الخبر: نقلت جريدة الدستور الصادرة يوم الأحد 12 نيسان/أبريل 2015م، تأكيد وزير الأوقاف الدكتور محمد مختار جمعة أن الخدمة العسكرية والشرطية في سيناء هي رباط في سبيل الله، وأن الخدمة في قواتنا المسلحة وفي أي سلاح من أسلحتها هو عين الجهاد في سبيل الله، وأن جميع الساهرين على أمن الوطن سواء المرابطين على الحدود أو الساهرين على الأمن الداخلي هم عيون لا تمسها النار، كما أشار إلى وقوف الجميع صفًا واحدًا خلف القيادة الحكيمة للرئيس السيسي، الذي أعلن بصراحة ووضوح أن مصر لم ولن تتخلى عن أمن أمتها العربية وقضاياها العادلة، كما أنها لم ولن تتراجع قيد أنملة في مواجهة الإرهاب الغاشم حتى تقتلعه من جذوره، وأعرب عن أمله في أن تفكر القوات المسلحة في فتح باب التطوع لمواجهة الإرهاب، ليدرك العالم كله مدى التفاف الشعب المصري حول السيسي، وإيمانه بوطنه وقضايا أمته. التعليق: الجهاد والرباط في سبيل الله حكم شرعي له واقع معين يجعله في سبيل الله، وهذا الواقع بينه لنا ما رواه البخاري في صحيحه، قال: "جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: الرجل يقاتل للمغنم والرجل يقاتل للذكر والرجل يقاتل ليرى مكانه، فمن في سبيل الله، قال: «من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله»، فحدد النبي صلى الله عليه وسلم أن من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله، ولم يقل من قاتل لحفظ عروش الحكام، ولا للحفاظ على حدود قطرية، ولا لحماية كيان يهود، ولا لتنفيذ مشاريع الغرب، فضلًا عن قتل أبناء الأمة إرضاءً للغرب الكافر. أما قضايا الأمة العادلة فنختصرها في قضية واحدة هي قضية الأمة المصيرية والعادلة، ألا وهي إقامة الخلافة على منهاج النبوة التي تطبق الإسلام كاملًا غير منقوص، فترعى به شئون الناس في الداخل وتحمله للعالم بالدعوة والجهاد، وتنهي التبعية للغرب وتقضي على إرهابه، وتزيل الحدود بين الأمة وتعيد لها سلطانها المسلوب وثرواتها المنهوبة وتحطم عروش حكام الضرار التي نخر فيها الفساد، وتحرر الأقصى من رجس يهود. فأين هو الرباط في سبيل الله مما ذكرت يا وزير الأوقاف؟! وأين هي القضايا العادلة لأمة تنهب خيراتها ويقتل أبناؤها لبسط نفوذ عدوها عليها؟! بل إن هؤلاء الحكام هم عملاء للغرب يرعون مصالحه لا مصالح الأمة، لا تحركهم عقيدة ولا مبدأ ولا حتى قومية أو وطنية أو طائفية، وإنما يحركهم الحفاظ على عروشهم وكراسيهم وخدمة مصالح سادتهم في الغرب وبسط نفوذهم، فهل يعتبر الرباط تحت راية هؤلاء الحكام في سبيل الله؟! قطعًا لا، بل إن الثابت من سنة النبي صلى الله عليه وسلم نهيه عن العمل في شرطة وجند وخزنة هؤلاء الحكام، فيما رواه ابن حبان في صحيحه، قال صلى الله عليه وسلم: «ليأتين على الناس زمان يكون عليكم أمراء سفهاء، يقدمون شرار الناس ويظهرون بخيارهم ويؤخرون الصلاة عن مواقيتها، فمن أدرك ذلك منكم فلا يكونن عريفًا ولا شرطيًا ولا جابيًا ولا خازنًا»، فكيف اعتبرته رباطًا وجهادًا في سبيل الله وما هي حجتك؟! وما هو الوطن الذي تحدثت عنه؟! وهل يقر الإسلام الوطنية والعصبية والعرقية؟! وهل يجوز الوقوف خلف حاكم لا يحكم بالإسلام ويحافظ على تقسيم الأمة ويستمد سلطانه من عدوها ويتبنى مشروعه؟! إن الإسلام يا وزير الأوقاف صهر العرقيات والعصبيات كلها في بوتقة الإسلام، فصار بلال وعلي وصهيب وسلمان إخوة تربطهم عقيدة الإسلام، وصار أبو جهل عدوًا رغم أنه من نفس الوطن، وصار أبو لهب عدوًا رغم كونه عم رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأمة الإسلام واحدة كما أخبر الله في كتابه ﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّـةً وَاحِدَةً وَأَنَـا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾، فهي أمة واحدة بعربها وعجمها وفرسها وكردها وشامها ومصرها، أمة واحدة يجير على ذمتهم أدناهم، ويرد عنها أقصاهم وهم يد على من سواهم، ولا يجوز أن يفصل بينها حدود ولا أن تبقى أرضها تحت يد كيان يهود. هذا دور الجيوش يا وزير الأوقاف تحرير أرض الأمة المغتصبة، وليس حماية وحراسة الغاصبين مثل كيان يهود، ولا تبني أفكار ومفاهيم الغرب عن الإرهاب وإلصاقها بالإسلام، وهم أصله وفصله وصانعوه، هذا هو الرباط وهذا ما كان ينبغي أن تطالب بالتطوع له لتحرير أرض الإسلام، وإعادة الأمة إلى سابق عهدها دولةً واحدةً، خلافةً على منهاج النبوة، تطبق الإسلام في الداخل فيرى الناس عدل الإسلام وإحسانه وأمنه وأمانه، يرونها في أحكام الإسلام التي أصبحت واقعًا عمليًا مطبقًا عليهم، وتحمل الإسلام للعالم بالدعوة والجهاد فتزيل الرأسمالية الجاثمة على رؤوس الناس وتعيد إليهم حقوقهم التى نهبتها بجشعها وطمعها. فأين أنتم من هذه الدعوة يا وزير الأوقاف وكيف ستلقون الله أعوانًا للظالمين والأمراء السفهاء، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللهُ عليهِ وسلم، قَالَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ»، قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أُمَرَاءٌ سَيَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِحَدِيثِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَرِدُوا عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِحَدِيثِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ، وَأُولَئِكَ يَرِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ». يا وزير الأوقاف ألم يأن لك وعلماء الأزهر أن تخشع قلوبكم لذكر الله وما نزل من الحق، ﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ﴾، وتكونوا من الداعين لما أوجبه الله عليكم من عمل لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تعيد للأمة عزها عوضًا عن اتباع الحكام، فإنهم لن يغنوا عنكم من الله شيئًا، ولا تكتموا ما علمتم من الكتاب ولا تشتروا به ثمنًا قليلًا، وإننا نربأ بكم أن تحاجوهم في النار فيتبرأوا منكم، فتبرأوا منهم اليوم أنتم واشتروا ما عند الله بدنياهم وآخرتهم ولا تبيعوا آخرتكم بدنياهم، فكونوا للأمة عونًا وسندًا ولا تعينوا عليها عدوها، فهذا دوركم قبل غيركم وهذا ما علمتم من الكتاب والسنة فاتبعوه تفوزوا وتفوز الأمة بكم. ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرسعيد فضلعضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر
خبر وتعليق الرباط في سبيل الله
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست