خبر وتعليق   أتذكرون معركة موهاكس يا قادة المجر؟
خبر وتعليق   أتذكرون معركة موهاكس يا قادة المجر؟

الخبر: أصدرت منظمة العفو الدولية تقريرا عن قسوة استقبال الحكومة المجرية للاجئين وذكرت شهادات لبعض اللاجئين السوريين أوردوا فيها أن الحكومة المجرية تعاملهم كالحيوانات بل أسوأ (4 أيلول/سبتمبر 2015) كما ذكر تقرير وفيديو للنيويورك تايمز أن شرطة المجر كانت ترش اللاجئين السوريين بمن فيهم الصّغار، بغازات تحرق أعينهم. ولم تخف الحكومة المجرية رفضها ومعاداتها للاجئين السوريين فقد صرح رئيس وزراء المجر "لا نريد أعداداً كبيرة من المسلمين اللاجئين ببلادنا" وقال "الإسلام يهدد جذور أوروبا المسيحية .. اللاجئون تربوا على عقيدة وثقافة مختلفة". واتخذت المجر إجراءات جديدة للتصدي للمهاجرين مثل عقوبة السجن لمدة تصل إلى 3 سنوات لمن يعبر حدودها بطريقة غير شرعية.   التعليق: شاهد العالم في الأيام الماضية صورا ولقطات تذكّر بمعسكرات النازية ومعسكرات الصرب أيام حرب البوسنة، تظهر صور نساء وأطفال خلف الأسوار يتفجر الخوف من أعينهم، وترتعد أجسامهم النحيلة من هول الفزع من مطاردات العسكر الهنغاري والمرور عبر الأسلاك الشائكة. لم تكن هذه الصور من الأرشيف بل صورا حية تبث من أوروبا الشرقية التي أنفقت بعض دولها ملايين الدولارات في حملات إعلامية للتخويف من خطر اللاجئين الفارين من حمم بشار السفاح وزبانيته وحلفائه. وأصبحت المجر المرحلة الأصعب في رحلة الفرار من سوريا حتى إن آلاف اللاجئين من أهل سوريا سارعوا بمغادرة المجر إلى النمسا سيراً على الأقدام. توالت أزمات اللاجئين بينما حاولت بعض الدول الأوروبية إظهار التعاطف معهم عبر استقبالهم وتجميد اتفاقية دبلن في حين تابعت المجر هجمتها الشرسة على لاجئي سوريا، وقد ذكر وزير الخارجية الفرنسي أن تعامل المجر مع أزمة اللاجئين مخجل. السؤال الملح هو: ما الذي يقف خلف هذا التصرف الهمجي اللاإنساني من المجر؟ نعود ليوم 21 من ذي القعدة عام 932هـ الموافق لـ 29 أغسطس 1526م لنقف على أحداث غيرت مجرى تاريخ المجر، يوم معركة موهاكس التي قضى فيها الجيش العثماني على مملكة المجر. وقد حزم الخليفة العثماني سليمان القانوني قاهر الصليبيين أمر مملكة المجر بعد أن أرسل مبعوثا لأخذ الجزية من ملك المجر وزعيم أوروبا وقتها "فيلاد يسلاف الثاني"، وكانت المجر في ذلك الحين مملكة مهابة وحامية للصليبية في أوروبا، فقام الملك المغرور بذبح رسول سليمان القانوني. فجهز سليمان القانوني جيشه على فور وصول الأنباء وكان الجيش عبارة عن 100 ألف مقاتل، و350 مدفعاً، و800 سفينة كما حشدت أوروبا جيشها، وكان عدده 200 ألف فارس، منهم 35 ألف فارس مقنع كاملا بالحديد. معركة موهاكس من المعارك النادرة في التاريخ وتتجلى فيها هيبة المسلمين وعظمة الدولة الإسلامية ومهارة وقدرات جيش الدولة العثمانية. ولم ينس المجريون هذه المعركة وتناقلوا أخبارها حتى إنهم ذكروها في أمثالهم الشعبية كقولهم "أسوأ من هزيمتنا في موهاكس" ويضرب هذا المثل عندهم عند التعرض لحظ سيئ. لم يغلبهم سوء الحظ ولم يكن انتصار المسلمين يومها صدفة بل كان بإعداد وحنكة أبهرت العالم، ولم يكن العثمانيون طالبي ملك ودنيا بل كانوا يعملون لله ولرفعة الإسلام وأهله. وفي يوم المعركة خرج الخليفة سليمان القانوني لجيشه بعد صلاة الفجر وحمس جنده بحب الله والإخلاص له، وورد أنه دخل بين صفوف فيلق الانكشارية وألقى فيهم كلمة حماسية استنهضت الهمم، وشحذت العزائم، وكان مما قاله لهم: "إن روح رسول الله عليه الصلاة والسلام تنظر إليكم" فلم يتمالك الخليفة والجند دموعهم التي انهمرت تأثرًا. تحمس الجيش وخاض معركة تاريخية حازمة وقضوا على جيش المجر وفرسانه المشهود لهم بالشجاعة في أقل من ساعتين. يجب أن لا يستهان بالذاكرة الجماعية للشعوب والأمم، فشعوب أوروبا لم تنس يوما انتصارات المسلمين وبطولات الجيش العثماني الذي لا تهزم عقيدته الجهادية. وبالرغم من مرور الزمن لا زالوا يرون في سليمان القانوني الملك المهاب والقائد الشجاع المقدام. والمفارقة أن سليمان القانوني الذي يهابه المجريون ليومنا هذا هو الذي شُوهت صورته عندنا في الروايات الرخيصة والدراما المتلفزة "حريم السلطان" فاستبدل الخونة أساطير الغواني ومكائد القصور بالملاحم البطولية والسيرة العطرة ليبعدوا الأمة عن مكمن عزتها وكرامتها في ظل تطبيق أحكام الإسلام والحياة تحت ظل الإسلام وإمرة إمام جنّة يخاف على الأمة خوف الأب على ولده. نسينا تاريخنا العظيم بينما ظل حيا في ذاكرة الآخرين ولا زالوا ينتقمون من سليمان القانوني وما فعله بفرسانهم في معركة موهاكس، بملاحقاتهم وإذلالهم للأطفال الأبرياء والرجال العزّل والنساء المستضعفات. أتت ملاحقات سكك القطارات ومصادمات المحطة والتصريحات المحرضة في ذكرى المعركة الخالدة وكأنه استعراض لقوى المملكة المهزومة. ظهرت المجر على حقيقتها بينما تحلى العثمانيون بأخلاق الفرسان فلم يعرف عنهم إيذاء المستضعفين وملاحقة الأبرياء بل كانت الدولة العثمانية ملاذا للنصارى واليهود والمضطهدين من أصقاع الأرض. لقد كان العثمانيون درعاً للإسلام؛ قولهم فعل وبأسهم شديد ولا يخافون في الله لومة لائم، ولم تكن معاركهم لإذلال الشعوب واستعمارها وأكل خيراتها وإنما كانت لنشر الخير والهدى. هذا يفسر موقف المجر، ولكن ماذا عن الدول التي رحبت بلاجئي سوريا؟ أليست هي ذاتها التي تصدت بالأمس القريب لمهاجري كالي وأعربت عن سياساتها المناهضة للهجرة واجتمع سياسيوها لتنسيق الإجراءات للحد من الهجرة وأنفقوا الملايين من أجل إنهاء أزمة اللاجئين بل وأعادوهم لديارهم خائفين خالي الوفاض؟ أوليست هذه الدول صامتة إزاء جرائم بشار في سوريا وتدعمه بصمتها المزري؟ هل بدأت أزمة لاجئي سوريا فجأة أم هي مأساة تتفاعل منذ عدة سنوات غضت الدول الغربية الطرف عنها ثم بدأت تذرف دموع التماسيح فجأة. صدق الفاروق رضي الله عنه حين قال: "لست بالخب ولا الخب يخدعني". ﴿فتفكروا يا أولي الألباب﴾.       كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرهدى محمد (أم يحيى)

0:00 0:00
Speed:
September 08, 2015

خبر وتعليق أتذكرون معركة موهاكس يا قادة المجر؟

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست