خبر وتعليق   الولايات المتحدة تقدم لأوزبكستان معدات عسكرية
August 14, 2014

خبر وتعليق الولايات المتحدة تقدم لأوزبكستان معدات عسكرية


الخبر:


ذكر موقع (أنهور دوت يو زد) أن وزارة الخارجية الأوزبكية استضافت في طشقند في التاسع والعشرين من تموز/يوليو اجتماعا مع قائد القيادة المركزية للقوات المسلحة للولايات المتحدة الجنرال لويد جيمس، وقد تم التوقيع على مسودة اتفاق بين أوزبكستان والولايات المتحدة، تقوم الولايات المتحدة بموجبه بتقديم معدات الحماية الذاتية وأجهزة التصوير الحرارية لحرس حدود الدولة ولدائرة الأمن القومي، اعتمادا على قرار مجلس الوزراء رقم 190 الصادر في 2014/07/11م الذي ينص على إيجاد "التدابير اللازمة لجذب وسائل التكنولوجيا والمنح من الدول المانحة والمنظمات الدولية الأجنبية الحكومية وغير الحكومية بين 2014 و2016)

التعليق:


إن حقيقة الأمر هي أن الولايات المتحدة تقوم بسحب قواتها تدريجيا من أفغانستان، وحتى تقوم بذلك، فإنها تحتاج إلى ممر لسحب قواتها ومعداتها، والكثير من تلك المعدات قديمة وغير صالحة للعمل. لذا فإن إخراج كل هذا الحمل الكبير من المعدات كلها سيكون مكلفا، وخاصة أن هذه الأشياء لن تجد من يرغب فيها في داخل أمريكا. إلا أن ترك هذه المعدات في أفغانستان، يمكن أن يشكل تهديدا لاحتمال استخدام هذه التقنية وهذه المواد من قبل المجاهدين. إن منح الولايات المتحدة هذه المعدات لأوزبكستان يفيدها في أربعة أمور:


1. تتخلص من الحمولة وعبئها غير الضروري،

2. يساعدها في إعادة تشكيل السلطة في أوزبكستان بحوار بناء،
3. توفير ممر لدفع المعدات غير الضرورية والتي عفا عليها الزمن،
4. إحداث اختلال في ميزان القوى العسكرية بين جمهوريات آسيا الوسطى، لصالح أوزبكستان وتقليل الاعتماد على روسيا في المعدات والإمدادات العسكرية.


ومن الجدير بالذكر أنه تم حل هذه المشكلة قبل سنتين. حيث ذكرت صحيفة نيويورك تايمز نقلا عن مصادر في حلف شمال الأطلسي أن أوزبكستان طلبت بشكل غير رسمي من سلطات الولايات المتحدة وألمانيا والمملكة المتحدة إبقاء الأجهزة والمعدات العسكرية الموجودة في أفغانستان لأوزبكستان. وفي نهاية عام 2012، تلقى حلف شمال الأطلسي طلبا من أوزبكستان لمساعدتها في مجال التعليم العسكري. وقد أشار إلى ذلك الأمين العام للحلف أندرس فوغ راسموسن في بروكسل، خلال التقرير السنوي للناتو.


في الماضي، قدمت أوزبكستان للولايات المتحدة قاعدة جوية في خان أباد في منطقة كاشكاداريا في الفترة بين عامي 2001 و2005، إلا أن أوزبكستان طردتها من هذه القاعدة في عام 2005 بعد انتقاد الولايات المتحدة للسلطات الأوزبكية بعد أحداث أنديجان. ومنذ أواخر عام 2001، قدمت أوزبكستان كذلك مطارا مدنيا بالقرب من مدينة ترمذ. ومنذ العام 2008، أعطي الإذن لممثلي الولايات المتحدة باستخدام قاعدة البيانات. تقع مدينة ترمذ على الحدود مع أفغانستان، ويفصل بينهما نهر أمو داريا.


صحيح أن أمريكا تريد سحب قواتها من أفغانستان إلا أنها في الوقت نفسه لا تريد أن تنهي وجودها العسكري في المنطقة. وبوجود حكام جشعين مستبدين في هذه المنطقة، لا يؤمنون بالله ولا باليوم الآخر، فإن من السهل على الولايات المتحدة أن تجد لها حلفاء من بينهم من أجل أن تستمر في استعمار بلاد المسلمين. والنظام المجرم في أوزبكستان المتمثل في كريموف هو مثال صارخ لهذا.


فهو نظام يضطهد المسلمين ويسجن حملة الدعوة فيهم ويعذبهم ويقتلهم. ونظام هذه حاله لا يهمه بالتأكيد مصير إخواننا في أفغانستان. إن الشعب الأفغاني بمختلف أعراقه وقبائله هو شعب مسلم تماما كما هي الحال بالنسبة لشعب أوزبكستان. وكلنا نعلم أن حاكم كابول عاصمة أفغانستان في عام 1504، هو من مواليد أنديجان وهو ظاهر الدين محمد بابور، فهل ترون كم نحن قريبون من بعضنا البعض!


أيها المسلمون! إن الولايات المتحدة هي عدو واضح ومستعمر لأراضينا. فقد شنت حربا وحشية، دون مراعاة لأي قواعد، فقتلت النساء والأطفال والشيوخ، ودمرت بشكل كامل حياة إخواننا وأخواتنا في أفغانستان. فقد قدرت مصادر "مستقلة" عدد الضحايا من المدنيين في أفغانستان منذ اندلاع الحرب في عام 2001، بأنها تتراوح ما بين 14 و34 ألفا. كما ذكر تقرير صادر عن منظمة العفو الدولية (أمنستي) عام 2012 بأن "500 ألف أفغاني فروا من منازلهم هربا من الحرب، وقد تخلت الحكومة والمجتمع الدولي عنهم ليواجهوا مصيرهم بأنفسهم". لا شك أن هذه الأرقام هي أقل بكثير من الأعداد الحقيقية.


أيها المسلمون! إن الاتفاق الذي تم بين الولايات المتحدة والنظام المجرم في أوزبكستان لا يتعدى كونه واحدا من المؤامرات ضد أمة النبي محمد عليه الصلاة والسلام على أرضنا في أوزبكستان، حيث تريد الولايات المتحدة مواصلة جرائمها؛ فهي بمساعداتها العسكرية لأوزبكستان، ترغب في تقوية نظام الطاغية كريموف المستبد، الذي استولى على السلطة عن طريق الغش والخداع. وفي المقابل سوف تكون قادرة على إرسال طائراتها بطيار وبدون طيار إلى أفغانستان ومواصلة قصف إخواننا وأخواتنا هناك.


أيها المسلمون، إلى متى الجلوس والخنوع ومشاهدة المستعمرين يتآمرون على الإسلام والمسلمين، ويغتصبون أرضنا، ويقتلون إخواننا وأخواتنا!؟ وإلى متى سنبقى خاضعين تحت حكم المرتدين الذين يرفضون تحكيم القرآن الكريم والسنة الشريفة!؟ فلا تقفوا ساكنين حيال معاهدات تحاك ضد الإسلام والمسلمين! ولا تكونوا شركاء بصمتكم عن المؤامرة الإجرامية.


يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنت على ثغرة من ثغر الإسلام فلا يؤتين من قبلك»


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
إلدر خمزين
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست