الخبر: أمرت الحكومة الكينية مساء السبت بنقل مخيم داداب للاجئين أكبر مخيم في العالم الذي تديره الأمم المتحدة إلى الصومال في غضون ثلاثة أشهر. ووفقا لوكالة دبا الإخبارية، يضم المخيم الذي يقع في شمال شرقي كينيا حوالي 350 ألف لاجئ صومالي كانوا قد فروا من الحرب والمجاعة في وطنهم، وقال نائب الرئيس وليام روتو إنه إذا فشلت المفوضية العليا للأمم المتحدة لشؤون اللاجئين في نقل اللاجئين فإننا "سننقلهم بأنفسنا". وقال متحدث باسم المفوضية إن المنظمة لم تتلق طلبا رسميا من كينيا بإغلاق المخيم الذي افتتح في عام 1991، ويأتي طلب روتو بعد أكثر من أسبوع بقليل من الصدمة التي تعرضت لها كينيا نتيجة لهجوم إرهابي على حرم جامعي والذي أسفر عن مقتل أكثر من 150 شخصا. (المصدر: رويترز، نيل نت أونلاين) التعليق: مرض عضال، وداء مُعدٍ استفحل وانتشر كما النار في الهشيم في بلاد الإسلام، لم تمنعه الحدود ولم تقف دون امتداده القيود، إذ يشهد العالم الإسلامي منذ سنوات رحلة عذاب مستمرة بحثاً عن الاستقرار السياسي والمجتمعي، بعد أن عصفت به الفتن والاقتتال الداخلي، وتلاعبت الدول الطامعة في مصيره، حيث اشتد وحمي وطيس النزاع بين أطيافه وأطرافه السياسية ليحصل كل طرف منها على انتصار سياسي ولو كان على حساب أرواح الناس، فيأتي الصومال متصدرا المشهد؛ حروب أهلية وفتن داخلية بأيادٍ خارجية تعصف به.. قتال دائم وخطر إبادة قائم، جوع أنهك قواهم، وحروب استحال معها الأمن والاستقرار، فوضى على فوضى تشهدها البلاد! ذلك هو حال الصومال، البلد الذي يمتلك أطول ساحل في أفريقيا وكان بإمكانه بموقعه الاستراتيجي هذا أن يكون دولة اقتصادية كبيرة نظراً لما يمتلكه من ثروات بحرية هائلة والتي يمكن أن تدر عليه ملايين الدولارات سنوياً، غير أن واقع الحال الذي يشهده منذ قرابة ربع قرن من الزمن لا يبشر بالخير ولا يبث أي شعاع أمل! إذ بات الصومال مثلاً يُضرب في استفحال الفقر، وانتشار الأمراض والأوبئة والجهل، والنزاعات المسلحة التي فتكت به.. فأصبح كقنبلة موقوتة على موقد نار مشتعل. فما كان من أهله بعد معاناتهم ومآسيهم التي يشهدونها داخل الصومال إلا حزم أمتعتهم ولملمة جراحهم وما بقي لهم من بصيص أمل في الحياة وشد رحالهم إلى أقرب بقعة ينشدون فيها الأمان، فرارا بأرواحهم وحفاظا عليها.. فتدفق آلاف اللاجئين الصوماليين إثر ذلك على كينيا في محاولة للهرب من الحروب الطاحنة والاقتتال والفتن الداخلية والتي أتت على الأخضر واليابس، ناهيك عن الجوع الذي يعانونه ونقص الخدمات الصحية وسوء التغذية، ليصلوا مخيمات هي أشبه بسجن كبير، عانى فيه الصوماليون حصاراً خانقاً، وأوضاعاً مأساوية، وذلاً لا يوصف، ما بين خوف واضطهاد واعتداء لم تسلم منه حتى النساء... فهذا حالهم في مخيمات داداب للاجئين حيث تشكل مدينة داداب الكينية المعقل الرئيسي للاجئين الصوماليين، فيصل تعدادهم فيها إلى ما يزيد على 350 ألف شخص، وهو من المعسكرات سيئة السمعة الواقعة في المناطق الأكثر فقرا في كينيا، ومما أجج موقف كينيا من وجود اللاجئين على أراضيها، هو الخطر الذي يشكله المقاتلون أو من يسمون حركة الشباب المجاهدين من قيامهم بأعمال تخريبية وإرهابية على حد قولهم تؤدي لزعزعة أمن البلاد واستقرارها، خاصة بعد حادثة هجوم متطرفين إسلاميين على جامعة بلدة غاريسا الذي خلف 148 قتيلا بينهم 142 طالبا، قرب الحدود مع الصومال... على إثرها ستشهد كينيا تحولا سياسيا تجاه الصومال تشبها بحال أمريكا بعد هجمات 11 أيلول/سبتمبر. كما صرح وليام روتو نائب الرئيس الكيني، بأن بلاده بصدد تشييد جدار عازل بطول 700 كيلومتر على طول الحدود مع الصومال لمنع تسلل مسلحي حركة الشباب الصومالية المتشددة، مضيفا "علينا أن نؤمن هذا البلد مهما كان الثمن حتى لو خسرنا أعمالنا مع الصومال". وبهذا تكون قد زادت الفرقة وعم الشتات وآتت حملات تشتيت المسلمين وتمزيقهم أكلها، فما سعى له الغرب ويكيد لتحقيقه ويدفع بأجهزته ومؤسساته التخريبية تقوم بتنفيذه بأيد إسلامية صرفة، فها هو بلد إسلامي يوصد أبوابه وحدوده وينوي ترحيل وطرد من هم على أراضيه، وقد شهدوا الذل والهوان بأم أعينهم، ينوي طردهم وراء حدوده مهددا الأمم المتحدة إن لم تقم بترحيلهم خلال مدة قدرها 3 شهور فسيقوم هو بذلك... حقيقة لا يختلف موقف كينيا كثيرا عن موقف بلاد الجوار من لاجئي الشام واليمن والعراق، فمصيرهم إن بقوا في بلادهم بالقتل والهلاك محتوم، وبالذل والقهر والمهانة إن لجأوا إلى الجوار حالهم معلوم.. فأي حال وصل له المسلمون في بلادهم وعلى أراضيهم، شتّتت أركانهم حدود سايكس- بيكو وجعلتهم غرباء لاجئين في أوطانهم، قطعت أوصالهم ومزقتهم شر ممزق، حتى أصبح أبناء البلد الواحد يتنكب لأهله وأبناء جلدته.. أين أمة الإسلام من قول المصطفى صلى الله عليه وسلم: «مَثَلُ المؤمنين في تَوَادِّهم وتراحُمهم وتعاطُفهم: مثلُ الجسد، إِذا اشتكى منه عضو: تَدَاعَى له سائرُ الجسد بالسَّهَرِ والحُمِّى» وقوله صلى الله عليه وسلم: «المسلم أخو المسلم، لا يظلمه، ولا يخذله، ولا يكذبه، ولا يحقره».. إن الأمة اليوم لن يتغير ولن ينصلح حالها ولن يستقيم أودها إلا بتحرير رقبتها من أنظمة الذلة والمهانة، وخلعها من جذورها، وتشييد صرح الإسلام كيانا منيعا راعيا وذائدا عن الأمة، حاميا لبيضتها ومطبقا لشرع الله فيها.. كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريررائدة محمد
خبر وتعليق الصومال بين تآمر دولي أنهكها وتخاذل إقليمي فت في عضدها
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست