September 18, 2014

خبر وتعليق النظام في مصر الكنانة بين فزاعة التقسيم وحقيقته والصراع عليه


الخبر:


الصحف، وكالة أنباء الشرق الأوسط، ووكالات الأنباء والصحف والفضائيات:


- جون كيري واجتماع جدة لتكوين تحالف دولي وإقليمي لحرب داعش وحتمية وجود مصر فيه، ويلتقي عبد الفتاح السيسي في القاهرة لبحث الدور المصري في مواجهة داعش.


- وزير الدفاع الفرنسى جون إيف لودريان، قادما على متن طائرة خاصة من الإمارات، حيث سيجري مباحثات مع الرئيس عبد الفتاح السيسي، ووزير الدفاع الفريق أول صدقي صبحي.


- التقى الفريق محمود حجازي رئيس أركان حرب القوات المسلحة بالفريق سايمون مايل مستشار رئيس أركان الدفاع البريطاني الذي يزور مصر حاليا. تناول اللقاء تبادل وجهات النظر تجاه تطورات الأوضاع التي تشهدها المنطقة.


- في فعاليات مؤتمر معهد السلام العالمي الذي عقد أمس الخميس، في العاصمة البحرينية المنامة تحت عنوان "دروس الماضي ورؤى المستقبل، الشرق الأوسط بعد 1914" تحدث موسى عن التغيرات الحاسمة التي حدثت بعد 1914 وانتهاء الحرب بتقسيم الشرق الأوسط من قبل القوى العظمى وقتها وانهيار الدولة العثمانية التي هزمت في الحرب.


كما أكد أن الشرق الأوسط اليوم في 2014 لا يحتاج لجلسة رسم خرائط بين "سايكس وبيكو العصر الحديث"، أو إلى وعود بامتيازات وأراض على غرار وعد بلفور، لأن قادة اليوم يعلمون جيداً أن الكلمة الأخيرة في هذه المنطقة تنبع من داخلها، ولن يقبل العرب أي وصاية أو محاولات لفرض تقسيم جديد أو حدود عليهم.

التعليق:


يقول تعالى في كتابه الكريم: ﴿بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ﴾، هكذا هي حقيقة حال الغرب الكافر، يتداعون إلى بلاد المسلمين جميعاً وفيما بينهم يتسارعون ويتصارعون على الغنائم والاستحواذ عليها، ولكن المحزن في الأمر كله هم هؤلاء الحكام العملاء الرويبضات الذين لا نرى لهم سطوة ولا قوة إلا على شعوبهم المسلمة، والأشد إحزاناً هو هذه الجيوش التي فقدت بوصلتها في الحياة الدنيا وفي الآخرة فاستهانت بدماء المسلمين وإراقتها في أوطانهم وأفقدتهم الأمن والاستقرار الذي تدعيه هذه الأنظمة كذباً أنها تسعى لتحقيقه. والآن يُراد لهذه الجيوش أن تكون في المقدمة تتلقى الضربات والطلقات ويموت منهم من يموت على الأرض، وتكون دماؤهم بساطا أحمر للغرب الكافر وقواته وعملائه يمشون عليه ويتباهون بنصر يزيدون فيه من الذل والطغيان للأمة الإسلامية وإحكام القبضة عليها، ذلك المارد المستعصي عليهم، الذي برغم القيود المفروضة عليه يزمجر رافضاً الركوع لغير الله.


لم يعد توجيه الحديث إلى قادة النظام وقادة عسكر مصر الكنانة يجدي، بعد أن زالت عنهم أقنعتهم وظهروا أمام الأمة بوجوههم على حقيقتها وانكشف أمرهم فاضطروا وبأمر من أمريكا أن يخلعوا مبارك، بسبب إصرار أهل مصر الكنانة على التوجه نحو حكم الإسلام، وبأمر وتخطيط من أمريكا قام قادة النظام الحقيقيين في مصر، وهم قادة عسكر مصر، بتمكين الإخوان وإفشالهم وعزل الدكتور محمد مرسي برغم الخضوع التام منه لجميع إملاءات أمريكا ولقادة العسكر، وما ذلك إلا لضرب هذا التوجه من أهل مصر الكنانة نحو الإسلام وحكمه، ليس في مصر الكنانة وأهلها فقط وبل في المنطقة كلها، والعالم الإسلامي كله.


كان هذا النظام في مصر وما زال يرفع فزاعة تقسيم مصر محذراً من نشوب حرب أهلية تأتي على الأخضر واليابس تُحدث هذا التقسيم، كما يحدث في سوريا والعراق وليبيا واليمن والصومال، والحبل وإن كان على الجرار ولكنه بإذن الله سينقطع بعودة الإسلام ممكَّناً في دولته دولة الخلافة.


بل كان هذا النظام الحالي في مصر يرفع فزاعات خطط الشرق الأوسط الجديد الأمريكية، وسايكس بيكو الجديدة الأمريكية أيضاً، التي تهدف إلى تقسيم بلاد المسلمين الحالية بما فيها مصر بل وخاصةً مصر. ولطالما رفع النظام في مصر هذه الفزاعة ولا يزال، ونعم يرفعها فزاعة حالياً حتى يستكين أهل مصر الكنانة ويرضون بالذل والطغيان والاستعباد لغير الله بالخضوع إلى أمريكا مقابل وهم الأمن والاستقرار الذي لم يتحقق لأهل مصر منذ غاب عنها شرع الله وحكمه ولن يعود الأمن ما دام الشرع غائبا، ليس في مصر فقط بل في جميع بلاد عالمنا الإسلامي.


والآن ألا يحق لنا أن نسأل هذا النظام، ومن يؤيده ومن يلف لفه، لقد رفعتم التقسيم فزاعة أمريكية، فهل زال هذا التقسيم، هل تخلت عنه أمريكا وحلفاؤها في الغرب سواءً في سايكس بيكو القديمة أو سايكس بيكو الجديدة، ولذا تتحالفون معهم؟!.


نعم "التقسيم ثم التقسيم ثم التفتيت" لبلاد المسلمين حقيقة استراتجية مجمعٌ عليها الغرب الكافر وعلى رأسه أمريكا الآن، ولكن السؤال ما هي أدواتهم في تحقيق هذا التقسيم والتفتيت؟! ألم يكن هؤلاء الحكام العملاء الخونة في الأمس أدواتهم، وما زالوا هم أدواتهم اليوم أيضاً؟! من الذي قسم بلاد المسلمين باتفاقية سايكس بيكو القديمة وأقام الحدود غير الطبيعية بين بلاد المسلمين وأقام عليها دولاً كرتونية هزيلة وصنع لها جيوشا تحافظ عليها وتسجن وتقهر المسلمين داخلها وتفقدهم الأمن والاستقرار ثم تكذب زوراً وبهتاناً أنها تسعى لتحقيقهما؟! ألم تكن بريطانيا وفرنسا؟!. من الذين باشروا خطة فصل السودان عن مصر؟! من الذين باشروا تقسيم السودان بين دولتين وفي طريقه لأن يكون أربع دول؟! أليست الأنظمة الحاكمة العميلة لأمريكا في مصر والسودان؟!.


والآن تدرك أمريكا والغرب الكافر وراءها أن زمجرة مارد الإسلام، أمة الإسلام، أصبحت عالية الصوت تصم آذانهم، بل الزمجرة أصبحت مصحوبة بحركة تحدث زلزلة في المنطقة وفي العالم لدرجة أن يحذر منها رئيس فرنسا فرانسوا هولاند، وهذه الزمجرة هى عدم قبول هذا المارد أياً من الحلول التوافقية أو أياً من حلول المداهنة أو المهادنة أوالمقايضة بين الإسلام وحكمه وبين أمن واستقرار موهميْن مكذوبين لا يتحققان إلا لهذه الأنظمة الحاكمة العميلة لهم. فالزمجرة أصبحت مصحوبة بسعي الأمة للعمل نحو عودة الخلافة على منهاج النبوة. والآن أوروبا تسارع الخُطا حفاظاً على صمام أمانها وهو حدود سايكس بيكو القديمة ودولها الهزيلة حتى لا ينطلق المارد المزمجر هذا نحو هدفه، نحو الخلافة، وأمريكا تحاول أن تنزع صمام الأمان هذا منها وتضع صماماً آخر لصالحها بتقسيم جديد حدوداً ونفوذاً وعمالةً وفي هذا الإطار يتسارعون ويتصارعون ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
علاء الدين الزناتي
رئيس لجنة الاتصالات المركزية لحزب التحرير / ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست