خبر وتعليق أمريكا حضارة قامت على دماء الأبرياء فكيف يصدقها عاقل في ادِّعائها نشر السلام في بلاد الإسلام؟!
خبر وتعليق أمريكا حضارة قامت على دماء الأبرياء فكيف يصدقها عاقل في ادِّعائها نشر السلام في بلاد الإسلام؟!

  الخبر: ذكر موقع (CNN بالعربية 2015/4/5) بعنوان "دعوى قضائية ضد مؤسسات أمريكية مرموقة متهمة بنقل أمراض جنسية للتجارب بغواتيمالا الفقيرة" أنَّ عدداً من المرضى المصابين بأمراض منقولة جنسياً قاموا برفع دعوى قضائية على جامعة جونز هوبكينز ومؤسسة روكيفيللير بتهمة تعمد هاتين الجهتين نقل هذه الأمراض إلى سكان من غواتيمالا منذ عام 1945 ولغاية عام 1956. حيث ذكر الخبر أن هاتين المؤسستين تعمدتا حقن أيتام وسجناء ومرضى الأمراض العقلية وفتيات الهوى بالفيروسات المتسببة بالأمراض المنقولة جنسياً، لتحديد أي أدوية، من بينها البنسلين، يمكنها أن تعمل على إيقاف هذه الأمراض، مما أدى إلى موت بعضهم ونقل الآخرين الأمراض إلى أزواجهم وأقربائهم وأطفالهم، حسب الدعوى؛ كما ذكرت إنكار المؤسستين لما جاء في الدعوى المرفوعة.     التعليق: يضرب المثل في الهندية: "يبكي الثعلب على الأغنام بالتبلل من الأمطار". وهذا حال أمريكا تغطي على جرائمها البشعة بحق الإنسانية عبر أكذوبة نشر السلام. فالناظر لما تقوم به أمريكا والغرب كله من تحرك جدِّي، وعمل دؤوب لضرب الحوثيين في اليمن، وتنظيم الدولة في الشام والعراق، نظرةً عابرةً ساذجةً قد يظن بها خيراً ويصدق دعواها الخوف على اليمنيين والحرص على دماء أهل الشام ومقدرات هذه الأمة؛ إذ ما الذي يجبرها على تحريك أساطيلها وقواتها، بل وتكوين حلف من خمسين دولة لضرب تنظيم الدولة وأقل منها لحرب الحوثيين؟ لكن الناظر إلى تاريخ أمريكا يدرك أن الأمر ليس بالتأكيد - وقد خبرنا عداوة أمريكا للمسلمين من قبل، ورأينا حضارتهم في أبو غريب وغوانتانامو - حرصاً على أمة الإسلام ولا نشراً لقيم العدالة والسلم التي تتغنى بهما في بلادنا. فأمريكا قد أفسدت بعنجهيتها الكون، فلم يسلم من وحشيتها بشر ولا حجر ولا حتى الشجر. تدَّعي الحرب على الإرهاب بينما أثبتت منذ نشأتها وإبادتها لأكثر من مليون من الهنود الحمر - على أقل تقدير حسب الإحصائيات - عبر حرقهم وحقنهم بأمراض الجدري والسل والتيفوئيد، وسلخ رؤوسهم والتباهي بها، حيث أنجبت للمعمورة أمثال السفاح لويس ويتزل Lewis Wetzel الذي اتُّهِم بقتل مئات الهنود عبر اصطيادهم كالحيوانات! وحقنها لمواطنين من أصول إفريقية في ألاباما بأمراض معدية لإجراء التجارب عليهم، وأخيراً وليس آخراً ما جاء به الخبر من حقنها بالأمراض المنقولة جنسياً لسجناء سابقين وأيتام ومصابين بالأمراض العقلية بين عامي 1945 - 1965. بل لقد شهد العصر الحديث قيام جنودها في العراق وأفغانستان بقتل وحشي للرجال والشيوخ وانتهاك لأعراض النساء، ما يدل على عقلية استعمارية تقوم على القتل والتدمير والسلب، لأجل تحقيق المكاسب وإشباع الجشع الأمريكي.   فيا أيها المسلمون: إن أمريكا هي أمّ الإرهاب ورأس الشرور، قد بان عوار مبدئها، وظهر للقاصي والداني ظلمها وعتوُّها، بل لقد ضاق أهلها بها ذرعا، ورفعوا شعاراً يقر بفشل الرأسمالية عن رعاية البشرية وحاجتها لمبدأ جديد ينظم العيش ويعمر الكون ليتحقق معنى الاستخلاف للإنسان في الأرض. فهل دولةٌ تقوم بقتل البشر ونقل الأمراض لهم للتجارب، أهلٌ لنشر السلام في العالم؟ وهل يصبح الجلاد يوماً طبيباً لضحاياه؟ أليست أمريكا التي تحارب الحوثيين وتنظيم الدولة اليوم بحجة حمايتكم هي نفسها التي مكَّنت بشار وعلي صالح من قبل والحوثيين والائتلاف والتنظيم من بعد من قتلكم؟ أليست هي التي مكَّنت يهود من مسلمي فلسطين، والبوذيين من مسلمي بورما، والروس من مسلمي الشيشان؟ فكيف تصدِّقونها بكذبها وتعينونها على إجرامها؟ أيها المسلمون، يا خير أمة أخرجت للناس، لتخرجهم من الظلمات إلى النور: من غير مبدأ الإسلام ينقذ البشرية من ظلم الرأسمالية وظلامها؟ ومن غير الإسلام مبدأً يطبق في دولةٍ أهلٌ لقيادة البشرية نحو خلاصها وعمارتها للأرض؟ ومن غير الخلافة الراشدة على منهاج النبوة تنقذ البشرية من جشع الرأسمالية التي تنشر الداء وتحتكر الدواء لتربح الأموال؟ حيث يشترط في من يقدم الرعاية الصحية في دولة الخلافة، سواء أكان فردا أم شركة، أن يلتزم بقوانين الدولة ورقابتها، ويشترط أيضا أن يكون من يقدم أيا من الخدمات الصحية مؤهلا لذلك، سواء أعمل في القطاع الخاص أو العام، ومن يقدم أي خدمة صحية دون أن يكون مؤهلا لتقديمها يمنع من قبل الدولة ويعاقب، وأما إذا أدى إلى ضرر بعمله هذا فهو ضامن لما سبب من ضرر بإقدامه على ما ليس من اختصاصه. يقول الماوردي في الأحكام السلطانية عند حديثه عمن يؤخذ ولاة الحسبة بمراعاته من أهل الصنائع: "فأما من يراعي في عمله في الوفور والتقصير: فكالطبيب والمعلمين؛ لأن للطبيب إقداما على النفوس يفضي التقصير فيه إلى تلف أو سقم،... فيقر منهم (أي الأطباء والمعلمون) من توفر عمله وحسنت طريقته، ويمنع من قصر وأساء من التصدي لما يفسد به النفوس وتخبث به الآداب." وينقل القرافي في الذخيرة عن الإمام مالك قوله: "ينهى الإمام الأطباء عن الدواء إلا طبيبا معروفا، ولا يشرب من دوائهم إلا ما يعرف". وروى أبو داود والنسائي وابن ماجه وغيرهم عنه صلى الله عليه وآله وسلم قوله: «مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ». فدولة الإسلام دولة رعاية لا دولة جباية، تحمل الإسلام رحمةً للعالمين. يضع الخليفة فيها نصب عينيه حديث رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم «الإمام راعٍ وهو مسؤولٌ عن رعيَّته». فهلُّم أيها المسلمون لإعادة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تعيد للإنسان قيمته، وتعيد للكون أَلَقَه. لنشر الخير في ربوع المعمورة ندعوكم. ﴿قَدْ جَاءكُم مِّنَ اللّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ * يَهْدِي بِهِ اللّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنِ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ [المائدة: 15-16]     كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرأختكم: بيان جمال    

0:00 0:00
Speed:
April 10, 2015

خبر وتعليق أمريكا حضارة قامت على دماء الأبرياء فكيف يصدقها عاقل في ادِّعائها نشر السلام في بلاد الإسلام؟!

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست