September 02, 2014

خبر وتعليق المشهد السياسي انتكاسة أم بارقة أمل


الخبر:


يأتي هذا التعليق الصحفي في سياق حزمة من عناوين أخبار "العربية" خلال اليومين الماضيين تتمحور حول "مواجهة الإرهاب"، منها: "من خادم الحرمين للعالم: خطر الإرهاب سيصلكم" (في 2014/08/30)، وواشنطن ترغب بالتنسيق مع الدول السنية ضد (تنظيم الدولة)، بل ذكرت أيضا أن وزير الخارجية الأميركي دعا إلى تحالف عالمي واسع، وتزامن ذلك كله مع تحركات أوروبية في السياق نفسه.


التعليق:


ليس ثمة شك أنه لا معنى للحرب على الإرهاب في قاموس السياسة العالمية ولا في قانون الأنظمة العربية إلا "الحرب على الإسلام"، وإلا لكانت أولى جولات تلك الحرب المُدّعاة ضد الكيان الإرهابي الأول، الذي ظل قادته يستمتعون بقتل الأطفال في غزة على عين وبصر العالم أجمع، بل في بث حي لا ينقطع.


وبينما لم تكتف الدول العربية بالمشاهدة الصامتة لتلك الجرائم، بل انخرطت في المؤامرة المتجددة ضد قضية فلسطين عبر السعي لتلبية متطلبات اليهود، تتأهب هذه الأنظمة للتجاوب مع الدعوات الأمريكية والأوروبية لهذه "الحرب على الإرهاب"، في حين جبنت حتى عن شتم اليهود القتلة!


وتزداد فظاعة هذا التآمر العالمي والعربي كونه يتحرك في جو عاصف وملبد بالغيوم يسيطر على سماء الأمة الإسلامية:


قد يحمل البعض هذه الأجواء السياسية على حالة إحباط تنتشر مع هبوب ريح غربية تتحكم فيها القوى الاستعمارية لمنع انعتاق الأمة وتحررها، بينما قد يرى البعض عبرها نافذة أمل، بل يرى فيها سحابة ممطرة تجدد الحياة ويتجدد معها بنيان الأمة.


إذ يشهد الواقع ثلاثة مؤشرات تقود البعض للإحباط ومؤشرا يجدد أملا خجولا لا يخلو من إحباط يختلط فيه ومعه. أما دوافع الإحباط فتتمثل في:


1) انتكاسة ملحوظة للثورات بعد سحب البساط مبكرا من تحت أرجل الثورة في اليمن، وبعد الردة الثورية في مصر، وبعد أن دخلت باكورة الثورات في تونس في حالة من إعادة إنتاج نماذج غربية ترسخ الاستعمار بدل أن تخلعه، وبعد أن غرقت ليبيا في صراع دموي جسّد حالة تمازج غريب بين الثوار والمستبدين والعملاء، وبعد أن انحصر المد الثوري الذي كان يهدد بقية المستبدين على وقع تلك "الانتكاسة".


2) حشر الثورة السورية في نفق "الأسد أو حرق البلد" واستمرار شلال الدماء حتى ينضج البديل العميل، وبعد أن تورطت بعض الفصائل العسكرية في إراقة الدماء فيما بينها، بل شغلها ذلك عن التركيز على إسقاط النظام، ومع وجود "ائتلاف وطني" لا يكل ولا يمل من عرض خدماته لتمرير مشروع وضع الثورة في حضن الاستعمار.


3) تقزيم مشروع الخلافة بإعلان خلافة صورية في العراق، كلغوٍ سياسي ترافقت معه الممارسات المنفّرة من الإسلام مع انعدام الكيان السياسي والعسكري اللائق بالخلافة التي وعدت بها الأمة.


وتزامنت تلك الأحداث "المحبطة" مع المشهد المؤثر الذي جدد ثقة الأمة بقدرتها العسكرية في غزة، حيث أبدع رجال المقاومة فيها وهم يزرعون الرعب في قلوب المعتدين، وحق للمجاهدين فيها أن يعتزوا بأنهم مرّغوا أنف نتنياهو المتعجرف بالتراب.


ومع ذلك لم يكتمل مشهد الفرح بتلك النشوة في ظل تخلّي كافة الجيوش عن واجب نصرة غزة، وفي ظل تكالب الأنظمة العربية وعلى رأسها النظام الانقلابي في مصر، مما يعني أن حرب غزة الأخيرة قد جسّدت عمليا حالة الخذلان العربي، وتراجع مع ذلك مستوى الإنكار على ذلك الخذلان. وانفتح الباب على مصراعيه للاعبين بمستقبل القضية تحت عنوان "وقف إطلاق النار"، مما ينذر بالمكائد بعد هذه المبشرات، إن لم يقف المجاهدون وقفة سياسية ضد المؤامرات تليق بوقفتهم العسكرية البطولية ضد العدوان الهمجي.


إذن، إن المشهد السياسي يحمل معالم "الاستيئاس" من قدرة الأمة على التغيير والتحرر، ويحمل بعض مؤشرات الشحن حول ثقة الأمة بقدرتها على ضرب المعتدين، وهي نفسها لا تخلو من منغصات.


ومع كل ذلك، فإن حالة الأمة الشعورية وما يحتل عقولها وقلوبها، لا يصح أن يقف عند حد تشخيص الواقع، بل لا بد أن يستلهم الوعي القرآني بأن النصر يسبقه حالة استيئاس:


"حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ"


وهذا الوعد بالنصر - بعد الاستيئاس - يجب أن يشحن كل مخلص في الحركات والتنظيمات أن يجدد التصاقه بالإسلام - حتى يستحق الوعد - وأن ينسلخ عن المتآمرين من الحكام وأن يسعى لحقن دماء المسلمين لينجو من الوعيد، وأن تكون الخلافة ذات القوة والسلطان الفعلي اللائق بها هي جوهر مشروعه السياسي لأنها "النصر" الذي لا هزيمة معه.


ولقد أكدت أمريكا ودول أوروبا ومعها الأنظمة العربية أنها لا يمكن أن تخوض حربا ترفع الظلم وتوقف قتل الأبرياء، بل هي دائما حروب تسترخص دماء المسلمين وتمرر المؤامرات ضدهم، ولذلك فإن سعي تلك القوى الاستعمارية نحو إشعال هذه الحرب هو تعزيز لمسار الانتكاسات لا تغييراً، وهذا الموقف لا يحتاج للخوض في طبيعة وعلاقات تنظيم الدولة الإسلامية الذي تتخذه هذه الحرب عنوانا، ونحن - أصلا - لم نخض في ذلك من قبل، بل ننظر للأمة من منظور الإسلام الصافي، وللمسلمين من منظور الوحدة العقدية.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
الدكتور ماهر الجعبري
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في فلسطين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست