خبر وتعليق   أمريكا تلعب في بلادنا بأوراق تظنها رابحة
January 30, 2015

خبر وتعليق أمريكا تلعب في بلادنا بأوراق تظنها رابحة


الخبر:


أورد موقع روسيا اليوم بتاريخ 2015/1/27م تحت عنوان: "أوباما في السعودية.. زيارة تعزية أم تعزيز شراكة، خبرا جاء فيه:


"... وكان في استقبال أوباما والوفد المرافق له الملك سلمان شخصيا، ليكون بذلك أرفع استقبال يحظى به أي من عشرات رؤساء الدول، الذين زاروا المملكة في الأيام الأخيرة لتقديم العزاء.


كما حضر عدد كبير من الأمراء والوزراء إلى أرض المطار لاستقبال أوباما، الذي كانت آخر زيارة له إلى المملكة في مارس/ آذار 2014..


ورافق الرئيس الأمريكي وفد من 30 عضوا يضم مسؤولين وكذلك أعضاء عن الحزب الجمهوري.


... وقال البيت الأبيض إن الجمهوريين جيمس بيكر، وزير الخارجية في إدارة جورج بوش الأب، وبرنت سكوكروفت، مستشار الأمن القومي للرئيسين جيرالد فورد وبوش الأب كانا ضمن الوفد.


ورافق أوباما أيضا كوندوليزا رايس، وزيرة الخارجية في إدارة الرئيس جورج بوش الابن وستيفن هادلي، مستشار الأمن القومي في نفس الإدارة والسناتور الجمهوري جون ماكين.


كما حضر وزير الخارجية، جون كيري ومدير وكالة المخابرات المركزية، جون برينان، إضافة إلى سوزان رايس وليسا موناكو، مستشارتي الرئيس الأمريكي.


وصرح مسؤول كبير بالإدارة الأمريكية، من على متن طائرة الرئاسة الأمريكية لوكالة "رويترز"، بأن العاهل السعودي الملك سلمان والرئيس الأمريكي باراك أوباما ناقشا استقرار سوق النفط، وأن الملك عبر أثناء محادثاتهما عن رسالة مفادها استمرارية سياسة الطاقة السعودية."


التعليق:


صحيح أن الوفد المرافق للرئيس الأمريكي كان في الأصل في زيارة للهند وكان كبيراً من حيث العدد ومن حيث نوعية والثقل السياسي للمرافقين كما جاء في الخبر أعلاه، إلا أن الخبر يستحق الوقوف عنده من زوايا عدة:


- دعوة أوباما لزيارة الهند كانت من قبل رئيس وزراء الهند مودي وكانت سابقة لرئيس أمريكي أن يشارك في احتفال بمناسبة يوم الجمهورية، وقد استقبل استقبالا حاراً وبالأحضان من قبل الرئيس الهندي الذي يمثل اليمين الهندوسي، هذا المجرم قاتل المسلمين عندما كان حاكما لولاية غوجارت عام 2002 قتل ما يقارب ألفي مسلم نتيجة مواجهات بين هندوس ومسلمين بعد احتراق قطار وموت بعض الهندوس، ولم يكن للمسلمين علاقة بهذا الحادث، إلا أن هذا المجرم اتهم المسلمين وحرض عليهم وعلى قتلهم.


- ومن الهند يصرح أوباما أن العلاقات الآن بين الهند وأمريكا ممتازة وأنها ستكون واحدة من أهم الشراكات في القرن الواحد والعشرين؛ في رسالة إلى الصين وروسيا مفادها أن القيادة في الهند الآن على علاقة وثيقة بالسياسة الأمريكية.


- ثم تُختصر الزيارة كما أعلن ويقرر الرئيس الأمريكي أن يعرج في طريق عودته على السعودية لتقديم واجب العزاء ويشاركه في ذلك الوفد المرافق الذي كان يستطيع العودة لأمريكا كونه في طائرة أخرى غير طائرة الرئيس أوباما، لكن الهدف من الزيارة والله أعلم كان أكبر بكثير من تقديم العزاء بل كان أقرب للمباركة والتهنئة وإظهار الدعم للملك الجديد وطاقمه بدليل أن الزيارة جاءت سريعة وفي اليوم الثاني لممارسة الملك الفعلية لمهامه بعد الانتهاء من مراسم العزاء، وأوباما كان الرئيس الوحيد الذي استقبله سلمان ملك السعودية وبعدد كبير من الأمراء والوزراء.


- ثم القضايا التي بحثت خلال الأربع ساعات مدة الزيارة كانت مهمة لأمريكا وعلى رأسها النفط وأسعاره والوضع في اليمن، فهل سنرى تغيرا في السياسة السعودية تجاه هذه القضايا في قادم الأيام خاصة أن طاقم الحكم الآن بات أقرب للرؤية الأمريكية وسياستها في المنطقة.


الواقع السياسي في بلادنا يظهر أن أمريكا أصبحت في وضع مريح نسبيا لها لتنفيذ مخططاتها فعميلها المجرم بشار ما زال يقتل ويدمر وتمده بالدعم المباشر عن طريق إيران وحزبها وحكام العراق وجيشه ومليشياته، وبطريق غير مباشر عن طريق المبادرات والمؤتمرات في جنيف وموسكو وغيرها، ومصر يحكمها الجيش والسيسي بالحديد والنار وموافقة ورضا أمريكا، وليبيا حفترها يعيث فيها فساداً، وها هي اليمن تسقط في يد الحوثيين والذين تعلن أمريكا أنها تنسق معهم، والسعودية بعد موت عبد الله ومجيء سلمان ومحمد بن نايف رجل أمريكا... فهل سنرى مزيدا من القتل والحروب والتهجير والتقسيم لبلادنا، وهذا الخط الذي تسير فيه أمريكا الآن وعملاؤها وأزلامها أشباه الرجال من حكامنا الذين يأتمرون بأمرها وينفذون علينا وفينا مخططاتها الإجرامية، وينسى هؤلاء وأولئك أن لهذه الأمة عقيدة تربط أبناءها برباط لا ينفصم يربطهم ببعضهم البعض ويربطهم بالخالق رب الأكوان ورب الأرض والسموات، الذي تعهد بحفظ دينه وأوليائه ونشر دينه وإعادة سلطانه حتى لا يبقى ركن من هذه الأرض إلا وسيستظل بسلطان الإسلام والمسلمين المتمثل في دولة الخلافة على منهاج النبوة وخليفة المسلمين وهذا كائن لا محالة نكاد نراه رأي العين وهو قادم لا محالة مهما حاول الغرب الكافر وعملاؤه أن يمنعوه أو أن يؤخروه.


﴿ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين﴾




كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
حاتم أبو عجمية - أبو خليل / ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست