November 22, 2014

خبر وتعليق السلطات الطاجيكية تغلق 200 موقع على الإنترنت للمعارضة


الخبر:


ذكرت صحيفة برافدا الروسية في السابع من أكتوبر 2014 أن السلطات الطاجيكية أغلقت 200 موقع للمعارضة على شبكات الإنترنت في 18 مدينة. مزودو الإنترنت يتواصلون بالنسبة لحقوق عدم كشف الهوية وتوجيهات دائرة الاتصالات الحكومية، وسائل الإعلام المحلية وخبراء اجتماعيون يربطون وضع القيود على الإنترنت مع دعوة قادة المعارضة في المجموعة 24 للناس للخروج في العاشر من أكتوبر في احتجاجات حاشدة ضد حكومة رحمون في دوشانبي.

التعليق:


في عام 2012 أنشئت المجموعة 24 والتي شجعت العمال المهاجرين من طاجيكستان في روسيا على قلب نظام حكم رحمون، فقبل فترة وجيزة تم نشر لقاء قائد المجموعة 24 على الإنترنت داعيا للخروج للشوارع في دوشانبي والمطالبة بإقالة الحكومة، وكانت ردة الفعل على إثر هذا اللقاء سريعة للغاية من قبل السلطات حيث أعلنوا حالة الطورائ في البلاد وعطلوا خدمات الإنترنت والخدمات الهاتفية وقد تمت السيطرة على خطب الجمعة من قبل الشرطة، واتهمت النيابة العامة الطاجيكية المعارضة بمحاولة قلب نظام الحكم في البلاد، وفي 2012/10/9 أعلنت المحكمة الطاجيكية العليا أن المجموعة 24 مجموعة متطرفة ولذلك تم حظرها في طاجيكستان وأن زعيم المجموعة 24 وهو رجل أعمال سابق على قائمة المطلوبين دوليا بتهمة الاحتيال.


وكالة المعلومات (تسنتر آسيا) وفي إشارة إلى المقالة الاستفزازية التي نشرتها صحيفة نيزافيسيمايا غازيتا في 11 من تشرين الأول/أكتوبر 2014 قالت: "تذكر الأوضاع الحالية في دوشباني بالثورة الإيرانية الشعبية عام 1979، وقد صرح الكسندر ماغاميدالي ممثل المجموعة 24 في العلاقات الإعلامية في مقابلة مع إن جي - دعمت الاحتجاجات من قبل عدد كبير من الشباب والطلاب وحتى المعلمين في المدارس. وقال أيضا إن بضعة آلاف من المحتجين تنقلوا بحرية في العاصمة الطاجيكية ولم يواجهوا أي تصعيدات من قوى الأمن والشرطة؛ حيث تعانق الأمن والشعب وتعاملوا بود، ولا توجد أي محاولات لفض الاحتجاجات والمسيرات، ولهذا لدينا قاعدة نستند إليها في التخمين بأن 40 إلى 50% من موظفي إم في دي وقوات الحرس الحكومي وقوات الجيش الآن في صفنا".


وفي حقيقة الأمر لم يكن هناك أية احتجاجات مطلقا ولم يسمع عن هذا الأمر أحد في طاجكيستان، فقلق رحمون على عرشه مبرر، حيث إن في روسيا مليون طاجيكي غادروا البلاد من أجل العمل في روسيا الاتحادية أغلبهم من الشباب القادرين على قلب الجبال الواقفة في طريقهم، فإنهم إن قرروا تغيير الوضع السياسي في بلادهم فإن رحمون غير قادر على إيقافهم. إن الجيش الطاجيكي هو الأضعف في آسيا الوسطى وهو مسلح بمعدات قديمة على الطراز السوفيتي، والعامل الرئيسي في استقرار البلاد يكمن في القاعدة الروسية 201، والتي أنشئت في عام 2004م. أكبر كتيبة من القوات المسلحة الروسية تقف خارج البلاد وجزء من القاعدة الروسية 201 منتشر في ثلاث مدن دوشانبي، وكوليابي وكورغان تيوبي مكونة من 7500 عسكري، تحتوي القاعدة على محركات آلية ووحدة الدبابات والقناصة والاتصالات كما تحتوي أيضا كتيبة دفاع جوية - صاروخية، وكتائب مدفعية ذاتية الدفع بينما لا تملك طاجيكستان طائرات مقاتلة، وتقوم القوات الروسية على حماية مجالها الجوي.


من الواضح أن نظام رحمون باق تحت العين الساهرة للكرملين، وبيانات المعارضة عن الاحتجاجات وقلب نظام الحكم ما هي إلا خطوة خبيثة للكرملين، ففي ظل الأوضاع الراهنة المعقدة في روسيا في مجال إنتاج النفط فإن العلاقات القائمة بين الصين وطاجيكستان في هذا المجال تقلق الكرملين.


إن الكرملين لا يريد أن يفقد أحد مصادره، وهو بهذه الأعمال يذكّر رحمون بمكانته ومن هو سيده، الكرملين لا يريد تغيير رحمون ولكنهم لا يسمحون له باتخاذ القرارات دون الرجوع إليهم.


العشرون عاما الماضية من حكم رحمون الديكتاتوري قد أنجبت عشرات المجموعات المختلفة المناهضة لسياسة السلطة محاولين تغيير الواقع المرير والنهوض بالبلاد. المستعمرون استطاعوا استخدام هذه الحركات جيدا لما يخدم مصالحهم وفي نهاية المطاف كل تلك الحركات تعرضت للفشل والاندثار تاركة الحزن واليأس لدى الشعب الطاجيكي، ويعود هذا لعدم وضوح الرؤية عند تلك الحركات فقد كانت حركات رجعية تفتقد للبرامج الواضحة وتقوم على المشاعر.


نحن نشاهد اليوم حركة رجعية أخرى تستخدم من قبل الكرملين في مشاريعها، السلطات في الكرملين تستخدم استياء العمال من أوضاع العمل في روسيا الاتحادية وبهذا تضغط روسيا على رئيس طاجيكستان إمام علي رحمون.


أيها المسلمون، إن التغيير الجذري يتحقق فقط عند تغيير النظام بحد ذاته وليس بتغيير الأشكال والأشخاص الذين يحكمون البلاد، وعلى سبيل المثال الأحداث التي حصلت في مصر وتونس وليبيا، حكام قد ذهبوا وجاء حكام أسوأ منهم.


أيها المسلمون، إن كل تحرك يجب أن يبنى على العقيدة، ونحن المسلمين عقيدتنا الإسلام، فقد قال الله عز وجل: ﴿ورضيت لكم الإسلام دينا﴾.


إن كل تحركاتنا يجب أن تكون مبنية على الإسلام فقط لا غيره، قال الله تعالى: ﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإسلام دِيناً فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ﴾.


إننا في حزب التحرير قمنا على أساس الإسلام، ونحمل مشروعا كاملا للنهضة الإسلامية ولطراز العيش الإسلامي في خلافة راشدة على منهاج النبوة تقوم على القرآن والسنة.



كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
إلدر خمزين
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست