خبر وتعليق   القومية فكرة متخلفة وسطحية ولا تستطيع توحيد الشعوب بشكل دائم   (مترجم)
خبر وتعليق   القومية فكرة متخلفة وسطحية ولا تستطيع توحيد الشعوب بشكل دائم   (مترجم)

الخبر: أوردت وسائل الإعلام خلال الأسابيع الأخيرة تقارير مخيفةً عن هجوم ضد الغرباء في جنوب أفريقيا. عدة أشخاص لاقوا حتفهم بينما تشرد نحو 5000 شخص منذ اندلاع الهجوم، قبل عدة أسابيع ضد الآسيويين والأفارقة من بلدان أخرى. وقد أرسلت الحكومة قوات من الجيش لمنع مثل هذه الهجمات. هذا وقد نزل آلاف الأشخاص إلى الشوارع للاحتجاج على هذه الهجمات العنيفة. ولقد أوردت الصحافة المحلية أن الهجوم بدأ بعد تصريح لملك قبيلة الزولو غودويل زويلتيني قال فيه (إن على الأجانب حزم أمتعتهم والرحيل لأنهم يأخذون الوظائف من المواطنين). وفي رد فعله على الأحداث قال الرئيس جاكوب زوما إن حكومته تعمل على مواجهة القلق الاقتصادي والاجتماعي.   التعليق: إن هذه ليست المرة الأولى التي تواجه فيها هذه الدولة التي تصف نفسها بأنها دولة تنوع وقوس قزح، مثل هذه الهجمات العنيفة ضد الأجانب. لقد صاغ المطران تيتو هذا المصطلح وتبناه نيلسون مانديلا لوصف حالة الوحدة لتعدد الثقافات والأعراق في دولة عانت طويلًا منذ الانقسام بين الأبيض والأسود. هذه الهجمات الأخيرة هي حلقة في مسلسل من العنف بدأ منذ سنوات خلت. ففي عام 2008 كانت جوهانزبيرغ بؤرةً للتوتر ضد المهاجرين أسفرت عن مقتل العشرات وامتدت لتصل إلى كيب تاون. معظم الضحايا كانوا من زيمبابوي. لقد تم اعتقال أكثر من مئتي شخص بتهم القتل والنهب والسرقة. ليس غريبًا أن نرى هذا العنف في دولة تتبنى النظام الاقتصادي الرأسمالي وتطبق سياسات اقتصادية فاسدة لا تركز على توزيع الثروة للرجل العادي وإنما تهتم فقط بالأغنياء والنخب. من المحزن أن نرى دولةً تمتلك ثروات هائلة من الذهب والألماس ويقبع أكثر من 12 مليون من سكانها تحت خط الفقر. إن انفجار العنف هذا يجب أن يكون مؤشرًا ويرسل رسالةً واضحةً ليس فقط إلى الحكومة العلمانية التي فشلت في رعاية شؤون رعاياها، بل أيضًا إلى النظام الرأسمالي الإمبريالي الذي دمر حياة الناس في جنوب أفريقيا. أما بالنسبة لنهج الاعتداءات على الأجانب، فإنها ليست مشكلة أفريقيا ولكنها تحدث أيضًا في الدول العظمى. في صيف 2014 قام شرطي من مدينة فيرغيسون الأمريكية بإطلاق النار على شاب أسود يدعى مايكل براون 18 عامًا وأرداه قتيلاً الأمر الذي أشعل فتيل الاحتجاجات في فيرغسون في نيويورك. يجب أن نتأمل جيدًا كيف أصبحت هذه مشكلةً خطيرةً في جنوب أفريقيا، إن التدقيق يثبت أن بذور الخوف بين الأجانب زرع في عصر الفصل العنصري الذي طبقه المستعمرون الإنجليز والهولنديون من خلال تشريع للحزب الوطني عام 1915. بوصفه الحزب الحاكم عام 1948، قام الحزب الوطني بتقديم سياسته العنصرية الشريرة ونتيجةً لذلك تم استبعاد وتهميش السود من الأفارقة الجنوبيين في كل نواحي الحياة. إن هذا الوضع شجع قيام العديد من الحركات الثورية وكان على رأسها نيلسون مانديلا الذي صور كبطل في مكافحة العنصرية وأصبح فيما بعد رئيسًا لجنوب أفريقيا عام 1997، للأسف بعد واحد وعشرين عامًا من الحرية والاستقلال ما زالت جنوب أفريقيا تعاني من نفس المشكلة ولكن بأبعاد جديدة هذه المرة والسبب يكمن في أن الحكام الجدد ما هم إلا عملاء لأسيادهم المستعمرين ويطبقون نفس السياسات المسمومة العنصرية والتفريقية. يجب أن نفهم جيدًا أن الوطنية والقومية والعنصرية هي أفكار متخلفة وسطحية ولا تستطيع بحال توحيد الشعوب وجعلهم أممًا عظيمةً. إن هذه الأفكار التفريقية تجعل الناس يعرفون عن أنفسهم على أساس قومي ويعتبرون أنفسهم أفضل من غيرهم وأرقى، مما يؤدي إلى صراعات قبلية أو إقليمية، حتى في ظل الدولة الواحدة، فإنه يمكن لهذه الاشتباكات أن تحصل بين القبائل المختلفة من أجل إظهار القوة والسيطرة. ومما يجب ذكره هو أن الغرب يستخدم عملاءه لخلق الفوضى بين الدول، وبين القبائل في نفس الدولة الواحدة، كأسلوب للسيطرة الاستعمارية الاقتصادية والسياسية في أفريقيا. من جهته قام الإسلام بإعلان الحرب على مثل هذه الأمراض القاتلة. لقد سادت مثل هذه الأفكار الجزيرة العربية مما سبب الحروب بين القبائل ولأسباب تافهة، إلى أن جاء الإسلام وجعل الولاء للعقيدة الإسلامية ودعا الناس إلى توحيد الله عز وجل خالق الكون والإنسان والحياة، فالرابطة التي تربط الناس هي عقيدة التوحيد وليست القومية أو الإقليمية، وليست على أساس اللون والجنس. إن هذه العقيدة هي التي يجب على جنوب أفريقيا بل والعالم أجمع أن يجعلها الرابط بين شعوبها. العقيدة التي تفرض الولاء للدين وليس للون أو الجنس أو القبيلة. ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ [الحجرات: 14]       كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرشعبان معلمالممثل الإعلامي لحزب التحرير في شرق أفريقيا

0:00 0:00
Speed:
May 04, 2015

خبر وتعليق القومية فكرة متخلفة وسطحية ولا تستطيع توحيد الشعوب بشكل دائم (مترجم)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست