السنة الدراسية للمدارس البريطانية وبالتالي أثر ذلك على البريطانيين بشكل مباشر. إن عقلية "ليس في الفناء الخلفي لبيتي" هي عقلية نموذجية لعقليات العالم الغربي. كان المهجرون في هذا التقرير بشكل خاص من أفغانستان، وآخرون يأتون من مختلف البلاد الإسلامية التي تزعم الحكومات الغربية التدخل فيها بأجندات إنسانية لحماية المسلمين من جميع أنواع الطغيان. بالنسبة لبعض المصطافين الذين تم إجراء مقابلة معهم، كان كل همهم كيف أن تمتعهم بالعطلة قد تم إفساده، ما يدل على عدم وجود الإنسانية. إذا وضع منهجك في الحياة السعادة الفردية باعتبارها الهدف الرئيسي للحياة، فمن الطبيعي أن يعتبر أي شيء قد يفسد السعادة الفردية شيئًا سلبيًا. وقالت إحدى المصطافات "أنها حقًا قذارة وفوضى هنا الآن"، وأضافت "الأمر محرج، أنا لا أريد أن أجلس في مطعم وهناك أشخاص يراقبونني". وقال زوجان بريطانيان آخران في عطلة مع أحفادهم للصحيفة أنهم "لم يحبوا الأمر"، مضيفًا "نحن لن نعود إذا وجد مخيم اللاجئين هذا مرة أخرى في العام المقبل". وأثارت هذه التعليقات موجة غضب على تويتر، حيث قال الناس أنهم وقفوا مدهوشين أمام هؤلاء السياح الأثرياء الذين كان من الممكن أن يُبدوا بعض التعاطف ولو قليلا جدًا مع ناس يخاطرون بحياتهم من أجل الفرار من مناطق الحروب. في حين رؤية نتائج الحروب والنزاعات قد لا يكون لطيفًا فإن المواقف ليست مفاجئة، عندما يتم تغذية الفرد باستمرار بفكرة تفوقه الخاص. في العالم الغربي الناس تعمل، وتعمل، وتعمل على الاستمتاع، والتمتع، والتمتع، يعيشون في فقاعة من الارتياح المادي فمن السهل الهروب من الواقع المحزن لحياة غالبية الناس في العالم. عندما يكون أحد في مواجهة وجهًا لوجه مع أزمة واقع الحياة التي يمرّ بها، لا توجد وسيلة لربطه مع نفسه كما لا توجد وسيلة لربطه مع البشر الذين يعتبرون حياتهم أقل قيمة، وقضاياهم هي مجرد إفساد لمتعتك! في التاريخ الإسلامي نرى أن الحياة البشرية بلغت قيمة عالية وتقديم الملاذ لأولئك الذين كانوا محرومين ومعرضين للاضطهاد. وكانت المساعدات الإنسانية واقعًا كما هو الحال في الواقعة الشهيرة مع اليهود الذين طردوا من أوروبا واحتضنتهم الدولة العثمانية. بايزيد الثاني (1481-1512) أصدر دعوة رسمية لليهود الذين طردوا من إسبانيا والبرتغال. في عام 1492، عندما فرّ أكثر من 15 ألفاً من يهود إسبانيا من محاكم التفتيش، ذهب الكثير منهم إلى الخلافة العثمانية. ويقال أن السلطان قد سخر من الملك الإسباني وحكمته حيث قال: "تقولون أن فرديناندو ملك حكيم؟ هو الذي جعل أرضه فقيرة وأرضنا غنية". ازداد عدد السكان اليهود في القدس من 70 عائلة عام 1488، إلى 1500 في بداية القرن الـ16، كان في إسطنبول 30 ألفاً و44 معبداً. يسمح بايزيد لليهود بالعيش على ضفاف القرن الذهبي. مصر خاصة القاهرة، تلقت عددًا كبيرًا من المنفيين، الذين سرعان ما تم اعتبارهم من اليهود الأصليين. تدريجيًا أصبح رئيس مركز اليهود الشرقيين من مدينة سالونيكا الإسبانية. وهم الذين كانوا يعتبرون يهود إسبان أصبح يفوق عددهم عدد السكان الأصليين. أصبح اليهود رصيدًا لدولة الخلافة اعترفت بإمكاناتهم البشرية ورعايتهم. وفي النهاية يقاد الجماهير من قبل قياداتهم. وقد وضعت الحكومات الغربية من القوانين والسياسات التي تسبب معاناة كبيرة للمهجرين، والكثير من وسائل الإعلام نشرت تقارير سلبية عن المهاجرين والمذهب الفردي الذي يؤثر على الناس في جميع مناحي الحياة. على الرغم من أن بعض الناس عبروا عن صدمتهم وتعاطفهم في هذه الحالات، فهذه الأيام لن تعبر أوروبا عن ترحيبها أبدًا بالمهاجرين بأذرع مفتوحة.       كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرنادية رحمان - باكستان

0:00 0:00
Speed:
June 02, 2015

خبر وتعليق المساعدات الإنسانية في ظل الإنسانية الغربية! (مترجم)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست