خبر وتعليق   بِظهُورِ دَولةِ الخِلافَةِ الرَّاشِدَةِ الثانيَةِ  تَنتَهِي مَشارِيْعُ الأعْدَاءِ، ويَأمَنُ المُسلِمُونَ مَكرَهُم
خبر وتعليق   بِظهُورِ دَولةِ الخِلافَةِ الرَّاشِدَةِ الثانيَةِ  تَنتَهِي مَشارِيْعُ الأعْدَاءِ، ويَأمَنُ المُسلِمُونَ مَكرَهُم

الخبر: نقلت صحيفة (الحياة) الاثنين، 18 أيار 2015 عن مصادر أمنية وعسكرية عراقية تأكيدَها انسحاب قطاعات الجيش، والفرقة الذهبية من مركز قيادة العمليات وسط الرمادي (عاصمة الأنبار) التي دخلها مسلحو «التنظيم»، بعد يومين من المعارك وغارات طيران التحالف الدولي. وأفادت تلك المصادر بأن «التنظيم» أجبر قوات الجيش على الانسحاب غير المنظم إلى القاعدة العسكرية في الحَبَّانِيَّة، لتصبح معظم أحياء الرمادي تحت سيطرته. وقال نائب رئيس مجلس محافظة الأنبار فالح العيساوي أمس أنَّ «التنظيم» أعْدَم أكثر من 500 شخص من المدنيين نِصْفهُم من النساء والأطفال عن طريق إطلاق النار على أجسادهم، فضلًا عن قيامه بقطع رؤوس عناصر الشرطة وأبناء العشائر. وأنَّ "جثث القتلى ملقاةٌ في الشوارع العامة والفرعية في المناطق السكنية بالرمادي دون أن ينتشلها أحدٌ نتيجة سيطرة الإرهابيِّين على تلك المناطق".   التعليق: المُتابعُ للشأن العراقيّ يَعلم أن اتفاقية الإطار الاستراتيجيّ (المعقودة) بل المفروضة على حُكام العراق الجُدد من قِبَل أمريكا، تُلزِمها بالدفاع عن العراق إذا ما تعرَّض لعدوانٍ ما لحماية بنائِها الهشّ الذي خلفته فيه. ذلك أنها جعلت من العراق بلداً فاشلاً بلا مؤسَّسات، ولا قوانين صالحة، ولا جيشٍ قادرٍ على حمايته، لكِنَّ المُشاهَدَ والمَحسوس أن أمريكا تتباطأ في إنجاز ما تقتضيهِ تلك الاتفاقية. فمنذ ظهرَ تنظيمُ الدولة (الإسلامية) والمعارك تتجدَّد بين الآونة والأخرى في مواطن كثيرة من البلاد، لا سيَّما على حدود العاصمة أو ما يُعرف بحزام بغداد، حتى إذا بلغ التهديدُ هذا الحدّ نشطت طائراتُ العدوِّ الغازي تدكُّ كل ما يتحرك على الأرض حفاظًا على ديمومة مشروعها الهدام في العراق والمنطقة. ولقد سبقَ سقوطَ الرمادي بكاملها في يد «التنظيم» مناشداتٌ من محافظ الأنبار وشيوخها لتسليح أبناء العشائر ومنذ عدة أشهرٍ لكن دون جدوى، وقد حذَّروا من هذه النتيجة، فلم تستجب أمريكا ولا الحكومة. بل لقد ذكر (حيدر المُلا) عضو المكتب السياسي لاتحاد القوى الوطنية - في مقابلة مع قناة العربية الحَدث - أنَّ أرتال المدرعات جاءت بالمَدَد «للتنظيم» عابرةً الحدود السورية وعلى مرأى من الرقابة الجوية الأمريكية دون أن تُحرك الأخيرة ساكنا..! كما أنَّ مجلس المحافظة والمحافظ اجتمعوا مع السفير الأمريكي في بغداد للتعجيل بدعم المقاتلين هناك وقبيل سقوط الرمادي فلم يُنجَز شيء، فما كانت حُجَّةُ الأمريكان بعد وقوع الواقعة إلا أن قالوا: أنَّ انهيار المعنويات كان وراء سقوط الرمادي. وإن المدقق في تصرُّفات المحتل لا يجد غير محاولتهِ إحراز بعض الأهداف، منها خلق أوضاعٍ معقدة لابتزاز الحكومة، وفرض شروط قاسية عليها لتنفيذ أجندات معينة، والضغط على التحالف (الشيعيّ) للقبول بتسليح العشائر (السُّنّية) للحيلولة دون سقوط ديارهم وإلا بات «التنظيم» على أبواب بغداد..! هذا من جهة المحتل الكافر، أما أركان الحكومة النافذون فلم يزالوا يضعون العقبات في طريق تسليح العشائر بدوافع طائفية، لشلّ يد القوات المسلّحة، وإفساح المجال أمام مقاتلي «التنظيم» المتشدّد لخلق وضع كارثي يحتّم الاستنجاد بالميليشيات الشيعية لمواجهته. ولقد تم لهم ما أرادوا، فقُدِّمَ الطلب من مجلس محافظة الأنبار لإشراك قوات «الحشد الشعبي» المؤلفة بمعظمها من فصائل شيعية مسلحة، في تحرير المحافظة، وقد جاءت هذه الخطوة بعد شهور من الجدل بسبب رفض سياسيين (سُنَّة) وشيوخ ومسؤولين في المحافظة لهذه الفكرة، ثم تزامن هذا الطلب (التنازل) مع رفع التحفظ الأميركي عن إشراك «الحشد» بشرط أن يكون مقاتلوه بإمرة رئيس الوزراء حيدر العباديّ، وكأنَّهم يأتمرون بأمره...! وبذلك تحققتْ أهداف الطائفيين بإضافة نَصرٍ لحساب الميليشيات يرسّخ دورها المتعاظم على الساحة العراقية، ويُسهّل الانقضاضَ والإجهاز على المدينة بمَن فيها وتدميرها بالكامل، وتؤكّد مصادر عراقية أن ما يجري في الرمادي ليس وليد الصدفة، بل يسير وفق مخطط مسبق. والأنبار هي المحافظة المغضوب عليها من قبل أمريكا وإيران ومَن يسير في ركابهما، لرفضهم الاحتلال الغاشم ومقاومته. ولن يكون حال محافظة نينوى بأحسن منها، فالمخطط الخبيث الذي جاء به المحتل الكافر هو تدمير وتمزيق ديار (أهل السُّنّة) ليس في العراق فحسب، بل في معظم ديار المسلمين: أفغانستان وباكستان وليبيا وسوريا واليمن وأمثالها لحملهم العقيدة الإسلامية الصحيحة التي تُورِثُ عداوة الكافرين، ونبذ مبدئهم الرأسمالي الذي ما جرَّ على المسلمين غير العَنَت والضعف والأزمات. ومصر الكنانة هي الأخرى تكتوي بنار فِرعَونها (السيسيّ) وما جَنتْهُ يداه من جرائم بحق أهلها وإخوانهم في سيناء وغزة، ودون نكير من المنظمات المتشدقة بحقوق الإنسان. وفي الختام، فإنَّ وعيَ الأمةِ على أوضاعها بات أمرًا حتميًا، لما يُشاهد من حِقدِ وشراسة الأعداء تجاه المسلمين، وافتضاح مشاريعهم، يتزامنُ ذلك مع تساقط الأقنعة لأحزاب وزعامات ووعَّاظ سلاطين، وصدق الله العظيم إذ يقول: ﴿مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾، وإننا لعَلى ثقةٍ عاليةٍ بتوفيق ربنا عزَّ وجلّ ونَصْرهِ للعاملين المخلصين على مشروع دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، لاستئناف الحياة الإسلامية، وتسنُّمِ أمةِ الإسلام مركز القيادة للعالم أجمع، لتكون ملاذًا لكل مظلوم، وحربًا على كل ظالم، وما ذلك على الله بعزيز. ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾.     كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرعبد الرحمن الواثق - بغدادالمكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية العراق

0:00 0:00
Speed:
May 21, 2015

خبر وتعليق بِظهُورِ دَولةِ الخِلافَةِ الرَّاشِدَةِ الثانيَةِ تَنتَهِي مَشارِيْعُ الأعْدَاءِ، ويَأمَنُ المُسلِمُونَ مَكرَهُم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست