August 20, 2014

خبر وتعليق النخب السودانية وصناعة الفشل

الخبر:


أوردت صحيفة الأخبار الصادرة في الخرطوم بتاريخ 21 شوال 1435هـ الموافق 17 أغسطس 2014م العدد (1178) نص ما أسمته بخارطة طريق الحوار الوطني، وقد جاء في متن الخبر ما يلي: (فرغت الأحزاب والقوى السياسية المنضوية في آلية الحوار الوطني من إعداد خارطة طريق وقد أعلنت لجنة الحوار الوطني في مؤتمر صحفي اتفاقها حول أهداف وغايات الحوار الوطني التي لخصتها في عدد من النقاط الأساسية على رأسها التأسيس الدستوري والسياسي والمجتمعي في إطار توافقي بين السودانيين لإنشاء دولة راشدة، بجانب التوافق على دستور وتشريعات قانونية تكفل الحرية والعدالة والاتفاق على نظام يكفل تلك الحقوق، فضلاً عن التوافق على تشريعات وإجراءات لقيام انتخابات عاجلة ونزيهة تحت إشراف مفوضية مستقلة سياسياً ومالياً).

التعليق:


لم تسلم أُذن في السودان من سماع ما يسمى بالحوار الوطني، فقد امتلأت وسائط الإعلام بتفاصيله، وما يجب أن يكون عليه، باعتباره هو الملاذ الأخير لمشكلات السودان، كما اتخذته معظم الأحزاب التي نسميها مجازاً سياسية غاية الغايات بالنسبة لها، فقدمته عبر خطابها الرسمي، ولاكته الألسن في المجالس، فلا يمضي يوم أو ليلة إلا ونسمع فيه ضجيجا وعجيجا حول الحوار، فهل فعلاً تتم معالجة المشكلة في البلاد عبر الحوار؟ وهل هذه التنظيمات الكرتونية المصلحية تعبّر عن مشكلات أهل السودان في أدبياتها ومسعاها؟ وما حقيقة ما يجري في دهاليز المؤامرات والمؤتمرات التي تعقد للحوار؟


إزاء هذا الوضع فإننا نذكر بالآتي:


أولاً: إن هذا الحوار الوطني لم يناقش مشكلة من مشكلات السودان التي ترتع وتجوب الطرقات كالفقر والجهل وغياب الأمن وتفكك رابطة الإسلام لدى أهل السودان بعد أن ابتلعتهم النعرات القبلية، وكادت أن تقضي عليهم الجهوية، نعم لم تناقش قضية الانهيار الاقتصادي في كافة المشاريع التي كانت العمود الفقري للبلاد قبل مجيء الإنقاذ، كما لم تناقش مشكلة الفساد الإداري والبنيوي الذي ينخر في أجهزة الدولة، فعن أي حوار تتحدثون؟ وأي علاج تطلبون؟ فقضية المشاركة في السلطة ليست مشكلة بالنسبة لأهل السودان بل هي مشكلة الوسط السياسي الذي ينظر للسلطة باعتبارها مطلباً ومغنماً.


ثانياً: ما هي المرتكزات الفكرية التي بني عليها الحوار، هل هي مستمدة من عقيدة الأمة السياسية؟ أم أنها مستمدة من الأسس الرأسمالية الكالحة؟ والجواب يكمن في خارطة طريق الحوار الوطني، حيث جاء فيها: (التأسيس الدستوري والسياسي المجتمعي في إطار توافقي بين السودانيين لإنشاء دولة راشدة)، فكيف يمكن للسودانيين أن يتوافقوا على دستور - وهو أم القوانين وأبوها - يفضي إلى إنشاء دولة راشدة؟ فأين الرشد في ذلك والحكومة تدعونا إلى الجلوس على طاولة المفاوضات لإيجاد حلول الوسط التوافقية؟! فهل توجد منطقة وسطى بين الخير والشر أو بين الإسلام والكفر؟! إن هذا الأساس الذي يبنى عليه هذا الحوار هو العلمانية بعينها التي لم نجْنِ من تنفيذها علينا طوال العقود الماضية سوى الشقاء والتعاسة والبؤس، وها هي الحكومة اليوم تسعى لخلع جلباب العلمانية المتخفية في ثوب الإسلام، وارتداء جلباب العلمانية الصارخة، فأين قاعدة (الحل الوسط) من الآية الكريمة التي وردت في مقدمة خارطة طريق الحوار الوطني وهي قول الله عز وجل: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾؟! فهل التوافق على حل وسط هو الاعتصام بحبل الله المتين؟ أم هو عينه الاعتصام بحبل الشيطان والسير في ركاب الأمريكان؟!


ثالثاً: إن التحاور مع الجماعات المسلحة التي ترتكب أفظع الجرائم في حق أهل السودان يعتبر خيانة لله ولرسوله وللمؤمنين، فتلك الحركات محل مساءلة وملاحقة من قبل الأمة لطلب القَصاص والعدل، ولقد خسر السودان ثُلثه جراء إقرار مبدأ التفاوض مع من حمل السلاح من أجل المطالبة بأهداف سياسية، فهل يعقل بعد ذلك أن نعاود الكرة مرة أخرى وبالأساليب والمناهج المنحرفة ذاتها؟! يا قوم أليس فيكم رجل رشيد؟!


رابعاً: إن الحوار الجاري الآن يراد له أن ينتج حكومة عريضة يشترك فيها الأفرقاء من سياسيي البلاد حتى تكتمل الخطة الأمريكية بتفتيت ما تبقى من السودان فيتفرّق دم البلاد بين الأحزاب التحاورية العلمانية، التي ارتضت أن يعتليها الغرب لمخططاته وخبثه ومكره الذي يريده للبلاد، فقد جاءت في اتفاقية الدوحة التي دعت الحركات المتمردة لإدراجها ضمن مرتكزات الحوار في الفصل الثاني، البند المتعلق بقسمة السلطة المادة (27): (يقام نظام حكم اتحادي يخول فيه السلطات بشكل فعال وتوزع المسؤوليات توزيعاً واضحاً لكفالة المشاركة العادلة) وهذا هو التآمر على البلاد والعباد بعينه.


هكذا ترسم القوى السياسية خارطة طريق تتواكب مع موجة المخططات الغربية لتمزيق ما تبقى من السودان عبر الحوار المزمع دون وعي ولا إدراك. وهذا ما يفضح حالة الإفلاس الفكري لدى النخبة السياسية في السودان، فهي تمارس الفشل بأسوأ درجاته وتكرر نفس السيناريوهات التي حدثت في السابق لتصنع مزيداً من الفشل.


إن مشكلة أهل السودان تكمن في غياب الفكرة السياسية المنتجة التي تعبر عن عقيدة الأمة الإسلامية وتراثها الفقهي، ولا يكون الحل إلا بهذه العقيدة السياسية الولود، ففيها من الكفاية ما يخرج الناس من ظلم الأديان إلى عدل الإسلام العظيم.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
عصام الدين أحمد أتيم
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست