November 25, 2014

خبر وتعليق بل إن نظام الأسد استفاد بشكل مباشر من التحالف ضد تنظيم الدولة


الخبر:


واشنطن/ إركان أفجي/ الأناضول 20/11/2014م قال وزير الدفاع الأمريكي "تشاك هيغل"، إن نظام الأسد استفاد بشكل غير مباشر من التحالف الدولي؛ الذي شُكّل لمحاربة تنظيم داعش. جاء ذلك خلال استضافة هيغل في برنامج "تشارلي روز" على قناة PBS الأميركية.

التعليق:


منذ اللحظة الأولى التي قامت أمريكا فيها بتشكيل التحالف الدولي لمحاربة الإرهاب، بل منذ اللحظة الأولى التي أعلنت فيها أمريكا عن عزمها تشكيل هذا التحالف، أدرك كل ذي بصر وبصيرة أن هذا التحالف ليس لمحاربة الإرهاب، بل هو لمحاربة الإسلام ومنعا لوصوله إلى سدة الحكم، ولمحاربة المسلمين والاستيلاء على ثرواتهم ومقدراتهم، وقد قال يومها حزب التحرير الرائد الذي لا يكذب أهله، مبينا حقيقة أمريكا ومبينا كذبها: "إن الحُجّة التي ساقتها أمريكا لذاك الحلف هي حجة داحضة... فالذي يكافح الإرهاب يجب أن تكون يده نظيفة منه، لا أن يكون هو أصل شجرة الإرهاب والمغذي له وصانعه على عينه! فمَنْ وراء القتل الفظيع والتعذيب الشنيع في أفغانستان والعراق وباغرام وأبي غريب وغوانتنامو؟ أليست هي أمريكا؟ ثم أليس قتل المسلمين في بورما وأفريقيا الوسطى قتلاً وحشياً تنأى عنه وحوش الغاب، أليس ذلك إرهاباً تراه أمريكا وتسمعه بل وتدعمه، فقد تصاعد التعاون الاقتصادي بين بورما وأمريكا مع تصاعد هجمات سلطة بورما على المسلمين فيها..." ثم كشف عن طبيعة العلاقة بين أمريكا ونظام بشار التي طالما ذكرها الحزب وبينها للمسلمين، فقال: "ثم لماذا نبتعد؟ فمن وراء مجازر طاغية الشام؟ أليست أمريكا هي التي تحرك جرائم بشار بستار أو دون ستار؟ فمَنْ لا يعلم أن بشار صناعة أمريكية هو ووالده من قبل؟! إنها تترك له المجال للجرائم التي تجاوزت البشر إلى الشجر والحجر، وذلك إلى أن تفرغ أمريكا من إعداد عميلٍ بديل بوجه أقل سواداً من عميلها الحالي بشار الذي أوشك على استنفاد دوره..."، أما عن زعم أمريكا أن هذا التحالف هو من أجل محاربة تنظيم الدولة، فإن حزب التحرير أيضا قال داحضا هذه الحجة: "ثم هل هناك من عاقل صاحب بصر وبصيرة يمكن أن يرى شيئاً من شيء من مصداقية لأمريكا في إنشائها حلفاً من أربعين دولة لقتال تنظيم مسلح إلا أن يكون وراء الأكمة ما وراءها، بل ومن أمامها أيضا؟ إن الأمور لم تعد تتوارى بل هي تحاك جهاراً نهاراً...!"


وأما عن حقيقة هذا التحالف الشيطاني والغاية التي من أجلها أنشئ، فقد قال حزب التحرير: "إن حلف أوباما الاستعماري القاتل للمنطقة هو من أجل دخول النفوذ الأمريكي من باب عريض يُفتح له بأيدي حكام طغاة لا يستحيون من الله ولا من رسوله والمؤمنين. لقد كان النفوذ الأمريكي يتسلق ليدخل من فتحات يدلُّه عليها الحكام في الخفاء، والآن يدخل من باب يفتحه الحكام بأيديهم دون حياء...! إن حلف أوباما ليس لمكافحة الإرهاب بل للهيمنة على المنطقة لهدفين اثنين: ضمان نهب ذهب المنطقة الأسود، وتيسير تدفقه إلى مخازن أمريكا، والثاني أن تحول بين البلاد الإسلامية وبين عودة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، ظناً من أمريكا وأعوانها أنهم قادرون على ذلك بكيدهم ومكرهم ﴿وَمَكْرُ أُولَئِكَ هُوَ يَبُورُ﴾، هذان هما الهدفان اللذان تسعى لهما أمريكا، وما مكافحة الإرهاب إلا غطاء لم تتقن أمريكا نسجه فيخفي ما تحته!"


وقد سبق وأن أوضح حزب التحرير أن أمريكا وحلفاءها من الغرب الكافر وعملاءهم حكام المسلمين لا يجتمعون على خير، بل هو الشر كل الشر للأمة الإسلامية وثورتها المباركة في الشام، فقال: "إنهم اجتمعوا على أهل الشام فقط لمحاربة التكبيرات الهادرة، والهتافات الصارخة التي تعلن عدمَ الركوعِ إلا لله، وأن الشعب يريد الخلافة والحكم بما أنزل الله... هذه الهتافات كانت تصب في آذان تلك الدول، فجمعتهم الخشيةُ من الخلافة، ومن ثم ألقوا وراء ظهورهم ما كانوا يتشدقون به من ألفاظ الجرائم في حق الإنسانية، الإبادة الجماعية، المجازر الوحشية، حقوق الإنسان... كل هذه نُزِعت من قواميسهم، فكل ذلك جائز عندهم، بل هو واجب لديهم للحيلولة دون عودة الخلافة إن استطاعوا... هكذا هم اليوم، وقبل اليوم، في كيدهم وحقدهم على الإسلام وأهله ﴿لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ﴾، ﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَر﴾."


من هذا كله، ومن غارات التحالف التي تصب حممها على المدنيين وتفتك بهم، والتي تقصف مواقع الجماعات الإسلامية الأخرى غير تنظيم الدولة - الذي ادعت أمريكا أن هذا التحالف من أجل القضاء عليه -، ومن الأسلحة والذخيرة التي تسقط على تنظيم الدولة (بالخطأ) فتمد بعمره وتزيد من قوته، ومن مبادرة الأمم المتحدة الأخيرة التي جاء بها دي ميستورا، ومن المبادرة الروسية المصرية، ومن محاربة تنظيم الدولة للجماعات المسلحة في سوريا وعدم سعيه لإسقاط نظام بشار، وبالتالي إشغالهم به من ناحية وانشغالهم عن محاربة بشار من ناحية ثانية، ومن اقتتال الجماعات المسلحة فيما بينها، بعد أن أغرتها أمريكا بالمال السياسي القذر من خلال قطر والسعودية وغيرهما، ومن عدم محاربة أمريكا وحلفها لبشار وتركه يستفرد بأهل سوريا فيوغل فيهم قصفا وقتلا وذبحا، دون حسيب أو رقيب، بعد أن أوعز الغرب الحاقد للإعلام المأجور بتسليط الأضواء على تنظيم الدولة وعلى أعمال التحالف، وغض الطرف عن مجازر بشار ضد أهل الشام؛ من هذا كله ومن غيره، يتضح للقاصي والداني أن بشار لم يستفد من التحالف ضد تنظيم الدولة بشكل غير مباشر كما قال هيغل، بل استفاد منه بشكل مباشر، وأن أمريكا حافظت على بشار لتبقيه في الحكم ما دام حيا كما فعلت مع المجحوم أبيه من قبلُ إن استطاعت، أو تبقيه في سدة الحكم إلى أن تفرغ من إعداد عميلٍ بديل له بوجه أقل سواداً من وجهه القبيح.


أخيرا أقول ما قاله رب العزة تبارك وتعالى في محكم تنزيله: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ * لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىَ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعاً فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمد عبد الملك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست