خبر وتعليق   أنّى لِمَن اتَّخذ بِطانَة مِن المُحتلين المُفسِدين أن يعرف طريق الإصلاح    
خبر وتعليق   أنّى لِمَن اتَّخذ بِطانَة مِن المُحتلين المُفسِدين أن يعرف طريق الإصلاح    

الخبر: (وكالات أنباء متنوعة - 2015/8/18): ذكر بيان لمكتب رئيس الوزراء العراقي "العبادي" أنه استقبل اليوم كلا من: 1- آل بريت مكورك مساعد وزير الخارجية الأمريكية مبعوث الرئيس "أوباما" والوفد المرافق له". فأشاد هذا المسؤول - بحسب البيان- "بالحُزَم الإصلاحية "للعبادي" والدعم الكامل لها، واستعداد الولايات المتحدة الأمريكية للوقوف مع العراق وبالأخص في موضوع ملف الطاقة الكهربائية وإرسال الخبراء للمساهمة بزيادة كفاءة وإنتاج المنظومة الكهربائية"، 2- ورئيس بعثة الاتحاد الأوربي في العراق يانا هيباشكوفا بمناسبة انتهاء مَهامِّها"، وهي الأخرى أشادت "بالخطوات المُتخَذة من قِبل "العبادي" فيما يخص الإصلاحات واستعدادهم للمساعدة في نقل تجارب وخبرات العديد من الدول التي شهدت تحولا سياسيا واقتصاديا في الإصلاح"، وبين "العبادي" للجميع: أنه "لا عودة عن طريق الإصلاح الذي بدأنا به وسنمضي مع كل العراقيين للسير بالبلد إلى الطريق الصحيح". التعليق: لا تزال التظاهرات الشعبية التي تجتاح المحافظاتِ الجنوبية مستمرة ومتجددة كالبصرة والديوانية والسماوة... فما بعدها تسع محافظات ليتصل زخمها ببغداد العاصمة التي باتت هي الأخرى مركزا مهما - بحُكم تواجد السفارات ووسائل الإعلام والصحفيين - للتعبير عن امتعاض الشعب وشدة نقمته من الفساد والظلم اللذَيْنِ ضربا بأطنابهما في عموم البلاد فقراً وبطالة وانعدام خدمات، ناهيك عن غياب الأمن والاستخفاف بحياة الأبرياء الذين تَحصِدُ أرواحَهم وسائلُ الموت المختلفة بشؤم ما أصابنا جراء احتلال أمريكا الكافرة الباغية. وإن الفساد الذي تنادي الجماهير الغاضبة بإزالتهِ، وتُصِرُّ على ضرورة محاسبة المفسدين إنما هو نتيجة طبيعية لنظام المحاصصة المذهبية والعِرقية والحزبية التي فرضها الغزاة المحتلون استناداً إلى دستور ضمَّنوهُ كل أسباب الظلم والتشظي والاعوجاج... فقد أُسنِدتْ المناصب إلى أناسٍ ليسوا أهلاً لها، لكنهم حصلوا عليها مكافأة على تعاونهم مع المحتلين. كما أنه لم يَدُر في خَلدِ هؤلاء المسؤولين ما يمليه الولاء لدينهم أو وبلدهم وإخوانهم من الإخلاص والنزاهة وحفظ المال العام، لأنهم يعلمون علم اليقين أنهم زائلون بزوال الاحتلال البغيض، فكان لا بد لهم من التخريب والنهب على حساب الشعب المكلوم، فعلى سبيل المثال لا الحصر تم إنفاق ما يزيد عن أربعين مليار دولار على منظومة الكهرباء دون جدوى، تلك المشكلة المزمنة التي أشعلت فتيل المظاهرات. فالكلام إذاً عن الإصلاح إنما هو دعوة عارية عن النوايا الصادقة "للعبادي" وغيره، ولن تعدوا تلك (الثورة) البيضاء سوى تدوير الفاسدين وتغيير مواقعهم ذرا للرماد في العيون..! والكلام أيضا عن كون المرجعية الدينية في النجف (صمَّام) أمانٍ للعراق وأهلهِ يراد منه التضليل والتعمية على الحقائق، ذلك أن تلك المرجعية هي مَن سوَّق لأولئك الفاسدين المفسدين بحُجَّة أن فسادهم أقلُ ضرراً من حزب البعث المقبور - كما يحلو لهم تسميته - لذا فإن إصلاحات "العبادي" لن تكون غير عملية (تجميل) لوجوه كالحة بشعة اختيرت على بصيرة من المحتل الكافر لتدمير ما لم يتمكن هو من تدميره، بل هو مَن فتح أبواب الفساد على مصاريعها، وقد قامت الأدلة الدامغة على تخريب الأمريكان للبنى التحتية للعراق، وحل مؤسساته القائمة ونهبهم لثرواته الاستراتيجية كالنفط والمعادن الثمينة والعملة الصعبة بالمليارات والسبائك الذهبية والمدَّخرات في البنك المركزي العراقي في أيام الاحتلال الأولى. ولئلا يطول بنا الحديث، فإن أول ما يتبادر إلى الذهن من أصول الإصلاح الحقيقي هو العمل على طرد المحتل من العراق وسائر بلاد المسلمين..! ثم نسف دستوره القذر الذي ما جلب علينا غير المصائب والكوارث ونبذ مشاريع التقسيم والتفتيت، والعمل على إحقاق الحقّ بتطبيق أحكام الله تعالى المفصَّلةِ في كتابه المجيد وسُنَّةِ رسوله الكريم صلوات الله وسلامه عليه. والسؤال الذي يطرح نفسه بقوة هو: أيهما كان أسبق؟ توجيه المرجعية الدينية لرئيس الوزراء بضرورة العزم والحزم ومحاسبة المفسدين؟ أم انفجار الشارع في طول البلاد وعرضها؟ والجواب الحقُّ الذي لا مِرْيَة فيه هو الأمر الثاني: غضب الناس وانتهاء صبرهم على المعاناة أكثر من عقد منذ الاحتلال عام 2003، لذا فإن دعم المرجعية "للعبادي" المُصلِح إنما هو طوق النجاة للحفاظ على مقاليد الحُكم بأيديهم، قبل أن يُفلِت الزمام فإن الثورة عارمة - كما تبدو هذه المرة - بسبب افتضاح ما يدَّعونه من أحزابهم (الدينية) التي تغوَّلت على حقوق المساكين فكانت أشد بأساً وأشد تنكيلاً بالمُستضعفين من العلمانيين والبعثيين...! ولا بأس أن يُقدَّمَ البعضُ منهم كبشَ فِداءٍ وقُرابين على مذبح أمريكا المجرمة ليصفوَ الأمر لهم قبل فوات الأوان. وإلا كيف يُتصَور إصلاحُ ذلك الفساد العظيم وإزالة آثارهِ التي لا يَقوَى عليها غير الأفذاذ من الرجال الرجال؟ بل كيف يسمح المحتل بهدم خُططهِ الخبيثة التي ما جاء إلا من أجلها؟! ولكم أن تَعجبوا من التئام مجلس النواب "اللصوص" بجَمعِهم غير المبارك لإقرار أمرٍ أشدُّ مرارة عليهم من العلقم، وقد كان رغمَ إرادتهم وعلى كُرهٍ منهم إذ صَوَّتوا ضدَّ رؤسائِهم وقادتِهم، كما صرَّحَ فعلا بعض النواب عن تلكم الحقيقة وأنهم أكرهوا على التصويت وتجرَّعوا مرارته..! وليس رئيس الوزراء "العبادي" ببدعٍ منهم، بل هو واحدٌ مِمَّن رضي وبارك الاحتلال وتعاون معه، وتلك حقائق دامغة لا يُنكِرها إلا مُكابر... وهكذا يجب أن تُفهم دعوتهُ لنبذ الطائفية والمحاصصة عند إسناد المناصب، أيْ قَصْرُها على مُكَوِّنٍ مُعيَّن دون سواه..! ولا يَسَعُنا في الختام، إلا الابتهال إلى ربنا عزَّ وجلَّ أن يمُنَّ على الأمة الإسلامية بفتحٍ عظيمٍ، ونصرٍ ناجزٍ، وأن يأخذ بأيدي العاملين المخلصين لتحقيق مشروع دولة الخلافة على منهاج النبوَّة، واستئناف الحياة الإسلامية، وصياغةِ كل شيءٍ على أساسٍ متينٍ من عقيدة الإسلام الخالدة، وما ذلك على الله بعزيز ﴿وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا، رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾.       كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرعبد الرحمن الواثق - العراقالمكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية العراق

0:00 0:00
Speed:
August 21, 2015

خبر وتعليق أنّى لِمَن اتَّخذ بِطانَة مِن المُحتلين المُفسِدين أن يعرف طريق الإصلاح  

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست