خبر وتعليق   أليْسَ الصَّهاينَة وأعْدَاءُ الإسْلامِ أوْلَى بعَاصِفتِكُم يَا حُكَّامَ المُسلِميْن؟!
خبر وتعليق   أليْسَ الصَّهاينَة وأعْدَاءُ الإسْلامِ أوْلَى بعَاصِفتِكُم يَا حُكَّامَ المُسلِميْن؟!

الخبر: نشرت جريدة "الشرق الأوسط" بتاريخ 17 نيسان/أبريل 2015 حديثا مطولا لوزير الخارجية القطريّ خالد العطية أجرته معه بمناسبة وجوده في العاصمة الفرنسية باريس في زيارة رسمية، نجتزئ منه ما يتعلق بالأزمة اليمنية وما سُميَ (بعاصفة الحزم)... جاء فيه: «... نتحدث أولا عن بداية العملية - أي: "عاصفة الحزم" - التي نعتبرها شرعية ولا تحتاج أصلا لقرار من مجلس الأمن، وذلك بموجب ميثاق الأمم المتحدة والمادة (51) منه، لأنها تمت بطلب من الرئيس الشرعي (الرئيس هادي) بعد أن قامت الجماعات المسلحة (الحوثية) باحتلال العاصمة صنعاء واعتقلوا الرئيس ووضعوه قيد الإقامة الجبرية، وكذلك رئيس الحكومة ومسؤولين آخرين... وبالتالي كان الغرض مساعدة الرئيس واليمن في إعادة الشرعية والاستقرار والأمن... إذن الطلب في الأصل مبني على قرار شرعي.».   التعليق: إن الحديث عن "الشرعية" كلام مكرر مملول تَعلمهُ حكام الضرار من أسيادهم في الغرب الكافر، فإن رضوا أمرا وصفوه بالشرعيّ، فتواطؤ شعبٍ على الرضا بحاكم ولو كان بالإملاء والتزوير يُعد شرعيا، كما هو الشأن في انتخابات الرئاسة والمجالس التشريعية في بلادنا، وما تبنته المنظمات الدولية من قوانين وقرارات يسمونه شرعية دولية، وهم متناقضون حتى فيما اصطلحوا عليه..! فما يحسبه البعض شرعيا، ينكره آخرون بحسب اختلاف ولائهم والفلك الذي يدورون فيه... وكل هذا - من وجهة نظرنا - متهافت ليس له نصيب من الحق، إذ القبول به والتحاكم إليه تحاكمٌ إلى الطاغوت الذي أمِرنا بالكفر به، قال سبحانه منكرا على أمثال هؤلاء: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ﴾، وذلك أن الأصل في الشرعيّ ما شرعه الله عز وجل في كتابهِ الكريم، أو سُنة رسولهِ عليه الصلاة والسلام، قال تعالى: ﴿ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾، فأين هذا من ذاك..؟ وقول وزير خارجية خالد العطية: بأن «العملية العسكرية لا تحتاج أصلا لقرار من مجلس الأمن»، فذلك لأن أمريكا هي من أعطى الضوء الأخضر للشروع فيها، وما مجلس الأمن إلا بعض أدوات سطوتها العالمية. يؤيد ذلك أن سفير السعودية عادل الجبير صرح في 2015/03/26م بأن السعودية تشاورت مع الولايات المتحدة في العملية العسكرية التي بدأت ضد الحوثيين (الجزيرة نت)، كما نقلت (وكالة رويترز) عن مسؤول أميركي - اشترط عدم نشر اسمه - قوله: إن السعودية نسقت مع الولايات المتحدة قبل العملية التي أطلق عليها "عاصفة الحزم". ونقل موقع (روسيا اليوم): عن البيت الأبيض أن الرئيس الأمريكي باراك أوباما أجاز تقديم مساعدة لوجستية ومخابراتية لدعم العملية العسكرية التي تقودها السعودية في اليمن لدحر مقاتلي جماعة الحوثي... فأيُّ حزم ذاك الذي تدَّعونه أيها التابعون الصِّغار، فلا تضيفوا إلى هُزالِكم بطولات لا وجود لها فيصدق فيكم قول النبيّ صلى الله عليه وسلم: «المتشبِّعُ بما لم يُعطَ كلابس ثوبَي زور»، وقد صدق فعلا. وهنا يَرِدُ اعتراضٌ على كلام هذا المتفيقه: أليس طاغوت العراق المقبور صدام كان ذا شرعيةٍ رسميةٍ كما زعمتم، وجاء عبر انتخابات ولو صورية كما هو الشأن في حاكم اليمن.؟! فلماذا - إذن - سمحتم لأمريكا باحتلال العراق وتفتيت مؤسساته، وتمزيق شعبه الواحد، ولم يكن لدى الكافر المحتل أيُّ تفويض "شرعي" من مجلس (الأمن)..؟! أم أن أمريكا هي ولية نِعَمِكم وحامية عروشكم الزائفة الظالمة..؟! ثم أين كانت يومَها نخوة آل سعود، أو اتفاقية الدفاع المشترك، أو جامعة الدول العربية.؟! أليس العراق جزءًا لا يتجزأ من بلاد المسلمين، وله الحق في الأمن والأمان كما اليمن.؟! ﴿فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ﴾.. وأما قوله: كان الغرض مساعدة الرئيس واليمن في إعادة الشرعية والاستقرار والأمن، فمحض كذب وادِّعاء.. وكل متابع للأحداث يعلم أن (عاصفتهم) المزعومة لم تكن إلا تنفيذا لأوامر أمريكية، وحربا بالوكالة عن (السيد) الأمريكي: وقودها المسلمون المستضعفون، ثم البنى التحتية التي أنشِئت من قوت عيالهم يجري تدميرها لإيجاد أوضاع وخلق مبررات تسوِّغُ تدخله لتشكيل المنطقة مجددا بما يخدم مصالحه هو، والثمن بقاء عروش الظالمين من آل سعود وباقي المشيخات لحقبة أخرى. ولا مناص من سؤال نطرحه في هذا السياق على الوزير المفوَّه فنقول: أليست بلاد المسلمين وحدة واحدة ولم يفصل بينها إلا حدود مصطنعة رسمها عدوٌّ متربصٌ لا يريد الخير لهم؟ ثم أليس المسلمون في اليمن وغيره كالجسد الواحد «تتكافأ دماؤهم يسعى بذمتهم أدناهم ويجير عليهم أقصاهم» كما أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فلماذا الانتقائية؟ أم أنها وساوس الشيطان الأكبر ليكرس واقع التجزئة؟ وهذه جراح المسلمين تثعب دما في فلسطين والشام والعراق وسواها، فماذا عملتم لوضع حد لأوجاعهم أو لسد جوعتهم أو لانتشالهم من واقع سيئ مرير؟ هل غابت نخوتكم وصُمَّت آذانكم عن سماع أنين الثكالى واليتامى والمحاصرين؟ لم نسمع ردكم، ودحضت حجتكم. لكم تمنينا أن تصول وتجول طائراتكم وصواريخكم فتُعلِم يهود عزة المسلمين إذا ما انتخوا لنداء الله عز وجل لتحرير مسرى نبيه عليه الصلاة والسلام وقبلة المسلمين الأولى، قاتلكم الله أنى تؤفكون؟ وأخيرا، فإن دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة قائمة قريبا بإذن الله تعالى من جديد، وعلى أنقاض هذا الحكم الجبري الفاجر، فهي وعده سبحانه ﴿وَعْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾، وبشرى رسوله عليه الصلاة والسلام: «ثم تكون خلافة على منهاج النبوة»، وحينها سينتزع الخليفة الراشد حق المسلمين من كل ظالم، ويرتفع لواء العدل والخير، وينعم الناس، كل الناس بالأمن على أرواحهم وأعراضهم وأموالهم، مهما اختلفت أديانهم وألوانهم، فإن شرع الله يسع الجميع فهو خالقهم والخبير بما يصلحهم، ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾.       كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرعبد الرحمن الواثق - بغدادالمكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية العراق

0:00 0:00
Speed:
April 20, 2015

خبر وتعليق أليْسَ الصَّهاينَة وأعْدَاءُ الإسْلامِ أوْلَى بعَاصِفتِكُم يَا حُكَّامَ المُسلِميْن؟!

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست