خبر وتعليق   السيسي يمهد لتدخل عسكري مصري أوسع في اليمن
خبر وتعليق   السيسي يمهد لتدخل عسكري مصري أوسع في اليمن

الخبر: نشرت جريدة "الشرق الأوسط" خبرًا فكان مما جاء فيه: "في أقوى إشارة على عزم مصر توسيع مشاركتها في عملية «عاصفة الحزم» التي تقودها السعودية لدعم السلطة الشرعية في اليمن، قال الرئيس المصري عبد الفتاح السيسي إن «مصر لن تتخلى أبدًا عن أمن الخليج»، وذلك عقب جلسة طارئة للمجلس الأعلى للقوات المسلحة أمس. ولمّح إلى اجتماعات مرتقبة لمجلس الدفاع الوطني ومجلس الأمن القومي المصري ومجلس الوزراء، وهي إجراءات دستورية لازمة للموافقة على مشاركة القوات المسلحة في عمل عسكري خارجي. وبث التلفزيون المصري الرسمي أمس كلمة الرئيس السيسي، الذي ظهر محاطًا بقادة المجلس الأعلى للقوات المسلحة، عقب اجتماع المجلس الذي استغرق أكثر من ست ساعات. وقال الرئيس المصري في رسالة لمواطنيه «شعرت بأن هناك قلقًا لدى الرأي العام في مصر (تجاه المشاركة المصرية في حرب اليمن)، لكن حين نقول إننا نقف وندافع عن أشقائنا فهذا أمر ليس خاضعًا للنقاش.. ومصر لن تتخلى أبدًا عن أشقائها في الخليج. نحن قادرون على ذلك، وسنقوم معهم بحمايتهم والدفاع عنهم إذا تطلب الأمر ذلك»." التعليق: ظهور الرئيس السيسي محاطًا بقادة المجلس الأعلى للقوات المسلحة، عقب اجتماع المجلس الذي استغرق أكثر من ست ساعات، يعني أن القيادة السياسية في مصر في حالة استنفار شديد، وأن القوات المسلحة في حالة تهيئة وتعبئة قصوى، وأنها وضعت على أهبة الاستعداد. الأصل في كل من شاهد هذه الحالة، أن يتوقع أن الجيش المصري سَيُيَمّمُ وجهه شطر فلسطين والمسجد الأقصى ليحررهما من يهود، أو أنه سينطلق تلبيةً لاستغاثات أهل الشام ليعتقهم من مجازر بشار وجرائمه. لكن سرعان ما بدد السيسي هذا الحلم بقوله: "إن قضية اليمن بحثت على مدار ست ساعات في المجلس الأعلى للقوات المسلحة، وهناك اجتماعات أخرى مع مجلس الدفاع الوطني ومجلس الأمن القومي ومجلس الوزراء، لأن الأمور تبحث بشكل مؤسسي، لكننا نضع إطارًا آخر كلنا نتوافق عليه، وهو أن حماية الأمن القومي العربي لن تكون إلا بنا جميعًا، ولن يدير أحد أبدًا ظهره للآخر، هذا موضوع في غاية الأهمية". وهذا ما يبين كذب السيسي ودجله، إلا إذا كانت فلسطين، وسوريا، والعراق خارج إطار الأمن القومي العربي الذي يجب عليه حمايته، على حد تعبيره، هذا من ناحية. ومن ناحية أخرى فإنه يفضح حقيقة اشتراكه في حرب اليمن، وأنه ليس من أجل اليمن وأهله، ولا من أجل الخليج وأمنه، وإنما جاءت مشاركته بأوامر من سيدته أمريكا لتنفيذ سياساتها وتحقيق مصالحها في اليمن، حيث أدركت أمريكا "أن أتباعها الحوثيين قد أصبحوا في حيص بيص، فتمددوا في البلاد، فلا هم يستطيعون الهيمنة ولا هم يستطيعون الرجوع إلى ما كانوا عليه من قوة في مسقط رأسهم، فكان أن رأت أمريكا أن تنقذهم بعمل عسكري محدود تصطاد به عصفورين بحجر واحد، فتبرزهم معتدًى عليهم بعد أن استقر في أذهان الناس عدوانهم، وتوجد أجواء تفاوض ضاغطة للحصول على الحل الوسط كعادتها بالنسبة لما لا تستطيع أخذه وحدها... وقد اتضح هذا من متابعة ما جرى ويجري، فالسعودية تشاورت مع أمريكا قبل العمل العسكري، والذين يقومون بالدور العسكري الفاعل هم عملاء أمريكا، وبخاصة سلمان ملك السعودية والسيسي الرئيس المصري...." وقال السيسي «من يقترب من أشقائنا في الخليج سنتصدى له بقوة. أقول هذا الكلام للمصريين قبل أي أحد آخر». وكأن الذين تزدحم بهم سجونه والذين يعذبون في باستيلات التحقيق ليسوا إخوته، وكأن الذين يُقتِّلهم في سيناء، ويدمر بيوتهم في رفح ليسوا أبناءه وإخوانه، وكأن أهل غزة الذين يشدد الخناق والحصار عليهم ليسوا أشقاءه، أو أن المسلمين في سوريا الذين يتواطأ عليهم مع المجرم بشار ليسوا هم أشقاءه، فحسبنا الله عليه من كذاب أشر. "هؤلاء هم حكامنا، وهم المصيبة الكبرى التي ابتلينا بها، ولم نبذل الوسع للتخلص من تلك المصيبة فعمّنا البلاء، وضاعت البلاد وأكثروا فيها الفساد... ثروتنا نهبت، ودماؤنا سفكت، ونسينا قول الله سبحانه: ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾، وقوله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا ظَالِمًا، فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ» أخرجه الترمذي من طريق أبي بكر رضي الله عنه. هؤلاء هم حكامنا، فلسطين أرض الإسراء والمعراج أولى القبلتين تستغيث فلا يغيثون، تستنصر بهم فلا ينصرون كأن في آذانهم وقرًا وعلى أعينهم غشاوة... ولكنهم يهرولون خانعين لتنفيذ مصالح الكفار المستعمرين، فلا ترى طائراتهم ودباباتهم وبوارجهم متحركة في وجه أعداء الإسلام والمسلمين، بل تكون في ثكناتها رابضةً بل نائمةً، ولكنها تصحو وتزمجر بإشارة من بنان دهاقنة السياسة الذين لا يرقبون في مؤمن إلًا ولا ذمة... يظهر الحكام بمظهر الكبار على أهل البلاد، ولكنهم أقل من الصغار أو دون ذلك أمام الأعداء، قاتلهم الله أنى يؤفكون." ﴿هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآئِكَةُ وَقُضِيَ الأَمْرُ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ﴾ كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرمحمد عبد الملك

0:00 0:00
Speed:
April 08, 2015

خبر وتعليق السيسي يمهد لتدخل عسكري مصري أوسع في اليمن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست