خبر وتعليق - استراتيجية امريكا الجديدة للامن القومي
June 05, 2010

خبر وتعليق - استراتيجية امريكا الجديدة للامن القومي

في 26/5/2010 نقلت وكالة رويترز عن كبير مستشاري اوباما لشؤون الارهاب جون بريتان ان الولايات المتحدة ستعلن عن استراتيجيتها الجديدة للامن القومي. وقال وهو يستعرض اجزاء مما سيعلن عنه:" لم نكن ابدا ولن نكون في حرب على الاسلام". وأضاف المسؤول الامريكي في كلمته امام مركز الدراسات الاستراتيجية في واشنطن قائلا:" استراتيجية الرئيس لا لبس فيها فيما يتعلق بموقفنا. الولايات المتحدة في حرب. نحن في حرب ضد القاعدة وروافدها الارهابية". وقال :" سنأخذ الحرب ضد القاعدة وروافدها الارهابية الى كل مكان يتآمرون فيه ويتدربون فيه، في افغانستان وباكستان واليمن والصومال وما وراء ذلك". وقالت وكالة رويترز ان اوباما اعلن السبت الماضي (22/5/2010) في وست بوينت عن الخطوط العريضة ومبادئ استراتيجيته الجديدة للامن القومي وهي وثيقة مطلوبة بحكم القانون من كل ادارة امريكية مؤكدا على المشاركة الدولية بعد " دبلوماسية راعي البقر" التي اتبعتها ادارة بوش.
وتعليقا على ذلك نقول: ان سياسة اوباما لم تختلف عن سياسة راعي البقر للاداراة السابقة لا في الشكل ولا في المضمون. فالحرب التي تقودها ضد الاسلام واهله وبلاده مستمرة وستستمر كما اعلنت ادارة اوباما في استراتيجيتها الجديدة. وهذه الاستراتيجية الجديدة لم تأتي بشيئ جديد الا بتجديد الاعلان عن الاستمرار فيها. وأصلا لم يتغير في سياسة امريكا شيئ منذ مجيئ اوباما حتى اليوم سوى انها عمدت الى تلميع صورة امريكا التي إهترأت، وعمدت تحسين صيغة الخطاب السياسي وتنميقه، واخفاء العبوس الذي كان يتمتع به بوش وديك تشيني ورمسفيلد اركان الادارة السابقة واستبداله باظهار الابتسابات لاسنان اوباما البيضاء وكذلك اركان ادراته من نائبه جوزيف بايدن الى وزيرة خارجيته هيلاري كلينتون، واستعمال الالفاظ اللينة المناسبة التي تعبر عن نفس السياسة الامريكية، وكذلك إخفاء الغطرسة والعجرفة والتي كانت متبعة في الادارة السابقة باظهار الصداقة، وكذلك اظهار المشاركة بدل التفرد وهي التي لا تفيد الا معنى التفرد، الا انه عندما يطرح سياسته يظهر انه يشاور الاخرين ويظهر انه يشاركهم، والدول الاخرى الكبرى لانعدام رجل الدولة الداهية لديها تلهف وراء اية غمزة من طرف العيون الامريكية السوداء والزرقاء، فتظن هذه الدول الكبرى امثال روسيا والصين ان امريكا اعطتها قيمة واحتراما وجعلت لها وزنا دوليا فتسير ورائها بلا تردد كما رأينا في ازمة النووي الايراني عندما انساقت روسيا والصين وراء امريكا في الدعوة لتشديد العقوبات على ايران. مع العلم انه يفهم ان مقصود امريكا ليس اعطاء اعتبار لروسيا والصين وانما استخدامهما ضد اوروبا لحصر قضية ايران النووية بيدها وابعاد التأثير الاوروبي وتهميشه.
وعداوة امريكا للاسلام ظاهرة لا لبس فيها فهي تحتل بعض بلاده بشكل مباشر كالعراق وافغانستان، ودعمت اثيوبيا بشكل علني لاحتلال الصومال وتدميرها وقتل اهلها، وتبسط نفوذها على بلاد اسلامية اخرى بشكل ظاهر كالباكستان وتسخرها علنا في الحرب على الاسلام والمسلمين وتقتالهم بصورة مباشرة، وتبسط نفوذها السياسي بصورة علنية في عدة بلاد اسلامية كمصر والسودان واندونيسيا، عدا نفوذها السياسي الخفي في عدة بلاد اسلامية اخرى كسوريا، وتقيم لها قواعد عسكرية ومراكز لجيوشها واساطيلها كما هو حاصل في تركيا والكويت وقطر والبحرين، وتدعم كيان يهود وتزوده باحدث الاسلحة والتقنيات وهو يحتل فلسطين ويسحق اهلها ويدمر بيوتها ويقطع شجرها ويصادر اراضيها، وتضغط على كل حكام البلاد الاسلامية للتشديد على محاربة الاسلام تحت مسمى محاربة التطرف والارهاب ليعتقلوا حملة الدعوة ويضيقوا عليهم حتى يصلوا الى تغيير مناهج التعليم لازالة كل آية يشتم منها انها تعادي اليهود او النصارى او الكفار وتدعو لحربهم او لعداوتهم او تبين زيف معتقداتهم وتفضح مؤامراتهم على الاسلام واهله وتبرز عداوتهم لهم ولدينهم او تدعو المسلمين لحمل الدعوة لهم. ويضع بدلا من ذلك حوار الاديان والسلام والاستسلام واحترام كل المعتقدات الباطلة وعدم تسفيهها. فعداوة امريكا للاسلام واهله ظاهرة غير مخفية واستراتيجية اوباما الجديدة التي كشف عن بعض مضامينها كبير مستشاريه تثبت ذلك حيث يريد ان يحارب كل من لا يسير مع امريكا ولا يستسلم لها من المسلمين او يقف في وجه سياستها تحت مسمى جديد وهو محاربة القاعدة وروافدها، فذكره اسم القاعدة ما هو الا كمثال وليس للحصر، وكذلك لتضليل السذج من ابناء المسلمين الذين يتوهمون ان حرب امريكا ليست ضدهم وضد دينهم، بل هي ضد مجموعة معينة متطرفة كما يطلقون عليها، او ضد مجموعات تحمل السلاح هنا وهناك تدافع عن بلادهم واهاليهم وتقف في وجه المحتلين. وادارة بوش كانت قد قسمت المسلمين متطرفين ومعتدلين وكانت تقول نحن نريد ان نحمي المسلمين المعتدلين من المتطرفين، فجاءت ادارة اوباما وسارت على نفس النهج بدون اي تغيير. فاثبت هذه ادارة اوباما بانها ادارة بوشية، ولكن بثوب جديد وبابتسامات بيضاء وبكلمات يحسبها الجاهل حلوة وصادقة.

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست