November 12, 2014

خبر وتعليق السلطات في ميانمار تتكسب من التطهير العرقي لمسلمي الروهينغا ‏(مترجم)‏

الخبر:‏


نشرت المجموعة الحقوقية للدفاع عن حقوق الإنسان (‏Fortify Rights‏) والتي مقرها في بانكوك ‏وذلك في 7 تشرين الثاني/نوفمبر بيانًا موجزًا ذكرت فيه أن السلطات في ميانمار كانت متورطة في ‏الاتجار وتهريب مسلمي الروهينغا من ولاية راخين في ميانمار. وقد بينت المجموعة أن قوات أمن ‏الولاية تجبي دفعات مالية من مسلمي الروهينغا الفارين من الاضطهاد الذي يرتكبه نظامهم، أو من ‏المهربين الذين يعملون على متن زوارق بحرية مقابل عبورهم إلى البحر. وحتى إن هناك تقارير تبين أن ‏قوات ميانمار البحرية تقوم بإيصال مسلمي الروهينغا إلى سفن الاتجار بالبشر والتي تديرها شبكات ‏إجرامية. ويمكن أن تحصل شرطة ميانمار، أو قواتها البحرية، أو مسؤولو الجيش على مبلغ يصل ما بين ‏‏500 دولار إلى 600 دولار عن كل قارب صغير يحمل ما بين 50 إلى 100 لاجئ. وقد علق ماثيو ‏سميث، مدير (‏Fortify Rights‏)، بقوله: "لا تقوم السلطات فقط بجعل حياة الروهينغا لا تطاق بحيث ‏إنهم أجبروهم على الفرار، بل إنهم يتكسبون أيضًا من نزوحهم... إن هذه أزمة إقليمية لا تزال تتفاقم بينما ‏تقوم سلطات ميانمار بالتربح منها بشكل سيّئ". وقد نشرت وكالة أسوشيتد برس تفاصيل حالة قام بها ‏عشرات الجنود من ميانمار بركوب قارب مليء بمسلمي الروهينغا في خليج البنغال وقاموا بضرب ‏الركاب بألواح خشبية وقضبان حديد لابتزاز الأموال منهم قبل أن يسمحوا لهم بالرحيل.‏

التعليق:‏


إنه أمر بغيض ومحزن جدًا ألا نشهد فقط على نطاق واسع الحملة المستمرة من التعذيب والاضطهاد ‏التي يتعرض لها إخواننا وأخواتنا من مسلمي الروهينغا والتي يرتكبها نظام ميانمار الوحشي، بل كذلك ‏أن نعلم أن البؤس والمعاناة التي يعيش فيها إخواننا وأخواتنا أصبحت مصدرًا يدر المال لأولئك ‏المجرمين. في الأسابيع الأخيرة، كانت هناك زيادة ضخمة في نزوح مسلمي الروهينغا الذين فروا من ‏منازلهم في ولاية راخين. ووفقًا لمشروع أراكان، وهي مجموعة تراقب أوضاع لاجئي الروهينغا، فإن ‏معدل عدد الأشخاص الذين يلجؤون إلى سفن الشحن لمغادرة البلاد يبلغ 900 شخص يوميًا، وخلال ‏الأسابيع الثلاثة الماضية وحدها، هرب 14500 روهينغيًا عن طريق البحر إلى تايلاند على أمل الوصول ‏في النهاية إلى ماليزيا. وقد ترك أكثر من مئة ألف روهينغي ميانمار عن طريق القوارب منذ ‏حزيران/يونيو عام 2012 هرباً من البطش العرقي الذي يرتكبه البوذيون ونظامهم. في الواقع، لقد وصف ‏نشطاء حقوق الإنسان هذه الهجرة باعتبارها واحدة من أكبر هجرات القوارب في آسيا منذ حرب فيتنام. ‏ويحتجز المهربون الكثيرين منهم في ظروف استعباد واستغلال، ويعانون حياة ملؤها سوء المعاملة ‏والتعذيب.‏


وتعود الزيادة الأخيرة في معدل نزوح مسلمي الروهينغا من ميانمار بشكل جزئي إلى زيادة عمليات ‏الاعتقال والضرب والاحتجاز التعسفي الذي يتعرضون له. وسياسة إعادة التوطين الجديدة التي تنتهجها ‏حكومة ميانمار، والتي تسمى "خطة عمل راخين"، تعتبر كذلك سببًا في زيادة اليأس بين مسلمي ‏الروهينغا وهو ما أجبرهم على ترك بلادهم. وهذه الخطة، والتي تعتبر جزءاً من حملة التطهير العرقي ‏المستمرة التي يقوم بها النظام ضد المسلمين الذين يعيشون على شواطئ ميانمار، تشترط على مسلمي ‏الروهينغا أن يثبتوا أنهم وأسرهم قد عاشوا في البلاد منذ أكثر من 60 عامًا. وإذا استطاعوا تقديم دليلٍ ‏كافٍ للإقامة، فإنهم يحصلون على "جنسية" تعطيهم حقوقًا أقل من المواطن العادي - وحتى في هذه ‏الحالة، يطلب منهم أن يتنازلوا عن هويتهم كروهنغيين ويسجلون على أنهم بنغاليون. وهذا بطبيعة الحال ‏يعني ضمنًا أنهم يعتبرون مهاجرين غير شرعيين من بنغلادش المجاورة، مما يعطي الحكومة القدرة على ‏سحب جنسياتهم وترحيلهم في وقت لاحق إذا رغبت في ذلك. أما أولئك الذين لا يستطيعون تقديم دليل على ‏إقامتهم أو الذين يرفضون تصنيفهم على أنهم "بنغاليون"، فيمكن أن يرحلوا أو يتم وضعهم في المخيمات. ‏وقد وصفت منظمة هيومن رايتس ووتش الخطة بأنها "لا شيء أقل من خطة للتمييز العنصري وانعدام ‏الجنسية الدائمين".‏


إن كل هذا يحدث في الوقت الذي يستعد فيه قادة العالم، بمن فيهم الرئيس الأمريكي أوباما، لحضور ‏قمة شرق آسيا هذا الأسبوع في ميانمار والتي تستضيفها الحكومة البورمية هذا العام. ولذلك فإن ‏الحكومات الغربية تتظاهر بالاهتمام بحقوق الإنسان كجزء من خطتها لتسويغ القصف الحالي على العراق ‏وسوريا، وهم سعداء جدًا بشكل فاضح لحضور مؤتمر يستضيفه نظام دكتاتوري وحشي يرهب الأقليات ‏التي يحكمها، ويشارك في حملة التطهير العرقي، والتربح من الهجرة الجماعية للمسلمين المضطهدين. ‏إن كل تلك الحكومات الغربية التي ستجتمع قد صرحت ببيانات ضعيفة على عدم موافقتها على تصرفات ‏النظام في ميانمار، وهي ليست على استعداد بشكل واضح للمخاطرة باستثماراتها المالية الكبرى ‏والمصالح الاستراتيجية في البلاد. في الواقع، طوال هذه الحملة المستمرة من الاضطهاد الذي يتعرض له ‏الروهينغا، فإن الولايات المتحدة واصلت تعزيز علاقاتها الاقتصادية مع هذا البلد، وتبشر النظام بنجاح ‏سياسته الخارجية بسبب إصلاحاته الديمقراطية؛ الإصلاحات التي لم تصنع شيئًا لمسلمي الروهينغا سوى ‏مزيدٍ من الاضطهاد. إن هذا النفاق الهائل يوضح مرة أخرى أن هذه الحكومات الرأسمالية ليس لها أي ‏اعتبار حقيقي لحرمة حياة الإنسان وكرامته، وإن اهتمامها ينحصر فقط في حرمة الدولار. وهذا يؤكد ‏كذلك على أنه لا يمكن أبدًا أن يعتمد المسلمون على المجتمع الدولي في حل مشاكلهم، فالله سبحانه وتعالى ‏يذكرنا بقوله: ﴿مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلۡعَنڪَبُوتِ ٱتَّخَذَتۡ بَيۡتً۬ا‌ۖ وَإِنَّ أَوۡهَنَ ٱلۡبُيُوتِ لَبَيۡتُ ‏ٱلۡعَنڪَبُوتِ‌ۖ لَوۡ ڪَانُواْ يَعۡلَمُونَ﴾ [العنكبوت: آية 41]‏


وعلاوة على ذلك، فإن هذه الأوضاع الصعبة التي يتعرض لها إخواننا وأخواتنا الروهينغيون لم ‏تستثر حكام العالم الإسلامي ليقوموا بأي رد، وتلك الطغمة الحاكمة لم تكتف فقط بأنها لم تتحرك ‏لمساعدتهم، ولكنهم ما زالوا مستمرين في إغلاق الحدود ويرفضون توفير أي ملجأ آمن لهم، وهم سعداء ‏فعلًا بمشاهدتهم للإرهاب أو الإغراق في عرض البحر جراء الأعمال التي يمارسها النظام هناك. إن كل ‏ما يحدث هو تذكير بالحاجة الملحة لإزالة تلك الأنظمة التي لا ترحم وإقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة ‏التي ستفتح حدودها لجميع المسلمين المضطهدين، وتوفر لهم الحياة الكريمة وتذيق أعداءهم وبال أمرهم ‏بتحريك كامل قوتها العسكرية.‏

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. نسرين نواز
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست