خبر وتعليق   أين المسلمون وحقهم في الرعاية على أجندات حكامنا...؟؟
خبر وتعليق   أين المسلمون وحقهم في الرعاية على أجندات حكامنا...؟؟

الخبر: ذكرت سي إن إن العربية بتاريخ 11 أيلول/سبتمبر خبر مقتل 107 أشخاص وجرح 230 على الأقل بعدما سقطت رافعة ضخمة على الحرم المكي. وأظهرت صور الحادث رافعة ضخمة وقد سقطت على سقف الحرم في وقت كان المسجد مكتظا بالمصلين. وقال قائد الدفاع المدني السعودي إن الرياح الشديدة والأمطار كانا السبب في سقوط الرافعة الضخمة. وقال الفريق سليمان بن عبد الله العمر قائد الدفاع المدني إن سرعة الرياح وصلت إلى 83 كيلومترا في الساعة. وعادة ما يشهد يوم الجمعة ازدحام الحرم بالمصلين بالإضافة إلى الحجاج الذين توافد عدد هائل منهم إلى مكة. وقد شهدت شبه الجزيرة العربية عواصف رملية هوجاء الأسبوع الماضي.   التعليق: لا شك أننا أصبحنا في زمان اعتبر البعض فيه الحكم مغنما، وصار كرسي الرئاسة والولاية مطمعا، فتراق من أجل الوصول إليه الدماء، وتزهق في سبيله الأرواح، وتضيع كثير من مقدرات الأمة والشعوب بسبب التطاحن على المناصب الزائلة، والولايات الجائرة، ونسي الكثيرون في غمرة هذه الصراعات أن الإمامة وولاية شئون المسلمين ورياستهم مغرم لا مغنم، وواجبات لا مكرمات وتشريفات، ولذلك نجد النبي عليه الصلاة والسلام يقول لصاحبه أبي ذر ناصحا إياه بعدم تحمل هذه الأمانة الثقيلة، فقال: «يَا أَبَا ذَرّ! إِنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ إِلاَّ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا..». ومن هذا المنطلق نجد النبي عليه الصلاة والسلام قد حذر من أن يوكل أمر من أمور المسلمين إلى غير أهله ممن عرف بفسقه أو خيانته أو ضعفه. فعن أبي هريرة رضي الله عنه، أن الرسول عليه الصلاة والسلام قال: «إذا ضيعت الأمانة، فانتظر الساعة» قيل: يا رسول الله وما تضييع الأمانة؟ فقال: «إذا وسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة». ويقول سبحانه: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ﴾. وفي خضم هذه الشروط اللازمة لمن يحمل مسؤولية الأمة ورعايتها حق الرعاية في دينها ودنياها، نجد الأمة وقد ضاعت واضطهدت، وحوربت وضيق عليها، وهجرت وفقدت كل مقومات وجودها، وما ذلك إلا لولاية غير الأكفاء مسؤوليتها وإدارة شؤونها، فضيعوا الأمة وساهموا في تفريقها وشتات أمرها وتمزيقها، فأصبحوا جناة لا رعاة، فحادثة الحرم الأليمة خير مثال ودليل على الإهمال والتقصير في حق الرعية وممن يسمون أنفسهم ولاة أمور وأصحاب مسؤولية وضيافة ممزوجة بالأمان والاطمئنان.. من المسؤول عن هذه الأرواح التي أزهقت؟؟ وبأي ذنب؟ وكيف ستكون المحاسبة؟؟ مع العلم أن مكة المكرمة تتعرض إلى حالة من عدم الاستقرار الجوي منذ ما يقارب الأسبوع، ما تسبب في تشكل العواصف الرعدية المترافقة بالأمطار الغزيرة، والرياح القوية، وهو الأمر الذي أدى إلى وقوع الحادثة المؤسفة... ألم تنذر قوة الرياح بمخاطر وجود الرافعات فوق رؤوس العباد؟؟ لم لم تتخذ إجراءات الأمان اللازمة للمحافظة على الأرواح؟؟ أم أنها تتخذ بعد وقوع المصائب والكوارث كما عهدناهم كل شتاء عندما تغرق المدن بمياه الأمطار فتجرف البشر والشجر... أين نحن من مفهوم محاسبة الحكام على تقصيرهم وسوء رعايتهم؟ ألم يقل الله فيهم ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِيْن * عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾، أليسوا مستأمنين على الأمة ورعايتها وحفظ أرواحها فيقول الله فيهم: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ﴾. فتسألهم الأمة وتحاسبهم، ويسأل عنها أمام الله. فإذا تركت المساءلة عم البلاء والفساد ورحم الله أمير المؤمنين عمر فلقد بلغه أن عثمان بن العاص قد حمل أناسا في البحر. فقال عمر: حملهم وليس بينهم وبين البحر إلا ألواح؟. والله لئن هلكوا لآخذن ديتهم من ثقيف. فاعتبر عمر أن فعل عثمان فيه تقصير لأنه حملهم على مركب غير مؤهل للإبحار. أي لم يحسن في عمله. فالولاية رعاية، والرعاية مسؤولية، فيجب على كل من ولي من أمور الناس شيئًا أن يتقي الله تعالى فيهم، ويعلم أن الله سائله عما استرعاه، قال عليه الصلاة والسلام: «كلكم راعٍ، وكلم مسئول عن رعيته، فالإمام راع وهو مسئولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ». فأين حكامنا اليوم من رعاية شؤون أمتهم، أين هم من معاناتها ومآسيها، هجر من هجر، وقتل من قتل، وهم يصمون آذانهم عن استغاثات الأرامل والثكالى، وصرخات الأطفال اليتامى، أين هم من قضايا أمتهم؟! وقد كانوا عونا وسندا لدول الغرب عليها... إننا يوما بعد يوم نوقن تماما أن لا خلاص ولا فكاك، ولا حل لقضايانا إلا بإزالة وخلع سبب بؤسنا وقلة حيلتنا وضعفنا واستهانة الكفار بنا، وهم حكامنا ومن يسمون أنفسهم ولاة أمورنا، من جذورهم وتنصيب حاكم مسلم يخاف الله فينا، ويرعانا حق الرعاية، فيكون في مكانه مكلفا لا مشرفا... يسأل ويحاسب ويؤمر بالمعروف وينهى عن المنكر حتى يرتجع لجادة الصواب، دون خوف أو خشية من قطع عنق أو محاربة في رزق... نسأل الله العلي العظيم الرحمة لموتى بيت الله الحرام، والشفاء للجرحى، والصبر والسلوان لأهاليهم وذويهم.. وحسبنا الله ونعم الوكيل.. ﴿وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ۚإِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ﴾       كتبته ﻹذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريررائدة محمد

0:00 0:00
Speed:
September 14, 2015

خبر وتعليق أين المسلمون وحقهم في الرعاية على أجندات حكامنا...؟؟

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست