خبر وتعليق الرأسماليون الأتراك المستغلون يصورون العمال عبيداً (مترجم)
January 11, 2015

خبر وتعليق الرأسماليون الأتراك المستغلون يصورون العمال عبيداً (مترجم)

الخبر:


عقدت لجنة تحديد الحد الأدنى للأجور اجتماعها الرابع مع وزارة العمل والضمان الاجتماعي من أجل تحديد حد أدنى للأجور في عام 2015. وبعد الاجتماع الذي مثل فيه اتحاد التجارة التقدمي للنقابات التركية العمال ومثل فيه الاتحاد التركي لأرباب العمل أصحاب الأعمال، أعلن الوزير فاروق جيليك أن لجنة تحديد الحد الأدنى للأجور أنهت عملها وأعلنت عن الحد الأدنى الجديد للأجور. فقد أعلن الوزير جيليك أن الحد الأدنى الجديد للأجور قد ارتفع ليصل إلى 1202 ليرة تركية للأشهر الستة الأولى من عام 2015، وإلى 1274 ليرة تركية للنصف الثاني من العام. وأوضح الوزير جيليك أن صافي الحد الأدنى للأجور سيصل إلى 949 ليرة تركية (410 دولار) للأشهر الستة الأولى من عام 2015، وإلى 1000 ليرة (432 دولار) للنصف الثاني من العام.

التعليق:


إن جمهورية تركيا تقوم بنشاطها الاقتصادي في ظل الخطط الاقتصادية للدول الاستعمارية التي تطبق السياسات الاقتصادية الرأسمالية. ولذلك فهي قد تبنت الهدف الاقتصادي الرأسمالي في الإنتاج وزيادة الإنتاجية. ويقال إن زيادة الإنتاج سيزيد الدخل القومي، وبالتالي زيادة دخل الفرد. والمسألة بالطبع وفقًا للسياسة الاقتصادية الرأسمالية أنه من الضروري زيادة الإنتاج والخدمات من أجل زيادة الدخل القومي. لأنه وفقًا للسياسة الاقتصادية الرأسمالية، فإن حاجات الإنسان تعتبر غير محدودة، وفي الوقت نفسه تعتبر الموارد محدودة. لذلك تسعى الرأسمالية لزيادة الإنتاج من أجل إشباع حاجات البشر غير المحدودة مع قلة وشح الموارد. والرأسمالية تهدف إلى زيادة الدخل القومي من خلال زيادة الدخل من الإنتاج والخدمات وذلك من خلال جعل الناس يعملون لفترة أطول. ولذلك فإن هناك حاجة ضرورية من وجهة النظر الرأسمالية لوجود عمال يعملون كعبيد يتقاضون أجورًا منخفضة.


والواقع أن الدخل القومي لا يضمن التوزيع العادل للثروة وفقًا لحاجات الناس. وبغض النظر عمن يملك الثروة، فإن قياس التنمية بشكل عام يتم بالاعتماد على حجم الدخل القومي. ووفقًا للرأسماليين، فإذا كان عُشر الناس هم من يملكون الثروة، بينما يُحرم تسعة أعشار الناس من المأكل والملبس والمسكن، فإن إجمالي الثروة يُقسم على العدد الكلي للسكان وبذلك يُحسب الدخل القومي للفرد الواحد. ومما لا شك فيه أن ذلك يمثل كذبة كبيرة واستغلالًا ضخمًا. في الواقع، فإن السياسة الاقتصادية الرأسمالية تدفعنا للتفكير بهذا الشكل. والدول التي تطبق النظام الاقتصادي الرأسمالي قد أسست اتحادات أصحاب الأعمال ونقابات العمال من أجل جعل المجتمع يتقبّل هذه الأكاذيب. وتدعي هذه النقابات أنها تأسست من أجل حماية حقوق العمال وأصحاب الأعمال.


وهنا فإن تصريحات وزير العمل في الجمهورية التركية، فضلًا عن تصريحات ممثلي نقابات أصحاب الأعمال والعمال في لجنة تحديد الحد الأدنى للأجور تفضح سياسة الاستغلال هذه. ويقول ممثل اتحاد نقابات العمال التركية، نظمي إرجات، إن الحد الأدنى للأجور التي أعلنتها الحكومة لا تتوافق مع توقعاتهم للحد الأدنى للأجور، وأنهم يعتبرونه غير كاف. وأعرب ممثل الاتحاد التركي لنقابات أصحاب الأعمال، متين دمير، عن استيائه من الحد الأدنى للأجور الذي تم تحديده، مبينًا أن "الحد الأدنى للأجور مع 6 + 6 = 12 قد وصل إلى مستوى لم يكن ممكنًا حتى أن يتصوره. وفي معدل التوظيف الموجود يجب علينا أيضًا أن نضع في عين الاعتبار أنه حتى أولئك الذين لديهم وظائف الآن قد يفقدون وظائفهم".


إن هذا يدل على أن الحكومة، فضلًا عن نقابات العمال وأصحاب العمل كلها عبارة عن بيادق بيد السياسة الاقتصادية الرأسمالية. إنهم يطمسون الحقيقة من خلال نشر معدلات النمو ومعدلات التضخم والتي تتكون من أرقام فقط. إن النظام الاقتصادي الوحيد الذي سيضمن توفير حقوق كل الأفراد فردًا فردًا دون التفريق بين من يعمل ومن لا يعمل هو النظام الاقتصادي في الإسلام. لأن الإسلام لا توجد فيه الفكرة الاستغلالية المضللة أن الإيرادات ستزيد من خلال زيادة الإنتاج. والنظام السياسي في الإسلام يهدف إلى توزيع الثروة، لذلك فإن الإسلام ينظر إلى كل فرد بعينه دون تمييز بين مسلم أو غير مسلم. ويملك الإسلام سياسة أساسية جدًا والتي تضمن إشباع الحاجات الأساسية مثل المأكل والملبس والمسكن لكل فرد بعينه. والحد الأدنى للأجور الذي تم تحديده في تركيا لضمان حاجات بيت فيه أربعة أو خمسة أفراد، يعادل اليوم فقط قيمة إيجار المسكن اللازم. من هو قادر على حماية البشرية من استغلال الرأسمالية؟ بالطبع وحدها دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وهي نظام الحكم في الإسلام ...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود كار

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست