الخبر: نشر موقع دنيا الوطن بتاريخ 2015/06/09 خبرا ننقله ببعض التصرف: "سلّم الملك عبد الله الثاني، القائد الأعلى للقوات المسلحة الأردنية، يوم أمس الثلاثاء، الراية الهاشمية لمستشاره للشؤون العسكرية، رئيس هيئة الأركان المشتركة الفريق أول الركن مشعل محمد الزبن، وذلك خلال مراسم عسكرية مهيبة في ساحة قصر الحسينية، بحضور الملكة رانيا العبد الله وسمو الأمير الحسين بن عبد الله الثاني، ولي العهد، وعدد من أصحاب السمو الأمراء وكبار المسؤولين من مدنيين وعسكريين، لتنضم هذه الراية المجيدة إلى رايات وأعلام القوات المسلحة الأردنية - الجيش العربي. وتستمد الراية الهاشمية ألوانها وشعارها من راية الهاشميين والثورة العربية الكبرى بأبعادها الشرعية والتاريخية والدينية والعروبية، وحُملت على عربة عسكرية لها تاريخ بطولي شاركت خلاله في الحربين العالميتين ومعارك الثورة العربية الكبرى الخالدة، وهي من أوائل العربات المسلحة المدولبة التي استخدمت في الجيش العربي. وتضمنت المراسم العسكرية دخول الراية الهاشمية مرفوعة على سيارة عسكرية محاطة بثلة من حرس البادية (الهجانة)، حيث تسلمها القائد الأعلى، وسلّمها بعد ذلك إلى رئيس هيئة الأركان المشتركة، ومن ثم رفعت على السارية الرئيسية في ساحة قصر الحسينية. ويأتي تسليم القائد الأعلى هذه الراية، برمزيتها الهاشمية ودلالاتها الدينية والتاريخية والعسكرية، للقوات المسلحة الأردنية - الجيش العربي، تأكيدًا على الثقة الكبيرة والمكانة الرفيعة التي تحظى بها القوات المسلحة، وتعزيزًا لدورها ورسالتها العروبية والمصطفوية على مر محطات تاريخية حاضرة ومستقبلية مهمة في الأردن والمنطقة العربية ومختلف بقاع العالم. ويعكس الشعار (لا إله إلا الله - محمد رسول الله)، الذي يتوسط الراية الهاشمية، وعبارتي البسملة، اللتين تسبقان الشعار، والحمد التي تتبعه، معاني ودلالات تؤكد التزام القوات المسلحة الأردنية ومنذ تأسيسها بالدفاع عن العروبة والإسلام ومبادئ الإنسانية". التعليق: الراية الهاشمية تصميم آخر للرايات التي كتبت عليها عبارة الشهادتين، فمن راية السعودية الخضراء إلى راية العقاب السوداء إلى راية تنظيم الدولة والقاعدة التي استخدمت ختم رسول الله عليه الصلاة والسلام إلى راية الهاشميين الخمرية. ليس المهم أن تكتب الشهادتان، المهم أن تكون تطبيقًا عمليًا للنظام المنبثق عن الشهادتين، فهل الأردن الذي رفع هذه الراية يطبق النظام الإسلامي المنبثق عن الشهادتين أو حتى يفكر في تطبيقها؟ دستور علماني بامتياز، ينص على أن الشعب هو المشرع، وأن الحرية الشخصية مصونة، وهذان ينسفان ادعاء التزام النظام بما تقتضيه الشهادتين، فالمشرع هو الله بما أوحاه إلى رسوله الكريم من القرآن والسنة وما دلا عليه من إجماع الصحابة والقياس. الحرية الشخصية محمية بالدستور، أي أن الدستور الأردني يحمي الزنا والعربدة وشرب الخمر والتعري والسفور والاختلاط والخلوة وكل ما يؤدي إلى الفساد وقد توج كل ذلك بدعوة مدير المواصفات والمقاييس المزارعين إلى الاعتناء بزراعة العنب لغايات تحويله إلى نبيذ ليقدم للعالم على أنه نبيذ الأرض المقدسة.. وإقامة اجتماع علني للشواذ جنسيًا تهيئةً لممارسة "نشاطاتهم" علنيًا بشكل "قانوني". فهل ما جرى في الأردن يتفق مع الراية الهاشمية؟ ذكرني ذلك بما جرى في الماضي أيام الملك حسين عندما حدثت فضيحة أخلاقية للحكومة الأردنية والتي أطلق عليها في حينها حكومة رهيجة، فما كان من الملك إلا أن قاد أعداء الحكومة إلى بلاد الحجاز لأداء العمرة ذرًا للرماد في العيون، ومحوًا للعار. فهل الراية الهاشمية تمحو عار النبيذ المقدس وعار اجتماع الشواذ؟! إن استمداد الراية الهاشمية لألوانها وشعارها من راية الهاشميين والثورة العربية الكبرى، يؤكد على استمرار الأدوار القذرة للدولة الأردنية والتي تسير فيها على نفس الخُطا التي سارت عليها الثورة العربية الكبرى التي أطلقت الرصاصة الأولى على صدر الخلافة، بعد أن باع حسين بن علي أولاده الأربعة لبريطانيا وخان دولة الخلافة، وهو مدرك لعظم الذنب الذي ارتكبه وسوء العاقبة التي تنتظرة، وقد وضح ذلك في رسالة بعث بها إلى بريطانيا التي أخلفت وعدها معه فكتب لها قائلًا: "لقد وضعت نفسي وأولادي في نار جهنم من أجل بريطانيا العظمى". وها هو خلفه يتبعه على نفس الخُطا، فالأردن منذ اقتطعته بريطانيا من الشام وسلمته إلى عبد الله الأول وحتى يومنا هذا وهو مطبخ للمؤامرات على الإسلام وأهله، فهل يتفق ذلك مع راية لا إله إلا الله التي رفعها عبد الله الثاني؟! أم أنه يذر الرماد في عيون أهل الأردن كما فعل أبوه من قبله. إن وضع الراية الهاشمية على الطائرات الحربية ولبس الشماغ بالمقلوب يعني التأهب للحرب ولكن ضد من؟ إنه بالقطع ليس ضد دولة يهود التي أصبحت دولة شقيقة يدافع عنها بالمهج والأرواح، ويقوم سلاح الطيران الملكي برحلات ترويحية لها في ربوع الأردن. وليس ضد تنظيم الدولة، كما هو معلن... فإن ما يجري على الأرض مختلف تمامًا، فمشاركة الأردن لتحالف أمريكا الصليبي على الشام ليس للقضاء على التنظيم، وإنما للقضاء على الثوار المخلصين في سوريا الذين احتضنوا مشروع الخلافة الحقة، الخلافة على منهاج النبوة.. خلافة واضحة المعالم دستورها مأخوذ من الكتاب والسنة، أنظمتها الاقتصادية والاجتماعية والسياسية والتعليمية واضحة محددة. إنه صراع أمريكي بريطاني على المنطقة؛ السعودية حملت الراية الأمريكية في عاصفة الحزم لطرد النفوذ البريطاني من اليمن، فعلى الأردن أن تحمل بدورها الراية البريطانية للحفاظ على بقاء نفوذ بريطانيا الذي يتهاوى أمام الضربات الأمريكية... إن لم يكن في المنطقة فعلى الأقل في الأردن.. رسالة تهديد لعملاء أمريكا في الأردن من ناحية ومن ناحية أخرى تهديد لحملة الدعوة الذين حملوا على عاتقهم تغيير الأوضاع الفاسدة في الأردن.اللهم إنا نسألك أن ترد كيدهم في نحرهم وأن تكفينا إياهم بما شئت. كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرأميمة حمدان
خبر وتعليق الراية الهاشمية امتداد للثورة العربية الكبرى ضد الإسلام والمسلمين
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست