خبر وتعليق   بريطانيا رفضت عام 1932 عرضًا سعوديًا للتنقيب عن النفط مقابل قرض
November 16, 2014

خبر وتعليق بريطانيا رفضت عام 1932 عرضًا سعوديًا للتنقيب عن النفط مقابل قرض


الخبر:


كشف تقرير أعدته هيئة الإذاعة البريطانية "بي بي سي" عن أن بريطانيا رفضت عام 1932 عرضًا من جانب المملكة العربية السعودية بالسماح لها بالتنقيب عن النفط في أراضيها مقابل منحها قرضًا يساعدها على تجاوز تداعيات موجة الركود الاقتصادي العالمي في تلك الفترة.


وقالت البي بي سي إن فؤاد بك حمزة، الذي كان يعمل مستشارًا خاصًا للملك السعودي، هو من أثار موضوع القرض المالي مع الموظف المرموق في وزارة الخارجية البريطانية حينها سير لانسيلوت أوليفانت. وكانت السعودية تمر في تلك الفترة بأزمة مالية، نتيجة تراجع الإيرادات الخاصة بموسم الحج، وانتشار شكوك حول ما إن كانت المملكة تحظى بأي احتياطات نفطية، على غرار تلك التي اكتشفت في الجارتين إيران والعراق.


لكن أوليفانت تحدث عن وجود صعوبات بشأن القرض نظرًا إلى وجود الكثير من القلاقل والاضطرابات على الصعيد الاقتصادي. وكشف حمزة في سياق عرضه لطلب القرض عن أن السعودية لا تحتاج سوى 500 ألف جنيه إسترليني على هيئة ذهب (عشرات الملايين من الجنيهات الإسترلينية بقيمة اليوم). واكتفى أوليفانت بالقول إنه سيتشاور مع الجهة المختصة.


وقالت البي بي سي ربما كان بالإمكان تخيل مشاعر أوليفانت، الذي تعامل مع الطلب السعودي بقدر من التعالي الاستعماري والحذر الشديد، بعد سماعه يوم 31 من شهر أيار (مايو) أن منقبين أميركيين اكتشفوا احتياطات نفطية في البحرين قبالة الساحل السعودي. ليوافق الملك عبد العزيز خلال عام على تسليم امتياز للبحث عن النفط السعودي إلى كونسورتيوم أميركي، حيث كُشِف هناك عام 1938 عن أكبر احتياطي في العالم من النفط الخام.

التعليق:


لم يعد خافيا على أحد كيف جند الإنجليز آل سعود لخدمتهم عن طريق عميلهم عبد العزيز بن محمد بن سعود لضرب الدولة الإسلامية العثمانية من الداخل، وكيف أمدوا محمد بن سعود ثم ابنه عبد العزيز بالمال والسلاح في القرن الثامن عشر، وكيف استغل آل سعود المذهب الوهابي ـ وهو من المذاهب الإسلامية ـ استغلوه في أعمال سياسية لضرب الدولة الإسلامية ولإثارة حروب مذهبية داخل الدولة لإضعافها، ثم تم الإجهاز على الخلافة في عاصمتها إستانبول على يد مصطفى كمال...


وقد استمر هذا الولاء للإنجليز حتى في دولة آل سعود الثانية، وهذا ما يؤكده الخبر أعلاه، إذ أي عقلية سياسية مخلصة تتوجه لأعداء الأمة كي تقدم لهم ثروات الأمة على طبق من ذهب في مقابل "قرض" لتثبيت حكمهم؟ لا شك أن هذا لا يفعله إلا من استمرأ الخيانة والذلة والهوان، وجعل مصالحه فوق مصالح الأمة، بل جعل مصالح الأمة تحت نعال المستعمرين.


كان آل سعود يعانون ضائقة مالية تهدد عرشهم بعد تراجع إيرادات الحج، فجاء اكتشاف النفط في البحرين عام 1932م ليفتح شهية آل سعود على حساب ثروات الأمة ومقدراتها، فكان رفض طلب عبد العزيز آل سعود لذلك القرض مقابل الحق الكامل في نفط البلاد للإنجليز، ثم جاء التعاقد مع شركة سوكال - كاليفورنيا (شيفرون حاليا) حيث تم اكتشاف أول بئر تجاري في الدمام في 4 مارس 1938م، وبالرغم من تأسيس شركة أرامكو (والتي كانت مسجلة في أمريكا كشركة أمريكية) إلا أن السعودية لم تحصل إلا على حصة 25% عام 1973م والباقي أمريكي (كان متوسط سعر برميل النفط آنذاك 2.70 دولار فقط)، إلى أن تم تأميم الشركة عام 1988م حيث وصل السعر في المتوسط إلى 14.24 دولار.


ومن اللافت أن إطلاق وصف "شركة" على هذه المؤسسة يخالف واقعها كونها مملوكة ـ بحسب ما هو معلن ـ لشخصية اعتبارية واحدة هي دولة آل سعود، وقد أنشئت بمرسوم ملكي خاص، وهي بهذا لا تخضع لأي قانون للشركات المساهمة ولا تعلن عن أرباح أو خسائر أو التزامات... أو من هم المنتفعون من أرباحها فعلا، ولمن تذهب المليارات وعلى ماذا تصرف... فكل ذلك خاضع للسرية التامة حتى الساعة. فلا حق لأي مواطن سعودي أن يسأل من أين لكم هذا!.


وبعد مرور عشرات السنين فإن الفقر والعوز يعم قطاعا واسعا من الشعب، ورغم تصدير أكثر من 10 ملايين برميل يوميا (صدرت في عام 2012 ما يقارب 3.5 مليار برميل وكان متوسط سعر النفط 110 دولار وبالتالي فإن الدخل المفترض هو 385 مليار دولار) فأين تذهب تلكم الأموال؟ وكم يصل منها إلى المسلمين؟ بل كم يصل منها إلى الناس في نجد والحجاز؟ وكم يصل منها إلى خزائن آل سعود؟ ثم كم يقتطع أصلا لسادتهم في الغرب سواء بشكل مباشر أو من خلال ما يسمى بصناديق التحوط أو من خلال صفقات السلاح الوهمية أو الخردة؟


إنها الخيانة والعمالة والتبعية التي تمكن الغرب الكافر من ثروات الأمة ومقدراتها...


ألم يأن أن تأخذ الأمة على أيديهم وتزيح عروشهم لتنعم بخيراتها بدل حياة الضنك التي تحياها؟


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
م. حسام الدين مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست