خبر وتعليق برنامج حكومة حزب العدالة والتنمية الـ62: تركيا جديدة مع الديمقراطية العفنة
September 11, 2014

خبر وتعليق برنامج حكومة حزب العدالة والتنمية الـ62: تركيا جديدة مع الديمقراطية العفنة

الخبر:


أورد موقع هورسيدا خبر التركي خبرا جاء فيه: صرح رئيس الوزراء أحمد داوود أغلو عن برنامج الحكومة في اجتماع الجمعية العامة للبرلمان. فقد تم الاجتماع لبحث الأهداف في البرنامج الذي يصل إلى 189 صفحة تحت العناوين: ديمقراطية متقدمة، ونهضة إنسانية، وأماكن صالحة للسكن، وبيئة صحية، واقتصاد قوي، ودولة في الطليعة. بينما ما سيتم اتخاذه بشأن عملية الحل والدستور الجديد تندرج تحت عنوان ديمقراطية متقدمة، إلا أنه تم ذكر جماعة غولان بأنها "العناصر التي تهدد الأمن القومي". كذلك فإنها أول مرة يتم إدراج "عملية الحل" ضمن برنامج الحكومة. كما أن هناك أمراً آخر يشد الانتباه وهو إدراج مكافحة الدولة الموازية "جماعة غولان" ضمن برنامج الحكومة.

التعليق:


تم إعداد برنامج الحكومة الذي يصل إلى 189 صفحة، ولكن عند النظر إلى هذا البرنامج تُرى هل نجد أنه تم إعداده لحل المشاكل التي تواجه الدولة، أم لخدمة رجل واحد وضمان بقائه وإثبات إخلاصه؟؟؟


إن تركيا تواجه حاليا مشاكل عملاقة فبدل أن يكون هذا البرنامج مُعداً لحل هذه المشاكل نرى أنه مليء بالحماسة. فبرنامج حزب الحكومة الـ62 لا يكفي أنه لا يتضمن حلولا لمشاكل البلاد بل تندرج ضمنه مسائل لا شك أنها ستولد مشاكل جديدة للبلاد.


أولا إن جملة "ديمقراطية متقدمة" لهي مصدر جميع المشاكل لما يقرب من مئة مكان، إلا أنها قد تعاقبت 62 حكومة من ضمنها هذه الحكومة أثناء تطبيق هذا النظام الذي يخالف عقيدة المسلمين لفترة تقارب المئة عام بحجة إنهاض الإنسانية. إلا أن أياً منها لم تتمكن من تحقيق أي نوع من النهضة سواء إنسانية أو أخلاقية أو مادية أو روحية.


إلا أن هناك ثلاثة مواضيع هي الأهم من بين برنامج الحكومة الذي يصل إلى 189 صفحة، وهي:


1- أول مرة يتم فيها إدراج "عملية الحل" ضمن برنامج الحكومة، وهذا يظهر أنه سيتم اتباع أسلوب الحكومة السابقة مجددا فيما يتعلق بالمسألة الكردية.


2- التأكيد على استمرار مكافحة جماعة غولان التي يشار إليها باسم الدولة الموازية.


3- التأكيد على تركيا الجديدة، وخصوصا الرؤية لعام 2023.


فيما يتعلق بالمسألة الكردية، فإن مؤسسي الجمهورية قد قاموا بتأسيسها على أساس القومية التركية العلمانية بعدما ألغوا الخلافة وحطموا الرابطة الإسلامية بين جميع المسلمين. وهكذا سعوا إلى خلق جماعة من بين الأمة، إلا أن السياسة هذه التي اتبعتها الدولة عبر السنين قد افتعلت مشكلة عملاقة، حيث أدت إلى موت الآلاف وصرف مليارات الليرات.


كذلك فقد أعرب رئيس أركان الجيش خلال استقبال رئاسة الجمهورية الأخيرة عن عدم وجود أي معلومات لديه عن آخر التطورات بشأن "عملية الحل"، مما يدل على عدم وجود تنسيق بين المؤسسات التي تعمل على هذه المسألة. فالعملية التي بدأت منذ 2005 ولا تزال تستمر حتى يومنا هذا وقد تعددت أسماؤها حتى رست على مفهوم "عملية الحل" وهي تهدف إلى:


هي مشروع تتريك الأكراد أو دمجهم في النظام تحت اسم الديمقراطية/ مواطنين متساوين بعد فشل سياسة دمج الشعب الكردي في النظام بأسلوب الإنكار والإسكان والاستيعاب، وانطلاقا من التطورات التي حدثت في شمال العراق وسوريا. فإذا كانوا يسعون لملء الفراغ الإسلامي بسياسات مثل الديمقراطية أو الأمن فلن ينجحوا بهذه العملية أبدا. لأن الشعب الكردي المسلم لن يرضى لنفسه دمجا في نظام غير النظام الإسلامي.


أما عن موضوع مكافحة الدولة الموازية "جماعة غولان": فقد أدرجته الحكومة في برنامجها ليس إلا لقطع الطريق أمام الاتهامات حول الوثائق والمعلومات التي ظهرت حول أردوغان والمقربين منه مع عملية الفساد والرشوة. أي الهدف الرئيسي منه هو إرضاء رئيس الجمهورية أردوغان. حيث إن القاضي خلال الأيام السابقة قام بإغلاق الملف حول المشتبه بهم الـ96 في عملية 17 ديسمبر كما في عملية 25 ديسمبر (من بينهم بلال أردوغان)، كما أعطى قرارا بـ"التخلص" من المعلومات والوثائق التي تم تجميعها. فإدراج مكافحة الدولة الموازية ضمن برنامج الحكومة يدل على خوف أردوغان وزبانيته من رفع ملف الفساد والرشوة إلى القضاء.


أما حول ما قاله أحمد داوود أوغلو عن رؤية "2025" في برنامج الحكومة: إن الأقوال التي طرحت حول "ستصبح تركيا صاحبة 10 أكبر اقتصاد" و"ستنضم تركيا في العشر سنوات المقبلة إلى الدول المتطورة"، و"ستلف تركيا أهدافها مع رؤية 2053، 2071" فليست سوى دعاية لتحميس وتشجيع الشعب.


إلا أنه ليس هناك أي فرق بين تركيا الجديدة وتركيا القديمة، فليس هناك أي جديد غير أن وزير الخارجية الأسبق داوود أوغلو قد أصبح الآن رئيساً للوزراء، مما دفع جميع الأحزاب ذات المجموعة في البرلمان لأن تنتقد برنامج الحكومة، إلا أن جميع هذه الانتقادات كانت بعيدة كل البعد عما يحتاجه الشعب المسلم فعلا وما يحل مشاكله.


«إنّها أمانة وإنّها يوم القيامة خزي وندامة إلاّ من أخذها بحقّها وأدّى الذي عليه فيها»

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
عثمان يلديز

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست