خبر وتعليق ارتفاع حالات الإيذاء الذاتي بين الأطفال في بريطانيا (مترجم)
January 12, 2015

خبر وتعليق ارتفاع حالات الإيذاء الذاتي بين الأطفال في بريطانيا (مترجم)

الخبر:


في السابع من كانون الثاني ذكرت محطة الـ بي بي سي أن اتحادين أساسيين للمعلمين قالوا أن المدارس في بريطانيا تكافح من أجل التصدي لارتفاع حالات الإيذاء الذاتي عند الطلاب. الإيذاء الذاتي يشمل أفراداً يعرضون أنفسهم بشكل متعمد للجروح، الحروق، الكدمات، ولتعاطي جرعات زائدة من المخدرات، أو إيذاء أنفسهم بطرق أخرى كوسيلة لتخفيف الألم النفسي الذي يشعرون بأنهم لا يستطيعون التعامل معه بشكل آخر. وبحسب إحصائيات المنظمة الوطنية للصحة فإن أعداد الشباب ما بين 10-19 سنة الذين نُقِلوا إلى المستشفيات في إنجلترا، وويلز، وإيرلندا الشمالية نتيجة لإيذاء النفس بشكل متعمد قد ارتفع بنسبة 20% من 13 عام 2012 إلى 14 عام 2013، وتشير الإحصائيات الأخيرة أن 29 ألف شاب قد تم علاجهم من حوادث الأذى الذاتي في سنة واحدة. في شهر كانون الأول من السنة الفائتة صرّح مركز العناية بالصحة والخدمات الاجتماعية أن أعداد الأطفال الذين تم نقلهم إلى المستشفيات نتيجة الأذى الذاتي هو الأعلى منذ خمس سنوات، وأنّ أعداد الفتيات اللواتي تتراوح أعمارهن بين 10-14 اللواتي أدخلن إلى المستشفى قد تضاعف ما بين 10 عام 2009 إلى 14 عام 2013، وأن زيادة 45% كانت في صفوف الذكور من الفئة العمرية نفسها. تقرير منظمة الصحة العالمية الذي سيخرج إلى العالم هذه السنة يُتوقّع أن يكشف أنه خلال العقد الأخير في إنجلترا فإن أعداد المراهقين الذين آذوا أنفسهم قد ازداد بثلاثة أضعاف، مع هذا يشير النشطاء أن هذه الأرقام ما هي إلا عبارة عن طرف رأس الجبل الجليديّ للمشاكل. الدكتور ماكس ديفيس المتحدث الرسمي باسم الكلية الملكية لطب الأطفال والعناية بالطفل صرّح أن النّاس الذين يقدمون على إيذاء أنفسهم يكون نتيجةً للمشاكل النفسية الحادة التي يعانون منها والتي تجعلهم يفضلون الأذى الجسدي على حالتهم النفسية... والسؤال الحقيقي هنا: لماذا تزداد أعداد الشباب الذين يعانون من مشاكل نفسية لا تُحتمل؟

التعليق:


في الحقيقة أسئلة جادة يجب أن تُثار عن عناصر المجتمع الذي يتعرّض شبابه ليس فقط إلى اضطرابات نفسية حادة ولكن أيضاً إلى عدم رؤية أي سبيل للتخفيف من حدة هذه الاضطرابات إلا عن طريق إيذاء أنفسهم. الأشخاص العاملون مع الشباب الذين يؤذون أنفسهم صرّحوا أن مشاكل مثل التنمّر في المدارس، التفكك الأسري، مشاكل الإدمان في العائلات، توقعات عالية جداً في التحصيل المدرسي، الضغوطات الجنسية، مشاكل تتعلق بالشكل الخارجي، وقلق عام عن المستقبل ما هي إلا بضعة أسباب تدفع الشباب إلى حالات الإيذاء الذاتي.


إن ازدياد حالات انتشار الإيذاء الذاتي وأسبابها بين شباب المملكة المتحدة هو فقط نتاج فاسد واحد للنظام الرأسمالي العلماني الذي يحكم الدولة. في ظل هذا النظام الذي ازداد فيه النظر باحتقار وسخرية من الدين والروحانيات ودفع بهما إلى هامش المجتمع، سيكون الشباب فيه حتما ممن يدفعون الثمن. إن الوجود الضعيف جدا وغير المسبوق للبوصلة الأخلاقية الذي ارتكز في يوم من الأيام على الخوف من الخالق، الذي كان يوجه الأطفال لاحترام الآخرين، قد استبدل به ثقافة الفردية، وإرضاء النفس، وإشعال مشاكل مثل التنمّر. إن القيم الليبرالية مثل الحريات الشخصية والجنسية، لم تفاقم فقط مشاكل الانحلال الأسري، ولكنها وضعت ضغطاً شديداً على الشباب، خصوصا الفتيات للتورط بنشاطات جنسية بعمر صغير. أيضا النظرة العلمانية للنجاح التي ترتبط بالإنجازات في هذه الحياة، وزيادة التوقعات غير المنطقية للأشخاص، المرتبطة بالشكل الخارجي، وخلق مناخ ينظر فيه الأفراد لإرضاء الآخرين وقبولهم، كوسيلة للاطمئنان والسعادة "عوضا عن الله" قد سببت ضغطاً عاطفياً هائلاً، على الأطفال والمراهقين، وعلى الكبار على حدٍ سواء. إلى جانب كل هذا، وجود فجوة روحانية عند الشباب تملأهم بالفراغ وتدفعهم إلى السعي لتحقيق الطمأنينة من خلال أمور سطحية أو الانجراف إلى حياة مادية تفضي فقط إلى زيادة الإحساس بالفراغ. وبالإضافة إلى ذلك، في ظل النظام العلماني الرأسمالي، فإن غياب النظرة الصحيحة لطبيعة الحياة والهدف منها، وأيضا عدم وجود حلول واضحة إلى مشاكل الإنسان، تدفع العديد من الشباب إلى عدم رؤية أي طريق للخلاص من المحن والصعوبات غير قطع شرايينهم.


كل هذا هو تذكير برحمة الإسلام، وبالمسؤولية العظيمة التي نحملها نحن المسلمين لضمان أن القيم الإسلامية ووجهة النظر الصحيحة عن الحياة قد غُرست في نفوس شبابنا بشكل كبير. إن الإيمان بالله سبحانه وتعالى، وأن الغاية من الحياة هي عبادته، وأن الصعوبات التي تواجهنا في الحياة الدنيا ما هي إلا اختبار وأن النظرة إلى السعادة والنجاح يجب أن تكون لإرضائه تعالى، وأن الإيمان بنعيم الجنة الذي لا يوصف الذي ينتظر المؤمن الحق، كل هذا يوجِد عقلية مستقرة ومتوازنة. إنها عقلية لا تسعى للرضا بالأمور السطحية، ولا تقيس النجاح بالأمور المادية، ولا تشعر بالحاجة إلى تحقيق غايات غير واقعية، توضع من قبل الآخرين لإرضائهم لكي تشعر بالسعادة. إنها أيضا شخصية تدرك علاقتها بالخالق، ولذا تعيش حياتها وفقاً لأوامر الله ونواهيه، وليست حسب شهواتها الأنانية. هذه الأوامر الإلهية تحتوي على تحريم الحريات الشخصية والجنسية، وأيضا تعيّن طريقة التعامل مع الآخرين على أساس من الاحترام، والعطف، والمحبة، وأيضا الابتعاد عن التصرفات السيئة والقاسية، مثل التنمّر. كل هذا إلى جانب الحلول السليمة التي يقدمها الإسلام إلى كل نوع من المشاكل الإنسانية، يساعد على منع الاضطرابات النفسية الحادة التي تؤدي إلى الإيذاء الذاتي، وهي أيضا تقدم "استراتيجية التصدي" للتعامل مع المحن العاطفية التي يعاني منها الإنسان بشكل طبيعي كنتيجة لصعوبات الحياة. ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ﴾ [النحل: 89].


مدى الإيذاء الذاتي الذي يتعرض له الأطفال في الغرب، يجب أن يكون تذكيراً قوياً للخطر العظيم الذي يهدد الشباب في العالم الإسلامي إذا لم تُزال الأنظمة الليبرالية والعلمانية من بلادنا، ويُستبدل بها نظام الخلافة الإسلامية على منهاج النبوة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. نسرين نوّاز
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست