خبر وتعليق   اتهام الشريعة الإسلامية بالوحشية وانتهاك حقوق المرأة في آتشيه!   (مترجم)    
September 20, 2014

خبر وتعليق اتهام الشريعة الإسلامية بالوحشية وانتهاك حقوق المرأة في آتشيه! (مترجم)  


الخبر:


كانت هناك على الأقل ثلاث قصص سلبية في أيلول/سبتمبر في بعض وسائل الإعلام المحلية في إندونيسيا حول تنفيذ الشريعة الإسلامية في آتشيه والتي تتصل جميعها بالمرأة، فقد ذكرت شبكة جاوا بوس الوطنية في 12 أيلول/سبتمبر أن 53 امرأة و 3 رجال ألقي القبض عليهم من قبل شرطة الشريعة في آتشيه، لاستخدامهم الملابس الضيقة والسراويل القصيرة للرجال. وقد ذكر موقع Detik.com سابقا في التاسع من أيلول/سبتمبر أيضا عن زوج من المراهقين وحدهما في غرفة النوم تمت مداهمتها وسوف يواجهان عقوبة الجلد، كما ذكر الموقع نفسه وكذلك موقع Merdeka.com في 1 أيلول/سبتمبر أنه تم القبض على 7 من النساء لأنهن كن يتسكعن في مقهى كاريوكي في غرفة مظلمة قبل الفجر.


التعليق:


الجدل الطويل حول "الشريعة الإسلامية" في آتشيه مغرٍ جداً لوسائط الإعلام، لا سيما عندما يتعلق الأمر بقضايا انتهاك حق المرأة، لا تغفل عيون وسائل الإعلام أبدا عن مشاهدة كيفية تنفيذ الشريعة الإسلامية وخاصة ما يضر بحق المرأة. إن قوانين مثل حظر المرأة لقيادة دراجة نارية، وإلزامها بارتداء الحجاب، وحظر الخلوة بين الرجل والمرأة، هي أمثلة على قوانين قد تصبح الأضواء مسلطة عليها دوليا، وقد ينظر إليها كانتهاك لحقوق المرأة في آتشيه.


إن الانتهاكات المزعومة لحقوق الإنسان الناجمة عن قانون الشريعة المثير للجدل في آتشيه اضطر وفد الاتحاد الأوروبي لزيارة "شرفة مكة المكرمة" في 17 حزيران/يونيو، حيث أعرب سفير الاتحاد الأوروبي، أولوف سكوغ، عن قلقه من الانتهاكات المزعومة لحقوق الإنسان ضد النساء وكان يحاول التأكيد على عمق الوفاء بحقوق المرأة في تنفيذ الشريعة، وذلك في منتدى مع "حاكم آتشيه"، زيني عبد الله، ونشطاء حقوق الإنسان المحليين، وأعضاء من مجلس النواب في آتشيه.


إن اتهام الغرب المتواصل للشريعة الإسلامية بانتهاك حقوق الإنسان بحاجة إلى فحص، لا سيما بشأن نقاط معينة من حقوق الإنسان نفسها التي تستخدم دائماً كنقطة مرجعية من قبل الغرب، أما التعقيدات الموجودة في أحكام الشريعة المطبقة في آتشيه فهي ناجمة عن خلط هذه الأحكام مع أحكام وضعية علمانية كالديمقراطية، حيث الشريعة تطبق بشكل جزئي وقابلة للتغيير هناك على أيدي البشر لتتناسب مع فكرة الحرية. إن معايير حقوق الإنسان ليست مقياسا للحكم على أحكام الشريعة الإسلامية، حيث سيؤدي ذلك إلى عواقب خطيرة؛ حيث إن "الشريعة الإسلامية،" التي هي قانون الله تعالى سوف تكون دائماً في وضع التبعية، في حين أن فكرة حقوق الإنسان والديمقراطية التي هي قوانين وضعية، تكون دائماً ندا للقانون الإلهي.


من ناحية أخرى فإن ما يحدث هو مجرد مسرحية تمثيلية مثيرة للاشمئزاز من قبل الغرب وشبكات وسائط الإعلام الليبرالي كأسلوب عمل للسيطرة على عقول المسلمين حول الشريعة الإسلامية. فهم قلقون جدا من حرمان المرأة من حقها في قيادة السيارات في السعودية، لكنهم يغضون الطرف عن أعمال عنف واسعة النطاق ضد النساء كل دقيقة في بلدانهم! وأيضا هم أكثر اهتماما لحق الفرد بالتعليم في أفغانستان، ولكن الذين يعانون قصر النظر المزمن بالنظر إلى المئات من ضحايا أطفال المسلمين الأفغان في الهجوم الذي قامت به طائرات حلف شمال الأطلسي! واختاروا مواصلة الحملة بأن قوانين الشريعة الإسلامية تنطوي على تمييز ضد المرأة في آتشيه، بدلاً من تقديم حل لملايين النساء في إندونيسيا اللاتي يناضلن من أجل تحمل تكاليف الغذاء واستغلالها في وقت لاحق لكي يصبح الملايين من العمال المحليين في الخارج. إنه النفاق!


لقد ولّد جنون العظمة ضد "الشريعة الإسلامية" منهجية وخططاً وحشية محلياً ودوليا، وذلك نتيجة لمخاوف الغرب من إعادة تطبيق أحكام الشريعة الإسلامية عند المسلمين والذي سيكون مفتاح النصر والمجد، والأمن للمسلمين حتى بالنسبة للعالم بأسره. الشريعة الإسلامية التي هي من عند الله سبحانه وتعالى قادرة على حل كل مشاكل البشرية، إن الغرب مستمر في البحث عن أخطاء أولئك الذين يحاولون استرداد مجد الإسلام وشريعته التي لا تتفق مع قيم العلمانية الليبرالية المعيبة، كما أوصت شيريل برنارد، الباحثة في مؤسسة راند في تقريرها بعنوان "الإسلام الديمقراطي المدني، الشركاء والموارد والاستراتيجيات"، حيث كتبت بعض الأفكار التي ينبغي أن تثار باستمرار لتشويه صورة الإسلام، مثل انتهاكات الديمقراطية وحقوق الإنسان، وتعدد الزوجات، والعدالة الإسلامية، والأقليات، وملابس المرأة وضرب الزوج لزوجته.


كما يجب أن لا ننسى التاريخ، فإن آتشيه وجميع أنحاء الأرخبيل، طبقت فيها "الشريعة الإسلامية" بشكل شامل لما يقرب من 10 قرون تحت ظل "الخلافة الإسلامية"، علاوة على ذلك فإن المؤرخين يسمون عصر الإسلام في الأرخبيل "بالعصر الذهبي"، من المهم ملاحظة: أولاً، إن العصر الذهبي لتنفيذ "الشريعة الإسلامية" في آتشيه لم يتم بسيطرة القوى الأجنبية، والقوانين الوضعية كما هو الحال اليوم، ولم يكن هناك تعقيد أو إشكالية مثل الظروف الحالية. ثانيا، تم تنفيذ الشريعة الإسلامية في ذلك الوقت تحت قيادة "الخلافة الإسلامية" العالمية، ليس فقط في آتشيه وحدها، ولكن في جميع أنحاء الأرخبيل وفي مناطق بأكملها يحكمها الإسلام. وقد شهدت المرأة في آتشيه لقرون عديدة في كنف الشريعة الإسلامية حياة كريمة، وتقديرا لدورها في المجتمع، وعاشت حياة آمنة، ولذلك، فإن أسماء كبيرة من نساء "آتشيه" مثل حياتي لاكسامانا وقطنياك ديان كانت فقط بضعة أمثلة للعديد من الشخصيات المسلمة التي كانت لها أدوار رئيسية في المجتمع، بعيداً عن الصورة التي تتبناها وسائل الإعلام الغربية الحالية من تمييز.


لا يمكن القضاء على الحقيقة التاريخية بأن الإسلام جلب الرخاء والبركة إلى آتشيه والأرخبيل منذ قرون، بينما الاستعمار الغربي القديم والحديث على حد سواء أفقر المظلومين حتى يومنا هذا، وهو يواصل العمل ليلا ونهارا لإظهار الشريعة الإسلامية كوحش، ولكن كما قال الله تعالى:


﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾




كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
فيكا قمارة
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست