خبر وتعليق   أمريكا تقتل المسلمين وتأمر مجلس الأمن وجامعة الدول العربية للتحالف ضدهم
September 12, 2014

خبر وتعليق أمريكا تقتل المسلمين وتأمر مجلس الأمن وجامعة الدول العربية للتحالف ضدهم


الخبر:


قال مسؤول كبير في وزارة الخارجية الأميركية أن كيري والعربي "بحثا ضرورة أن تتخذ الجامعة العربية وأعضاؤها موقفا قويا في التحالف الذي يجري تشكيله في مواجهة الدولة الإسلامية.


ودعا أوباما خلال قمة الحلف الأطلسي (الناتو) الجمعة إلى تشكيل ائتلاف واسع من أجل محاربة تنظيم الدولة الإسلامية الذي يسيطر على مناطق واسعة في العراق وسوريا.


وكان الأمين العام للجامعة العربية دعا الأحد خلال الجلسة الافتتاحية للاجتماع إلى تبني قرار "واضح وحاسم لمواجهة شاملة عسكرية وسياسية" للإرهاب المتمثل خاصة في تنظيم "الدولة الإسلامية"، مطالبا بتفعيل اتفاقية الدفاع العربي المشترك.


التعليق:


أيها المسلمون عُوا لسياسة أمريكا الجديدة، فقد عزَّ عليها دماء أبنائها في أفغانستان والعراق، حيث ذاقوا الأمرين على أيدي المجاهدين أبناء المسلمين، حتى جاء أوباما ووعد شعبه بسحب أبنائهم من أرض المعارك التي يقتلون بها، وكانت الخسارة المادية والاقتصادية بما يزيد على ثلاثة تريليونات دولار، وكان الجرحى والإعاقات والأمراض النفسية والانتحار بأعداد كبيرة، لدرجة اضطرت الإدارة الأمريكية ابتداءً لتخفيض أعداد الجنود المقاتلين، ومن ثَم أصبح المطلوب عند الرأي العام الأمريكي ضرورة سحب أبنائهم من بلاد المسلمين حفاظا عليهم، فكان ذلك أحد بنود البرنامج الانتخابي لأوباما وقد وفى لناخبيه بما وعدهم من الانسحاب والمحافظة على أرواح أبنائهم، إلا أن هذا لا يعني ترك بلاد المسلمين وشأنها، فإن مصالحهم البترولية والمعدنية وكل الثروات هي مطمع لأمريكا وخصوصا أصحاب رأس المال، وهنا نجدهم انتهجوا سياسة أخرى للحفاظ على مصالحهم، وطالبوا الأمم المتحدة ومجلس الأمن والجامعة العربية باتخاذ قرارات تضع جماعات إسلامية على قائمة الإرهاب والعمل على مواجهتها، وذلك بعد أن غضت الطرف لزمن عن تمويلها بالسلاح والمال حتى أصبحت كل دول المنطقة الإسلامية تحت تهديد ما يسمى أعمال إرهابية، منها الحقيقي ومنها المصطنع على يدٍ مخابراتية بصيرة، وأصبحت كل الدول مهددة بالاجتياح من تنظيم "الدولة الإسلامية" وقد تم تضخيم الأمر إعلاميا حتى أصبح التنظيم بعبع المنطقة، وكأن لا جيوش في المنطقة، فتنظيم الدولة ابن الثلاث سنوات يجول ويصول بالمنطقة دون رقيب أو حسيب، وقد رأينا كيف اجتاح الموصل وأعلن ما يسمى "الخلافة الاسلامية" تجاوزا بل "لغوا" فكل العالم يعلم ما هي الخلافة الإسلامية وحقيقتها:
- خلافة رحمة وعدل.


- خلافة وعد بها رسولنا الكريم وكيف تكون.
- خلافة حياة ونهضة لا خلافة تقتيل وتدمير وتفجير.
- خلافة يهاجر لها المسلمون وغيرهم لا خلافة يفرون منها.
- خلافة على منهاج النبوة ترعى كل رعاياها مسلمهم وذميهم.


أيتها التنظيمات المسلمة المتقاتلة في الشام والعراق واليمن والصومال وكل بلد من بلاد المسلمين، لقد أغرت أمريكا بكم شياطينها وعملاءها واخترقت الكثير من تلك التنظيمات بعملاء مندسين وممولين، حتى جعلت بأسكم بينكم شديداً وأصبح التقاتل بينكم بدل أن تقاتلوا بشار وأمثاله وتقتلعوا أمريكا وعملاءها، فأصبحت العداوة والبغضاء والتقاتل سمة بين التنظيمات المسلمة ويكفر بعضُها بعضَها الآخر، هذه سياسة أمريكا في بلاد المسلمين، ثم إنها أجبرت حكام الدول العربية للتحالف معها ضمن حلف الناتو لمحاربة تنظيم الدولة واتخذت من الضربات الجوية وسيلة لقتل المسلمين سواء في العراق أو اليمن وأكبر همها الوصول لضربات جوية على الكتائب المخلصة في ثورة الشام "فضربت عصافير بحجر"، وذاك ليس بذكاء وفطنة منها بقدر ما هو اختراق مخابراتي وعدم إخلاص في العمل، وتوكل على الله تعالى بل إنه توجه للتمويل البترودولاري الخليجي، وذاك لعدم وعي سياسي وفكري، أفلا تعلمون أن دواء العي السؤال..!، ومن لا مفكر ولا سياسي ولا عالِم عنده يبصّره بما يدور حوله، يبحث عنه فهو من أوجب الواجبات.


فما بالكم أيها المسلمون وقد تقدم لكم من خبرتم وعيه السياسي وفكره ودستور دولة الخلافة الجاهز لديه منذ عشرات السنين، وهو يعمل بينكم منذ ستين سنة لإعادة الخلافة على منهاج النبوة، ولديه من المجتهدين والعلماء والسياسيين والمفكرين ورجال الدولة الأفذاذ العشرات بل المئات ومن كل شعوب العالم الإسلامي، وقد دعاكم في الشام للتوحد تحت راية رسولكم الكريم وتوحيد جهودكم للخلاص من بشار عميل أمريكا ومعه إيران وحزبها اللبناني، فأبيتم إلا التبعية وطلب التمويل من البترودولار ولم تطلبوا النصر والمدد من ربكم وحده الذي لا يقبل معه شريك، فكان أن تنازعتم وفشلتم وتقاتلتم وها أنتم طال عليكم الأمد وستندمون يوم لا يفيد الندم، وإن لم تعودوا عن التقاتل وحفظ دماء المسلمين سيكون الفشل مصيركم وعذاب الله تعالى عاقبتكم.


وهنا نذكركم أن أمريكا استغلت تقاتلكم وأغرتكم ببعض ولسنوات خَلت، وخصوصا في ثورة الشام المباركة حيث فشلت في تدجينها وبكل الوسائل السلمية ولم تستطع إيجاد بديل لبشار عميلها، لا لقلة عملاء بل لرفض المخلصين لخطط أمريكا وائتلافها، ومطالبتهم بتطبيق شرع ربنا ودون مواربة حتى توارى العملاء وائتلافهم، فما كان إلا أن سمحت وغضت الطرف عن اقتتال التنظيمات ببعضها وغذت بعضها "على عين بصيرة" لتأكلوا بعضكم بعضا وتتقاتلوا وتفشل ريحكم، وها هي أمريكا تجتمع بحلف الناتو وبعض دول المنطقة مثل الأردن والإمارات وتشترط على دول المنطقة قاطبة وتجبر جامعتهم "جامعة الدول العربية" توجهًا لمحاربة المسلمين باسم محاربة الإرهاب والتطرف وتقتيل أبناء المسلمين، وهذا ينسحب على العراق والشام واليمن والصومال وكل بلاد المسلمين التي تتوق للانعتاق من سيطرة واستغلال أمريكا ودول الغرب وعملائهم، وها هي قرارات حلف الناتو تطلب من حكام العرب اتخاذ قرارٍ بالانضمام للحلف لمحاربة تنظيم الدولة وكل الجماعات الإسلامية، وكأنها تريدها قرارات استراتيجية بعيدة الأمد تبيح لهم مقاتلة كل مخلص سواء في الأمد المنظور أو البعيد، وهنا يكمن خطر تلك القرارات الدولية أيها المسلمون، فانتبهوا واحذروا واتقوا الله تعالى بتقاتلكم فإنه يعطي أمريكا الذرائع لقتالكم والبقاء في المنطقة واستغلال خيرات المسلمين وإذلالهم وإبعادهم عن دينهم، فاعلموا أن المسبب لأمر هو مثل فاعله فلا تكونوا مثل أمريكا تقتلون المسلمين بأيديكم وأيدي الكافرين، وما ذاك إلا لعدم الوعي السياسي والشطط في التفكير والتكفير، فارحموا المسلمين وارحموا أنفسكم، فإنكم تعملون بالسياسة دون علم ودراية، فدماء المسلمين ستكون برقابكم، حتى لو قتلوا بأيدي اعدائكم الأمريكان أو عملائهم، وفي الختام نرجو الله تعالى رب العرش العظيم أن يردنا إلى ديننا ردا جميلا، وأن يجعلنا سبل هداية وتوحيد للمسلمين لا سبل تضليل وتفريق فاتقوا الله تعالى وأوبوا لرشدكم أيها المسلمون المتقاتلون وخصوصا على أرض بلاد الشام والعراق.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
الأستاذ وليد نايل حجازات (أبو محمد) - ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست