August 30, 2014

خبر وتعليق أمريكا تتخذ تنظيم الدولة ذريعة لإجهاض مشروع الأمة


الخبر:


صرح الرئيس الأمريكي أوباما في 2014/8/26 قائلا: "أمريكا لا تنسى، باعنا طويل، ونحن نتحلى بالصبر والعدالة ستطبق"، وقال: "إنه سيفعل كل ما هو ضروري لملاحقة من يؤذون الأمريكيين". وقال: "إن استئصال سرطان مثل الدولة الإسلامية لن يكون سهلا ولن يكون سريعا". وقد أعلن مسؤول أمريكي أن الرئيس أوباما "خوّل القيام بطلعات جوية للاستطلاع والرصد في أجواء سوريا" ولكنه "لم يعط ضوءا أخضر لأي عمل عسكري، لكن الولايات المتحدة تعد لخيارات عسكرية لمحاربة مقاتلي تنظيم الدولة الإسلامية".

التعليق:


ألم يسأل الرئيس الأمريكي نفسه لماذا يكره عامة الناس الأمريكيين ويعملون على طردهم من بلادهم حتى يدّعي أنه سيلاحق من يؤذون الأمريكيين؟ من يقوم بإيذاء من؟ ألم يقم الأمريكيون بإيذاء المسلمين، جميع المسلمين؟ ألم يقوموا بغرس خلايا السرطان بغرسهم كيان يهود في فلسطين وقد دعموه بكافة مقومات الحياة وبالأسلحة الفتاكة وأيدوا هذا الكيان في كل اعتداءاته وما زالوا يفعلون كل ذلك حتى يومنا هذا؟ أليس هذا الكيان هو السرطان بحد ذاته؟! أيظن الرئيس الأمريكي أن المسلمين ينسون ذلك؟ فالأمريكيون مسؤولون عن كل اعتداءات اليهود على المسلمين وعلى بلادهم وارتكابهم المجازر بحقهم وتدمير بيوتهم وخاصة في فلسطين ولبنان. وغزة شاهدة على ذلك، فاعتداء يهود الأخير عليها كان بسلاح أمريكا، وحتى أثناء الاعتداء لم تتوقف عن مد اليهود بالسلاح.


إذا كانت أمريكا لا تنسى قتل فرد من أفرادها، أيظن الرئيس الأمريكي أن المسلمين ينسون جرائم أمريكا ضدهم واعتداءها عليهم في أفغانستان والعراق، وقد قتلت منهم أعدادا لا تحصى وشردت الملايين ودمرت بلادهم وسجنت وعذبت الكثير منهم، وما زالت سجون باغرام وغواتنامو وأبو غريب شاهدة على ذلك؟ ألم تعتد أمريكا على الصومال عام 1992 بعدما سقط عميلها المجرم سياد بري بعملية أطلقت عليها "إعادة الأمل"؟! وقد أرسلت قواتٍ أثيوبية عام 2006 ووقفت خلفها لمنع أن يحكم أهل البلد أنفسهم حسب دينهم، وهي تدّعي أنها مع حرية الشعوب في حكم نفسها بنفسها وبفكرها وبإرادتها! وهكذا هم الأمريكان في كل بلد يفعلون، فهم يفسدون ولا يصلحون، ويهلكون الحرث والنسل، ويصدون عن سبيل الله، ويبغونها عوجا بديمقراطية تدّعي الربوبية من دون الله ليجعلوا البلد مربوطا بهم وتحت هيمنتهم وسيادة مبدئهم. إذن من يؤذي من؟


أيظن الرئيس الأمريكي أن المسلمين سينسون كيف تلاعبت أمريكا بموضوع كيمياوي بشار أسد وجرائمه وجرائم من يحارب بجانبه علنا كإيران وحزبها في لبنان وعصاباتها من العراق حيث قتل كل هؤلاء المجرمين مئات الألوف من أهل سوريا ودمروا البلد فلم تتحرك أمريكا ضدهم؟ بل إنها تريد الآن أن تقف بجانبهم علنا، وكل واع ومتابع للوضع يعلم أنها تقف معهم بطرق غير معلنة.


والآن تريد أمريكا أن تتخذ تنظيم الدولة الإسلامية ذريعة لضرب الثورة السورية وإجهاض مشروعها مشروع دولة الخلافة الحقيقية حيث أعلن رئيسها أوباما في 8/8/2014 قائلا: "لن نسمح لهم بإقامة خلافة بصورة ما في سوريا والعراق. ولكن لا يمكننا فعل ذلك إلا إذا علمنا أن لدينا شركاء على الأرض قادرين على ملء الفراغ". وقد أعلنت إيران وقوفها بجانب أمريكا وكذلك حزبها في لبنان أعلن اشتراكه في هذه الحرب ووقوفه بجانب أمريكا عند دعوته الجميع لمحاربة تنظيم الدولة، مع العلم أن هذا الحزب يقف بجانبها وهو يدافع عن عميلها بشار أسد ونظامه العلماني الإجرامي.


وهكذا أصبح تنظيم الدولة الإسلامية ذريعة لدى أمريكا وشركائها على الأرض لمنع إقامة الخلافة الراشدة كما اتخذت أمريكا في السابق تنظيم القاعدة ذريعة لاحتلال أفغانستان وقد دعمها شركاؤها على الأرض، ومنهم الإيرانيون الذين أعلنوا عن أنهم شاركوا الأمريكان هناك وفي العراق أيضا وسهلوا لهم الاحتلال وأمّنوا لهم الاستقرار. يا ويلها من مؤامرة، إنها لمؤامرة خبيثة!


إن سر إحباط هذه المؤامرة هو أن يعود تنظيم الدولة الإسلامية إلى رشده فيتخلى عن إعلان الخلافة ويكف يده عن قتل إخوانه المسلمين، بل يضع يده في أيديهم، وليعلم هذا التنظيم أنه لن ينتصر وحده من دون المسلمين. وكذلك التنظيمات الإسلامية الأخرى عليها أن تكف عن مقاتلة هذا التنظيم ومقاتلة بعضها بعضا على المناطق المحررة، وعلى كل هذه التنظيمات أن تسمح لبعضها البعض بدخول هذه المناطق من دون أن يفرض أحد سيطرته على أحد وأن يعملوا جميعا معا على تحرير باقي المناطق التي بيد النظام والتنسيق بينهم على إسقاطه وأن يتشاوروا مع حزب التحرير للتخطيط لكيفية إسقاط النظام وإقامة الخلافة الحقيقية والوقوف في وجه أمريكا وليحذروا منها ومن أوليائها من حلفاء وشركاء وأصدقاء ولا يمدوا أيديهم إليها ولا إليهم. وليمدوا أيديهم إلى الله ويمسكوا بحبله فهو كافيهم فيؤيدهم بنصره وبالمؤمنين.


وليعلموا جميعا أن دولة الخلافة الراشدة لن تكون ملكا لتنظيم بعينه، بل هي لجميع المسلمين الذين استجابوا لربهم وأقاموا الصلاة وأمرهم شورى بينهم ليبايعوا من اختاروه وارتضوه خليفة لهم من دون غلبة ولا غصب ولا قهر ليحكمهم بشرع الله.


قال تعالى: ﴿فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَصْلِحُواْ ذَاتَ بِيْنِكُمْ وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾، وقال سبحانه: ﴿وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾.




كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست