November 14, 2014

خبر وتعليق استراتيجية خفض الفقر


الخبر:


شرعت الدولة في إعداد الاستراتيجية الكلية لخفض الفقر، وأعلن بدر الدين محمود وزير المالية والاقتصاد الوطني رئيس اللجنة العليا لإعداد الاستراتيجية بدء تنفيذ المسح الشامل لميزانية الأسر والفقر اعتبارا من نوفمبر الجاري عبر الجهاز المركزي للإحصاء مؤكدا أهمية إعداد الاستراتيجية بالاستناد عليها في إعداد خطط الدولة وبرامجها الاقتصادية مشيرا إلى اهتمام الدولة بها باعتبار أن محاربة الفقر واحدة من مرتكزات الشريعة الإسلامية وتحقيق العدالة الاجتماعية بجانب أنها من متطلبات الألفية على مستوى العالم.


وتعهد في اجتماع اللجنة العليا بتوفير المكون المحلي المطلوب لتنفيذ الاستراتيجية مثمنا جهود مؤسسات التمويل الإقليمية والدولية وشركاء التنمية من بينهم بنك التنمية الأفريقي والبنك الدولي لإسهامهما بالعون المالي والفني لدعم الاستراتيجية مشيرا إلى تكوين فريق عمل مشترك من الحكومة والمانحين لخفض الفقر بالبلاد. من جانبها أكدت مشاعر الدولب وزيرة الرعاية والضمان الاجتماعي نائب رئيس اللجنة العليا التزام وزارتها بإنفاذ السياسات والخطط المناصرة للفقراء ودعم الشرائح الضعيفة.


وكشف الأستاذ مجدي حسن ياسين وزير الدولة بالمالية عن زيارات ميدانية للولايات نفذتها اللجنة بمشاركة المانحين وشركاء التنمية أسفرت عن خلق نقاط ارتكاز بالولايات لرفع الوعي بمحاربة الفقر وإعداد استراتيجية كلية بمعاونة الولايات والجهات ذات الصلة (صحيفة المستقلة).


التعليق:


في منتصف شهر أبريل/نيسان الماضي قامت وزارة المالية والاقتصاد الوطني، بتدشين مشروع الاستراتيجية الكلية لخفض الفقر في السودان، وفي شهر مايو/أيار تم لقاء بين وزارة المالية وممثل البنك الدولي والمانحين، من جهته قال الممثل المقيم للبنك الدولي بالخرطوم خافيير فورتادو، إن نجاح الاستراتيجية الشاملة للقضاء على الفقر، يعتمد بدرجة كبيرة على رغبة الحكومة وجديتها في الإيفاء بالتزاماتها. وجدد حرص البنك الدولي على المساهمة في المشاريع التي تحد من الفقر بالسودان وتعد هذه الاستراتيجية من ضمن ما يعرف باستراتيجية اختزال الفقرPoverty Reduction Strategic Papers والتي تعد الإطار الأساس الذي تمنح المؤسسات المالية الدولية على أساسها القروض للدول الفقيرة. وقدمت هذه الاستراتيجية لـ70 دولة منها السودان من قبل صندوق النقد الدولي والبنك الدولي.


إذاً لا داعي لإقحام الإسلام وشريعته فالجميع يتحدث صراحة عن أن الاستراتيجية ممولة ماديا وفنيا من الشركاء والمانحين هؤلاء الذين يوصفون بهذه الصفات هم في الحقيقة دول الغرب الكافر المتكالبة على ثرواتنا، الذين أشعلوا الحروب لنهبها، ثم يأتون باسم الإنسانية ليلقوا لنا الفتات الذي لا يعطونه إلا بإملاءاتهم التي تبقينا في المربع الأول (فقر ومرض وتأخر) هذه الاستراتيجيات لا تنهض ولا تعمر فهي تزيد الارتهان لهؤلاء الكفار المستعمرين الذين يظهرون التزامهم بخفض الفقر ويشككون في جدية الحكومة وإن كان واقع الحال لا يحتاج إلى برهان، إنهم هم والحكومة سواء بعضهم أولياء بعض.


إن اشتراط موافقة المؤسسات المالية الدولية (البنك الدولي وصندوق النقد الدولي) على الاستراتيجية قبل تنفيذها لا يدع مجالاً للشك حول دور هذه المؤسسات، ومدى تدخلها في عملية صياغة، وتنفيذ الاستراتيجية، ومن ناحية ثانية أثبتت العديد من الدراسات إغفال أغلب الاستراتيجيات التي تقدمت بها الدولة للعديد من القضايا التي تعد مهمة لتحقيق التنمية المستدامة؛ فقد أغفلت دور المشاريع التي كانت قائمة كمشاريع إنتاجية مؤسسة وعريقة في الإنتاج كمشروع الجزيرة الزراعي ومشروع الرهد ومشاريع النيل الأبيض وغيرها الكثير واتجهت إلى الحديث عن ظاهرة التهميش للأطراف وأنها أساس النزاعات والفقر مع أنهم يعلمون أنه يوجد داخل العاصمة من هم أكثر تهميشا ممن هم في الأطراف.


تحدثت الاستراتيجية بصورة مغلفة عن محوري التنمية الريفية واللامركزية في الحكم كحل لمشكلة الفقر، الحديث عن اللامركزية كان صريحا، فقد جاء في الاستراتيجية يحق المشاركة بفعالية في حياة المجتمع لضمان أن الأولويات التنموية قد تم وضعها على المستوى المحلي بواسطة الجماهير المحلية (ديمقراطية المشاركة) وتحديد كيفية تحقيقها، إذاً هم يعملون على تسويق الديمقراطية والفدرالية؛ إحدى أدوات تمزيق البلاد.


ولكن الحديث عن التنمية الريفية كان يصيبه الغموض والتمويه، فقد جاء في الاستراتيجية وبصيغة أكثر تحديداً، فإن التدخلات في القطاع الزراعي المروي ستركز على الإصلاح المؤسسي الذي يهدف إلى خلق مزارع يتمتع بحق الملكية بدلاً عن المزارع الذي يشارك في قسمة المحاصيل، وسيتم ذلك من خلال إصلاح واسع للأراضي يركز على كفالة حق الملكية في استخدام الأراضي، أما بقية العمليات الزراعية فسوف تتم على أسس تجارية لضمان تغطية كامل التكاليف.


أما دور القطاع العام فسوف يعني بالضبط رفع الحكومة يدها عن أي دعم يقدم للزراعة وقد كان، حيث حمل المزارع تكاليف الزراعة بالقروض التي أثقلت كاهله وتوقف الإنتاج في أكبر مشروع به إدارة موحدة في أفريقيا، مشروع قامت عليه كل المؤسسات الحكومية السكة الحديد وميناء بورتسودان جامعة الخرطوم وغيرها. منذ ما يقرب من ثمانين عاما كان مشروع الجزيرة وسط السودان المصدر الوحيد لخزينة الدولة وتوفير العملات الصعبة، 2.4 مليون فدان هي مساحة المشروع المروي انسيابيا من خزان سنار على النيل الأزرق، تزرع بالقطن، المحصول الرئيسي، ثم القمح والفول السوداني والذرة والخضروات .وتصل المساحة المستغلة من أراضي المشروع الآن إلى 10 بالمائة فقط، فدمرت البنى التحتية؛ سكك حديد الجزيرة والمحالج والإدارة البحثية للمشروع ببركات وتم بيع الأصول العقارية للمشروع في مدني وبركات والخرطوم وبورتسودان والأقسام والمكاتب وكذلك منازل ومكاتب العاملين بالأقسام والتفاتيش بما في ذلك مباني ومنازل المحالج بمارنجان والحصاحيصا والباقير والحاج عبد الله وتعطلت مصانع النسيج وتعطلت مصانع الزيوت لنفس السبب وتعطلت مصانع الدقيق لانعدام إنتاج القمح.


هذا المشروع وحده كفيل بحل مشكلة الفقر في البلاد، فكيف يجوع بلد أهله يمتلكون أكثر من 200 مليون فدان من الأراضي الزراعية الخصبة، ويجري بين ظهرانيهم نهر النيل، ويهطل عليهم من السماء ماء يقدر بحوالي ترليون متر مكعب، ويمتلكون أكثر من 120 مليون رأس من الثروة الحيوانية!


كيف يجوع أهل هذا البلد لولا عقم السياسات وفشل السياسيين الذين يستجدون أكبر مؤسستين على مدار التاريخ تتسببان في إفقار الشعوب والأمم؛ صندوق النقد والبنك الدوليين!!


إن الحل هو في الانعتاق من عبودية هؤلاء المانحين والشركاء فهم لا يعيشون إلا على معاناة غيرهم، والرجوع إلى عبودية الله رب العالمين الذى بيده خزائن السموات والأرض بتطبيق شرعه وعدله وذلك بإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة.


﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاء وَاللّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلاً وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾




كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم أواب غادة عبد الجبار

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست