الخبر: أشرف وزير العدل محمد صالح بن عيسى الاثنين 4 أيار/ماي 2015، على ندوة وطنية حول "إعادة النظر في سياسة معالجة ظاهرة استهلاك المخدرات في تونس". وقال وزير العدل في تصريح إعلامي إنّ مشروع مراجعة القانون عدد 52 الخاص بتعاطي المخدرات سيقوم على فلسفة وقائية علاجية اجتماعية بدلا من العقابية. وسيمنح المشروع الجديد القاضي سلطة التقدير في تحديد العقاب وتمكين المحكمة من توفير ظروف التخفيف للنزول بالعقاب إلى أدنى الدرجات الممكنة. ويعمل القانون الجديد حسب مداخلة الوزير في افتتاح الندوة على استبدال العقاب، بعقوبة العمل لفائدة المصلحة العامة، أخذا بالاعتبار ظاهرة الاكتظاظ في السجون وبالتالي أهمية تفعيل العقوبات البديلة. وينص مشروع القانون الجديد للمخدرات في أحد فصوله على بعث" اللجنة الوطنية للتعهد والاحاطة بمستهلكي المخدرات". التعليق: عند التأمل في هذا المشروع والاعتبارات الإنسانية التي أخذها في الحسبان تتراءى الرأفة والرحمة وقد غطّت الجريمة واحتضنت الجاني معتبرة إياه في وضع مرضي يتطلب التعاطف والمؤازرة. ويتحدث أصحاب القرار عن صرامة القانون عدد 52 لسنة 1992 وأن هذا الأخير بحاجة إلى مراجعة باتجاه المرونة والليونة، وبما أن العقوبات المشددة قد أثبتت عدم جدواها فلم تصل إلى ثني متعاطي المخدرات بل أكثر من ذلك فقد أصبحت المؤسسات السجنية التي وضعت بغية العلاج والإصلاح - بزعمهم - مرتعا خصبا لتنامي الظاهرة واستفحال الإدمان، وأمام تزايد عدد المتعاطين وعدم قدرة السجون على استيعاب الأعداد الغفيرة لهؤلاء فبدل الزجر والعقوبات البدنية فليكن العلاج الوقائي وفلسفة التوعية والإرشاد البديل الأمثل لحل القضية، بهذه الحجج الواهية يحاول بعض المأجورين ممن باعوا ذممهم إلى أعداء الأمة تمرير مثل هذه القوانين التي ظاهرها الرحمة وباطنها العذاب والهلاك. إن الإعراض عن أحكام الله والاحتكام إلى الطاغوت سواء أكان هيئة تشريعية أم مجلسا نيابيا فلن يزيد الناس إلا شقاء وضنكا، فلو كان هؤلاء المشرعون من دون الله يريدون حقا مصلحة العباد وسعادتهم لما وسعهم إلا أن يهرعوا إلى شرع الله الذي حرّم هذا المنكر فقد روى أحمد في مسنده وأبو داود في سننه بسند صحيح عن أم سلمة رضي الله عنها قالت: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلّم عن كل مسكر ومفتر» والفتور الخمول وضعف الجفون وخدر الأطراف. وقد اعتبر بعض العلماء أنه يستوجب حد السكر لقرنه به في النص ولاشتراكه معه في خمر - أي تغشية - العقل، وذهب آخرون إلى تشديد العقوبة تعزيرا بإضافة الحبس إلى الجلد. إن الغاية من مثل هذه القوانين هي التشجيع على الفساد وإشاعة الفاحشة بين المسلمين ببذر أسباب المصائب والكوارث التي حلّت ببلاد الغرب نتيجة انتشار المخدرات والتعاطي المرن مع المستهلكين والمروجين، ويكفي أن نلقي نظرة على موطن هذه القوانين لنلمس تنامي الجرائم وتنوعها واستشراء الرذائل والفواحش وما رافق ذلك من تيه وضياع ويأس وقنوط غشّى الحياة بالقتامة والسواد. وما زاد الطين بلة أن زعماء هذا التوجه يحتجون بأن كل الدول المتحضرة والتي تؤمن بالديمقراطية قد غيرت القوانين الزجرية بقوانين بديلة ترتكز على التوعية والعلاج وكأن هؤلاء - مثلهم الأعلى - قد نجحوا في استئصال المخدرات من بلادهم والشواهد تؤكد عكس ذلك، فمثل هذه القوانين ما وضعت إلا لتخدم العصابات العالمية للمخدرات لتبيّض أموالها وتزداد ثراء بغض النظر عمّا تخلّفه من دمار وخراب. أمّا الأدهى والأمر فهو أن نجد المنافحين لتمرير هذه القوانين تحت ستار الرفق واللين بالشباب، قد قبضوا ثمن خيانتهم وباعوا أهلهم ودينهم من أجل لعاعة من الدنيا، فهذه الندوة تندرج في إطار الشراكة بين البرنامج الإقليمي لمؤسسة وستمنستر للديمقراطية لمنطقة الشرق الأوسط وشمال أفريقيا وبرنامج الأمم المتحدة المشتركة ضد السيدا لتعزيز الروابط بين صانعي السياسات، ومؤسسة وستمنستر للديمقراطية هذه تابعة لمكتب الخارجية والكومنولث في بريطانيا تهدف إلى تكوين البرلمانات وتدريبها وتأطيرها من خلال تبادل الزيارات مع مجلس العموم. فبريطانيا العدو الأول للإسلام والمسلمين وراء هذا المشروع الهدام تريد أن تقذف بأبنائنا في أتون الضياع وبراثن الرذيلة فلا تقوم لنا بعد ذلك قائمة، وأنّى لفاقد العقل أن يتدبر ويتفكر وينكر ويغيّر فينهض ويتحرّر. إن معالجة مشكلة المخدرات لا يمكن أن تكون بزيادة نشرها والتساهل مع مروجيها ومتعاطيها، وإنما تكون بقطع دابرها ومنع دخولها للبلد والضرب بقوة على أيدي المخربين، فهذه الآفة التي أخذت تنخر في شبابنا لها أبواب ومنافذ لا بد من سدها وإنزال أشد العقوبة بالبوّابين والسماسرة مهما تكن مواقعهم ومناصبهم ثم يأتي الدور التوعوي والتثقيفي لتحصين المسلمين وحمايتهم، ومن رام بعد ذلك تعدّي حدود الله فلا يلومنّ إلا نفسه فإنما جعل العقاب لعلاج من لم يقوّمه الوعظ والنصيحة. ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [النور: 19] كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرطارق رافع - تونس
خبر وتعليق السلطات التونسية تمهّد لسن قوانين تشجع على تعاطي المخدّرات
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست