خبر وتعليق   أوروبا تدعو لتحالفٍ مع الدول العربية ضد الإسلام
January 22, 2015

خبر وتعليق أوروبا تدعو لتحالفٍ مع الدول العربية ضد الإسلام


الخبر:


دعت منسقة السياسة الخارجية بالاتحاد الأوروبي فيديريكا موغيريني إلى ضرورة تعزيز التنسيق وتبادل المعلومات الأمنية مع الدول العربية، معتبرة أن "الإرهاب يستهدف المسلمين عبر العالم لذلك نحن نحتاج إلى تحالف وحوار مع الدول العربية لمواجهته سويا".


وعقب مشاركته في الاجتماع، قال الأمين العام لجامعة الدول العربية نبيل العربي إنه عرض أمام المجتمعين موقف الجامعة القائم على ضرورة أن تكون هناك "مواجهة شاملة ضد الإرهاب".


واعتبر أن هذه المواجهة لا تقتصر على النواحي العسكرية والأمنية وإنما تتعداها إلى الجوانب الثقافية والفكرية والإعلامية والاقتصادية على حد تعبيره.


التعليق:


ما زالت الصور المسيئة للإسلام وللمسلمين تُرفع في شوارع أوروبا وأمام برلمانها في بروكسل الذي يستضيف نبيل العربي لأخذ مباركته - لا بارك الله به - نيابة عن حكام البلاد العربية في غذ سير أوروبا في حربها على الإسلام والمسلمين، وما زالت الهتافات تخرج من أعداء الله تشتم الحبيب المصطفى عليه الصلاة والسلام، وتقشعر جلود المسلمين لذلك وتنتفخ أوداجهم وتتسارع أنفاسهم غضباً لله ولرسوله، وبدل أن تهدّئ أوروبا الصليبية من الاحتقان هذا الذي سببته سياساتها الحاقدة الخرقاء، نجدها تصب الزيت فوق النار فيكاد الفرن يحترق ويحرق ما حوله، فما أغباها أوروبا!


لم تتعظ من غضب المسلمين عندما تحرك الرجل المريض فداءً للرسول الأعظم فارتعدت وأوقفت حملاتها آنذاك ضد الرسول عليه الصلاة والسلام، ولم تتعظ مما حدث في عقر دارها نتيجة لكذبة كذبوها على أنفسهم وكانوا لها أول المصدقين ألا وهي "حرية الرأي"، هذه الحرية التي لا وجود لها إلا في أذهان السياسيين الغربيين الأنذال الذين يوظفون كل شيء لمصالحهم الآنية، ولو كانوا صادقين لتركوا للمسلمين "حرية" في إبداء كرههم للديمقراطية وكفرهم بالرأسمالية ونبذهم لظلم أوروبا واضطهادها للأقليات، لكنهم يستعملون "حريتهم المكذوبة" كالسكين، يزعم من يمسك بها أنه يريدها لتقطيع الطعام، لكنه يغدر ويطعن بها من أمّنه وأمِن مكره.


إننا لا نأمن لهؤلاء الماكرين الخبثاء ولا لسياساتهم، وهكذا كان حكام الخلافة الإسلامية على مر العصور لا يأمنون لهم، ولنستمع للوزير العثماني الأعظم في رسالته للحكومة البريطانية في 29 شباط عام 1792، كما وردت في كتاب "التاريخ البرلماني لإنجلترا من البداية حتى عام 1803" للكاتب وليام كوبيت، وهو يبين له من هم وما هي سياساتهم:


(السلطان وحده يقرر الحرب ووحده الذي يختار السلم، وهو الذي يثق بأتباعه وبطانته ورعيته. لأنه يعلم إخلاصهم، وذو تجربة بفضائلهم، ويمكنه الاعتماد على أمانتهم - وهي خصائص ضاعت وتلاشت منذ أمد بعيد من جانبكم في أوروبا - ولو تحلى كل النصارى الآخرين بالصدق، لما احتاجوا أبداً للاعتماد على إنجلترا، لأنها تشتري وتبيع البشرية جمعاء.


العثمانيون لا يقيمون أي علاقة مع ملككم ولا بلدكم، ونحن لم نسع قط لنصيحتكم، ولا تدخلكم، ولا حتى صداقتكم، ليس لدينا أي وزير، ولا أي مبعوث، ولا أي مراسلات معكم... نحن لا نريد صداقتكم ولا مساعدتكم ولا وساطتكم... ونحن نعلم جيداً، إن الجشع هو ما يميزكم، فإنكم تبيعون وتشترون ربكم - فالمال إلهكم: فكل شيء هو تجارة بالنسبة لحكومتكم وبالنسبة لقومكم... فالعثمانيون لا يعرفون الاحتيال، بينما الازدواجية والمكر هي من أخلاقكم النصرانية.


نحن لا نخجل أن نكون بمنتهى الصدق والصراحة والوضوح، مخلصين لثوابت مبدئنا... لقد عشنا طويلا في عز وعلو كأكبر قوة على الأرض، ونفتخر بانتصاراتنا لعصور خلت على النصرانية الكافرة والضلال المختلط بكل أنواع الرذيلة والنفاق. نحن نعبد الله رب العالمين ونؤمن بمحمد (صلى الله عليه وسلم): وأنتم لا تؤمنون بمن تدعون أنه ربكم ولا بمن تدعون أنه الابن، الذي تصفونه إلها ونبيا معاً.


أي ركون هذا الذي يبنى على قوم مدنسين للمقدسات؟ تقصون الحقائق كما لا تعرفون الفضائل في كل مسلك وعمل فيما بينكم، اقرأوا سجلات الشكاوى والمداولات والتصريحات والاحتجاجات لكل ملوككم وحكامكم وأباطرتكم الذين عاشوا في حروب فيما بينهم. ستجدونهم كلهم وعلى حد سواء كاذبون، غادرون، طغاة، ظالمون وخائنون لعهودهم... لا نريد مساعدتكم لا في البر ولا في البحر ولا نريد مشورتكم ولا وساطتكم... إن لم تكونوا أكثر الدول النصرانية فجورا، كما يعرف عنكم، فلا شك أنكم أكثرهم جرأة في الغطرسة والوقاحة... إن مثلكم وبعض القوى النصرانية التافهة الأخرى متحدة تظنون أنكم مساوون لنا في القوة، فنحن أخبر بقدرتكم... ناهيك عن الباب العالي، الذي في كل المناسبات، التي استمع فيها إليكم وزراؤه لم يلمسوا إلا الخبث والمكر سواء من مناوراتكم أو من جهلكم... إن كل سلام بذل فيما بينكم كان، كما نعلم، لصالح الملك الذي يدفع الرشوة الأعلى. إن الوزارة العثمانية أصغت طويلا وفي مرات عديدة للمجالس الأوروبية وفي كل مرة فعلت ذلك، كانت النتيجة إما أنهم خذلوا أو بيعوا أو خدعوا. لقد كان هدفكم دائما توريط البشرية جمعاء، ثم لاحقاً تكسبون بالغدر والخيانة،... ليس لكم دين إلا الكسب، والجشع هو إلهكم الوحيد والدين النصراني الذي تدّعونه ما هو إلا قناع لنفاقكم، لا نريد أن نسمع المزيد منكم، ولهذا نأمركم بعدم الرد). انتهى


هكذا كان ردنا عندما كانت لنا دولة ذات شوكة، أما ردنا اليوم فيحمله العبد الذليل نبيل إلى بروكسل، لذا نراه ﴿كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾.


كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم أنس المقدسية

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست