September 05, 2014

خبر وتعليق أمريكا تقتل المسلمين بدم بارد ومشروع الخلافة الحقيقي ماض في طريقه رغم أنفها


الخبر:


"دعا رئيس الائتلاف الوطني السوري المعارض، هادي البحرة، المجتمع الدولي والأمم المتحدة إلى التدخل ضد "داعش" في سوريا، كما تدخلوا ضده في العراق، مشيرًا إلى أن الصمت الدولي تجاه مجازر داعش في سوريا يرقى إلى مستوى جرائم ضد الإنسانية". وقرر مجلس الأمن الدولي "الموافقة بالإجماع على قطع التمويل عما يسمى تنظيم "داعش" وجبهة النصرة، ووضع عدد من الأشخاص على القائمة السوداء لارتباطهم بالجماعتين المسلحتين، والتهديد بفرض عقوبات على أي شخص يساعد الجماعتين الإرهابيتين".


التعليق:


بعد أن غُض الطرف لمالكي العراق عن احتلال الموصل بشكل هزلي ومسرحي وخلال ساعات، لا بل وترك أسلحة متنوعة لما يقارب ثلاث فرق عسكرية، وقرابة النصف مليار من الدولارات الأمريكية، تأتي مسرحية هزلية أخرى لأوباما، وبعد أقل من شهرين من تثبيت الأوضاع لتنظيم الدولة، يأتي قراره بضربها جويًا، حتى لا يتعدى على المسموح به والمسكوت عنه، وبعدها بأيام قام مجلس الأمن الأمريكي الأممي باستصدار قرار على أشخاص من جبهة النصرة والدولة، ووضعهم على القائمة السوداء واعتبارهما إرهابيتين، وأن من يساعدهما يجب عقابه؛ وعليه فإن ما تم لهذا التاريخ هو محاولات تشويه لصورة الخلافة الإسلامية المنتظرة على منهاج النبوة، واستعداء العالم عليها قبل قيامها باعتبار تنظيم الدولة أنموذجًا لها، واستسهال ضربها حال قيامها!!


وأما المطلوب الآني لتلك القرارات الدولية فهو امتداد ملاحقة تنظيم الدولة داخل سوريا على اعتبار أنه ممتد داخل سوريا وأنه يفعل أفاعيل الإرهاب وخصوصًا بالرقة في شام الثورة، وهنا بيت القصيد الأهم، فكما ضرب تنظيم الدولة في العراق فيجب ضربه وملاحقته في شام الثورة ضد نظام الأسد، وعليه تقدم الائتلاف السوري المعارض والصنيعة الأمريكية بضرب التنظيم في سوريا كما ضربته أمريكا في العراق خوفًا وحمايةً للناس من جرائمه المعلنة على رؤوس الأشهاد والفضائيات.


وهنا نجد أن القرار الدولي أشرك به جبهة النصرة السورية المعارضة لنظام الأسد، فيكون استدعاء أمريكا وضربها للدولة في سوريا استدعاءً بطريقة غير مباشرة لضرب جبهة النصرة السورية ومعها كل الفصائل المخلصة والمرصودة مسبقًا ودون ذكر اسمها بالقرار الأممي والمعارضة لنظام بشار والمطالبة بتطبيق الشريعة الإسلامية وإقامة الخلافة على منهاج النبوة التي يعمل لإقامتها المسلمون في كل أنحاء الأرض، وهنا تكون أمريكا قد ضربت عصافير عدة بحجر واحد:


1. أوجدت تنظيم الدولة تهديدًا للمنطقة بأسرها، وخدمة لمصالحها مع تحديد نفوذه.

2. أسقطت المالكي الذي هيأ لها الأرضية لعودتها للعراق والمنطقة جويًا وبكل يسر وسهولة.
3. أوجدت كل المبررات المصطنعة لإتمام تقسيم العراق بشكل طائفي.
4. هيأت الأرضية لإشعال الحرب الطائفية الكبرى متى وأين أرادت.
5. التدخل بالشأن السوري بحجة ضرب تنظيم الدولة.
6. استنساخ ما فعلته أمريكا بالعراق مع شيء من التعديل المناسب لسوريا وشعبها وموقعها الجغرافي والديمغرافي.
7. تنفيذ تهديداتها السرية لكل دول المنطقة سواء الخليج أو الأردن أو لبنان وحتى كيان يهود وتحجيمها وفرض الحل السلمي عليها.
8. إبقاء ملف المنطقة مفتوحًا على الطاولة، والعمل به متى شاءت وبأيدي أهل المنطقة واستنجادهم بها لنجدتهم من تنظيم الدولة وأمثالهم.
9. التخلص من بشار ووضع البديل المناسب على الطريقة المالكية العراقية.


وهنا نرى أن أمريكا قد أعدت المنطقة بسياسة الترهيب والتقتيل الأمريكي وبدم بارد، ودون تدخل إلا وقت تشاء هي ولمصلحتها، ولذا نجد أن أوار الصراع يحتدم بشكل سريع في العراق وسيمتد لبقية المنطقة، ولذا نجد أن بريطانيا ستشارك بغارات جوية على تنظيم الدولة لحماية الناس في العراق. وفرنسا وألمانيا صرحتا بدعم دولة كردستان العراق، ودعم البشمركا وحماية النصارى في الموصل والطائفة الأزيدية وما شاكل ذلك.


وأما على صعيد دول الخليج والأردن، فإن زيارة ملك الأردن المفاجئة إلى السعودية وترحيب السعودية بالقرار الأممي بخصوص الإرهاب في سوريا، فإن الأمر يدلل على أن النار اقتربت، وأحس بها المعسكر الأوروبي وخوفه على عروشه والتهديد الأمريكي لهم، والذي يقضي بإزالتهم وإعادة تفعيل قاعدة تقسيم المقسم على الطريقة الأمريكية، وهنا نختم ونقول: إن أمريكا تتعامل مع دول المنطقة حسب ردات الأفعال وأجواء المنطقة وتأثرها بكل ما يحيط بها من نيران مشتعلة، وتحولات سياسية سواء في حرب حماس - يهود أو انتخابات تركيا ونجاح عميلها أردوغان، وقبله نجاح العميل العتيد السيسي والحراك الجاري بالخليج وعلى نار تشتد أوارها الهوينى، ولكن أمريكا لم تغمض عينها عما تحت الرماد، والذي أقلقها وهو مرئي لكل ذي عين سياسية بصيرة، ومتابع للأحداث بشكل معقول، ألا وهو تحرك الأمة نحو مشروعها ومطلبها الأساس والأصيل وهو استعادة خلافتها على منهاج النبوة، وبشكل راشدي رحيم وعادل، فلا قتل ولا تقتيل، ولا طائفية ولا عرقية ولا إقليمية، بل أمة واحدة تحفظ حقوق رعاياها بغض النظر عن الدين والمذهب أو العرق، وبدولة وقيادة فكرية سياسية وعقائدية، بدستور ودولة بشرية لا دينية كهنوتية، تمنح صكوك غفران ومفاتيح للجنّة السماوية! دولة قائدها ورائدها لا يكذب أهله وقد شق طريقه رغم التعتيم الإعلامي الذي استطاع كسره ألا وهو حزب التحرير ودولة الخلافة الإسلامية على منهاج النبوة.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
الأستاذ وليد نايل حجازات (أبو محمد)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست