December 31, 2010

خبر وتعليق - بعض الخطوط العريضة للسياسة الأمريكية

الخبر


نشرت صفحة الشرق الأوسط في 27/12/2010 مقابلة مع فيليب كراولي الناطق باسم وزارة الخارجية الأمريكية، فمما قاله عن تسريبات ويكيليكس:"نحذر من النظر إلى وثيقة واحدة من دون فهم المضمون العام، والصورة الأوسع هي أن الولايات المتحدة تسعى من أجل ضمان مصلحتها الوطنية". وذكر أن "العبارة الأهم بالنسبة للسياسة الخارجية هي الصبر الاستراتيجي حيث أن أمامها تحديات كبيرة في العام المقبل، على رأسها بدء عملية نقل السلطات الأمنية من القوات الأمريكية وقوات الناتو إلى الأفغان بحلول يوليو / تموز المقبل". وقال "عند التعامل مع النزعات فإن الأمر يحتاج إلى الوقت، وقد يستغرق أجيالا لشفاء الجروح في المجتمع ولكن المهم أن لا نكون سجناء الماضي". وقد كشف عن علاقة أمريكا بالأنظمة القائمة في العالم الإسلامي، فقال "نحن نساعد في تقوية مؤسسات الحكم التي بإمكانها أن تواجه التحديات المحلية أو الإقليمية أو العالمية ونقوم بذلك في أرجاء عدة من العالم، مثل الباكستان وأفغانستان وفي أنحاء من أفريقيا". وقال عن العلاقة مع الصين وكوريا الشمالية "العلاقة مع الصين أوسع بكثير من الكوريتين بما في ذلك الاقتصاد". وعن قيادة أمريكا للعالم، قال "نحن نحاول القيادة من خلال إعطاء مثال جيد وأحيانا نخفق في المعايير الدولية ولكن في هذه الحالة من الواضح على الدولتين الرائدتين القيام بدور القيادة". "الولايات المتحدة مع (في) كل ركن في العالم". وقال عن منطقة الشرق الأوسط "الحوار ليس هدفا في حد ذاته بل وسيلة لتحقيق هدف، سيكون لدى سوريا تأثير في المنطقة، والمنطقة مهمة بالنسبة لنا فمن المناسب أن نتواصل مع سوريا وقد فعلنا كل ما في مقدورنا للتواصل مع سوريا بطريقة بناءة".


التعليق


نستطيع أن نستنبط من كلام الناطق باسم الخارجية الأمريكية بعض الخطوط العريضة لسياسة أمريكا الخارجية ونعلق عليها فنقول:


1.أمريكا تعمل لمصلحتها الذاتية فقط، فسياستها مرتكزة على أساس المصلحة في الدرجة الأولى، فعندما تكلمت عن تسريبات موقع ويكيليكس أظهرت أنه من الواجب أن يفهم مضمونها العام وأن ينظر اليها بصورة أوسع أي أن ينظر إلى ما تقصده أمريكا من ذلك، وماذا يفيد سياستها وماذا يخدم مصالحها. فأرادت أن تقول أن المقصود من هذه التسريبات بشكل عام هو خدمة المصلحة الأمريكية. فأمريكا تعمد إلى الكشف عن أشياء وتخفي أشياء وتخلط بين أشياء فيما يخدم سياستها ويحقق مصالحها، سواء بفضح سياسات وسياسي دول، أو بالتغطية على بعضهم أو بالتضليل على أمور معينة. ولذلك يجب الوعي عما يصدر من أمريكا ومعرفة الصدق من الكذب منه وعدم الوقوع في الفخاخ التي تنصبها من كل ذلك.


2.أمريكا تشعر أنه من الممكن أن تفلت زمام الأمور من يدها ولذلك تراعي الظروف المحلية والإقليمية والعالمية حتى تتغلب على التحديات الناتجة عن هذه الظروف، فمع أنها تعمل على أن تتروى تحت مسمى الصبر الاستراتيجي، وأنها تعلم أن علاجاتها ربما لا تقبل فورا من قبل الآخرين ولكنها تراهن على عامل الزمن وعلى الأجيال القادمة التي ستنشأ في ظل الوقائع الجديدة والغريبة عن الأمة وحتى تدمل الجروح التي فتحتها بسبب الدمار الذي تحدثه في حروبها المسعورة على الأمم والشعوب الأخرى، فتعرف أنها غير مقبولة في أفغانستان والباكستان ولكن ترى أنه بعد أجيال ستكون سياستها مقبولة لأن الأجيال القادمة ستنشأ في ظل الظروف التي أوجدتها أمريكا، وكما هو حاصل في فلسطين حيث أنها ترى أن البعض من أهلها صار يقبل بالواقع الجديد والغريب عن الأمة، فصار يقبل بوجود كيان يهود على أغلب أرض فلسطين. ولكن هذا ربما ينطبق على بعض المسلمين وليس على مجموع الأمة الإسلامية وفي ظروف مؤقتة وليس دائمية. فألمانيا واليابان التي كان بوش وأركان إدارته السابقين يضربون المثل بهما ويقولون أننا تحاربنا مع الألمان واليابانيين وبعد ذلك زال العداء من بيننا وأصبحنا أصدقاء وحلفاء، وهكذا سنصبح أصدقاء وحلفاء مع العراقيين بعدما تحاربنا معهم، فهذا القياس الشمولي خطأ وتطبيقه على كل شعوب العالم خطأ. فالساسة الأمريكان يفكرون بهذه العقلية ويسيرون على هذا الخط.


3.تعمل أمريكا على كسب الصين كما كسبت ألمانيا واليابان حتى تصبح حليفتها أو دولة تدور في فلكها. لأنها ترى فيها قابلية لذلك، بسبب طبيعة الصينيين واستعدادهم للعمل مع الأمريكان لعدم تركز أي مبدأ لديهم، فالشيوعية لم تتمركز لديهم، بل تستطع أن تقول أنها اندثرت وما بقي إلا اسمها لأسباب سياسية. ولذلك فإن الدولة في الصين تعمل على إحياء الثقافات القديمة لدى شعبها مثل الكونفوشية لعلمها بضرورة وجود فكر وثقافة لدى الشعب، وإلا فإن الشعب سيتأثر بثقافة الآخرين ويقع تحت سيطرتهم. فالأمريكان يدركون واقع الصين، ولذلك قال الناطق باسم خارجيتهم بأن العلاقة مع الصين أوسع بكثير من الكوريتين، ولم يقل من كوريا الشمالية فقط، بل من الكوريتين أي أن الصين أهم لديهم من الكوريتين وما أمر الكوريتين إلا ليخدم سياساتهم تجاه الصين وليس أمر الصين اقتصاديا فقط. ولذلك لا ترى الأمريكان يسيّرون حملة ضد الشيوعية في الصين لأنها غير موجودة في الواقع وغير مؤثرة على شعب الصين، ولكنك تراهم يسيّرون حملة ضد الإسلام بل حملة قوية وشرسة ومجحفة بحق الإسلام وأهله، لأنها ترى تأثير الإسلام على الإمة الإسلامية وقرب ظهوره ومدى خطورته على مصالحها بل على عظمتها وعلى كيانها.


4.ترى نفسها أنها قائدة العالم وتريد أن تحافظ على هذه القيادة، فترى أن من حقها أن تتدخل في كل ركن من أركان العالم وأن تفرض سياستها عليه. وإذا قبلت دولة كبرى بجانبها إنما تقبلها لتستعين بها عندما ترى أنه لا بد من ذلك وحتى تظهر للعالم أنها غير متفردة في شؤون العالم وأن غايتها ليست إقالة الآخرين وعزلهم فيسبب لها مشاكل كبيرة كما حصل لها في عهد بوش المنصرم. ولكن الحقيقة أنه لا يحق لأمريكا أن تقود العالم وهي ليست أهلا لذلك، لأنها لا تعمل لخير العالم وإنما تعمل لتحقيق مصالحها الذاتية فقط.


5.تعتمد على الأنظمة القائمة في العالم الإسلامي ومنه أفريقيا، وتعمل على ربطها بها تحت اسم تقويتها حتى تمرر سياستها بواسطتها. فهي تعتمد على الأنظمة في سوريا وفي تركيا والباكستان ومصر وفي غيرها حتى تمرر أو تنجز أو تثبت سياستها. لأن أمريكا تدرك أنه مهما بلغت عظمتها فإنه إن لم يكن لها أدوات للتنفيذ فإنه يصعب عليها أن تنفذ كل ما تريد ويكلفها الكثير. فقوة هذه الإنظمة العميلة ليست نابعة من سند طبيعي وهو الأمة، وإنما نابعة من سند خارجي وهو أمريكا التي تعمل على تقوية تلك الأنظمة لبسط نفوذها ولتركيز هذا النفوذ في العالم الإسلامي. فاذا أدركت الأمة الإسلامية ذلك واستعدت للتضحية فإن بمقدورها إسقاط هذه الإنظمة المدعومة أمريكيا وكذلك طرد أمريكا من المنطقة الإسلامية كلها وإقامة صرح خلافتها العظيم.

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست