الخبر: في لقاء تلفزيوني مع قناة سي أن أن ترك، تحدث السفير الأمريكي جون باس مع ممثلة قناة "دوغان" في العاصمة التركية أنقرة "هاندي فيرات". وقال السفير باس "من حيث المدة، نتوقع أننا سنبقى هنا طالما تطلب ذلك لتحقيق الهدف المشترك بيننا، وهو إلحاق الهزيمة بـ"داعش" والقضاء عليه في نهاية المطاف". وأدلى باس بتصريحات مهمة عن حزب العمال الكردستاني ووسائل الإعلام. (المصدر: سي أن أن ترك). التعليق: تحدث سفير أمريكا المتغطرس والمتهور جون باس عن المجازر التي نفذتها أمريكا جنبا إلى جنب مع جميع قوات التحالف في سوريا والعراق في 3 أيلول/ سبتمبر 2015. وقال باس إن التنسيق العام للعمليات الجوية يقوم به مركز "القيادة المركزية الأمريكية"، مشيرا إلى أن الدول المشاركة الأخرى من مختلف أنحاء التحالف لديهم موظفون يساهمون في المركز. وردًّا على سؤال حول ما إذا كان نظام بشار الأسد قد أبلغ من قبل الولايات المتحدة أو قوات التحالف قبل العمليات العسكرية، قال "علينا القيام بالتدابير المناسبة لحماية طائرات التحالف، والذي حتما سوف نفعله إذا كنا بحاجة إلى ذلك"، ما يعني تأكيده على أن النظام قد تم إبلاغه. وتعليقا على المنطقة الخالية من تنظيم "الدولة الإسلامية" أو "المنطقة النظيفة"، أوضح ضمنيا أنه لا يوجد مثل هذه الخطة وذلك بالقول: "الشيء الأكثر أهمية هنا هو النتيجة التي نسعى إليها - وليس بالضرورة ما نطلق عليه". وعندما سئل عن أي نوع من حل وسط تم التوصل إليه فيما يتعلق بحزب العمال الكردستاني الذي تعتبره تركيا "منظمة إرهابية"، والذي تدعمه ضمنيا، لكنه يحظى بدعم واضح من قبل أمريكا، قال، "نحن نركز على دعم المجموعات في سوريا وفي العراق التي تقاتل "داعش"، تلك التي تدفع "داعش" إلى التراجع والتي ستكون في نهاية المطاف الحل لسيطرته على الأرض". وعندما أضاف "ونحن سوف نقدم الدعم لتلك الجماعات التي تقوم بذلك والتي لا تكون متطرفة أو تهدد الولايات المتحدة"، فإنه في الواقع يكون قد أعرب أن هذه الحرب هي ضد الإسلام والمسلمين تحت اسم تنظيم "الدولة الإسلامية"، وأنهم متوافقون مع الحكام المتعاونين في المنطقة. وفيما يتعلق بسؤال، "هل أنتم تتحدثون عن تشكيل حكومة انتقالية مع وجود الأسد؟"، ذكر أنهم "يواصلون العمل في تعاون وثيق مع طائفة واسعة من الحلفاء والشركاء والبلدان الأخرى، بما في ذلك تركيا"، وأضاف "كيف نحصل على [...] في وقت مناسب عندما نرى أن الانتقال إلى سوريا المستقبلية التي لا تشمل الرئيس الأسد في الحكومة". وعن سلامة تركيا بما يتعلق بقتال كل من حزب العمال الكردستاني وحزب الاتحاد الديمقراطي، اعترف أن أمريكا تستخدم حزب العمال الكردستاني في هذه الحرب بالقول "وفيما يتعلق بالوضع في سوريا، كما قلت، نحن نركز بشكل كبير على ضمان أن يكون للجماعات السورية الكردية والسورية العربية والسورية المسيحية والأفراد الملتزمين بمكافحة "داعش" في سوريا الدعم اللازم للنجاح في تحقيق هذا الهدف". وردا على سؤال: "هل هناك توافق بينكم (الولايات المتحدة) وبين تركيا بشأن هذه الجماعات؟ هل يجب علينا النظر إليها بهذه الطريقة؟"، فأجاب: "لقد كنا واضحين جدا مع الحكومة التركية في نهجنا في سوريا، وأعتقد أنهم يفهمون نهجنا ويفهمون المنطق وراء نهجنا". هذا الجواب قد أظهر بوضوح بأن هناك فقط خطة أمريكية وحكومات متعاونة يدعمون تلك الخطة. وحول سؤال "كم مدة بقاء الأمريكيين في قاعدة إنجرليك؟" أجاب "سنبقى هنا طالما تطلب ذلك لتحقيق الهدف المشترك بيننا، وهو إلحاق الهزيمة بتنظيم "الدولة الإسلامية" والقضاء عليه في نهاية المطاف". بينما كان جون باس يقوم بهذه المقابلة، لم يكن البرلمان قد وافق بعد على الاقتراح الذي يسمح "بعمليات التوغل العسكرية وعبور الحدود عند الضرورة، ويسمح للقوات الأجنبية باستخدام الأراضي التركية لعمليات محتملة ضد التهديدات ذاتها". هذه المقابلة التي تكشف عن درجة العجز والإعاقة في السياسة الداخلية والخارجية في تركيا لا يخجل منها حكام تركيا. إنهم لا يحكمون دولة! بل وظيفتهم الوحيدة هي أن يحكموا تصور المجتمع؛ ومن خلال السيطرة على التصورات يتم الفوز بانتخابات واحدة أو أكثر، وبالتالي الجلوس لفترة أطول قليلا على كراسي معوجة قوائمها. هذه المقابلة والتطورات الأخيرة تثبت الحقائق التالية حول تركيا: خلافا للتصورات، فإن تركيا لم تسر قط ضد أمريكا. على الرغم من وجود 900كم من الحدود مع سوريا، فإن تركيا ليس لديها سياسة، وإنما هي دائما تتبع خطا أمريكا. كل محاولات أمريكا لإطالة أمد نظام الأسد دعمتها تركيا، لأنه لا يوجد أي بديل عن القاتل الأسد. وبالطريقة نفسها التي دعمت بها أمريكا إيران وحزبها في لبنان في الدخول إلى سوريا، ودعمها العسكري للنظام، فإنها ضمنت أيضا أن تركيا قد أعدت الائتلاف الوطني السوري. الأولوية في تركيا في الوقت الراهن هو تهديد تنظيم الدولة، بدلا من تهديد نظام الأسد. وبعبارة أخرى، الطريقة التي تفكر بها تركيا هي نفسها التي يفكر بها المجتمع الدولي. مثلما هو الحال في حوادث كوباني، فبضغوط أمريكية فإنها مستعدة حتى لفتح حدودها لأولئك الذين تعتبرهم منظمات إرهابية. وكما عبر عنه السفير الأمريكي جون باس، فإنها ما زالت مستمرة في تقديم المساعدة عن طريق التحالف. من خلال الانضمام إلى قوات التحالف التي تقودها الولايات المتحدة وفتحها قواعدها بما في ذلك قاعدة إنجرليك، فإن تركيا قد لطخت يدها بدماء الشعب السوري. من أجل منع الثورة السورية من أن ينتهي بها المطاف كثورة إسلامية، فإنها تسعى لاختراق الجماعات بغية إقناعهم بالخطة الأمريكية. وتنظر تركيا إلى المسألة السورية بالطريقة نفسها التي تنظر إليها أمريكا وإيران وجميع الدول في المنطقة. إن استيعاب 2 مليون لاجئ يجب ألا يخدع المسلمين في سوريا وتركيا. فقط بالطريقة ذاتها التي كشفت بها الثورة السورية الوجوه الحقيقية للدول والمنظمات الإقليمية وبعض الأفراد، فإنها أيضا قد كشفت عن وجه تركيا الحقيقي. لقد تم تأسيس أكبر تحالف من أي وقت مضى في تاريخ العالم لمحاربة الإسلام والمسلمين. وبدلا من الوقوف بجانب الأمة الإسلامية، فإن كل الطغاة الذين تجذروا في الأمة الإسلامية مثل الورم قد انحازوا إلى جانب الدول الغربية التي تنابذها. كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرعثمان يلدز
خبر وتعليق القاتل سفير أمريكا المتعجرف جون باس (مترجم)
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست