March 14, 2015

خبر وتعليق بيان وزيرة الرعاية والضمان الاجتماعي أمام الدول الأعضاء بالأمم المتحدة تناقض مزرٍ


الخبر:


الخرطوم 2015/3/11م (سونا) - قدمت وزيرة الرعاية والضمان الاجتماعي مشاعر الدولب نائب رئيس الدورة 59 للجنة وضع المرأة بالأمم المتحدة بيان السودان أمام الدول الأعضاء بالمنظمة بنيويورك، كما قدمت أمس الأول بيان المجموعة الإفريقية وترأست في نفس اليوم أول اجتماع للجنة الدائرة المستديرة على المستوى الوزاري لتمكين المرأة.


وقالت الدكتورة ليمياء عبد الغفار الأمين العام للمجلس القومي للسكان عضو وفد السودان المشارك: "لقد كانت لمشاركة السودان في هذه الدورة أثرها الكبير والإيجابي" حيث أشارت الوزيرة في كلمتها إلى جهود الدولة في إطار تمكين المرأة والنهوض بها والسياسات والتشريعات والاستراتيجيات التي وضعت، كما أكدت على المكاسب الكبيرة التي تحققت للمرأة في مختلف المجالات السياسية والاقتصادية والاجتماعية.


وأوضحت الدكتورة لمياء بأن البيان ركز على التقدم المحرز في تنفيذ إعلان ومنهاج عمل بكين ومشيرة إلى استراتيجية وخارطة خفض أسباب وفيات الأمهات واهتمام السودان بمنهاج عمل بكين وإيفاء الكثير من التزاماته وإعطاء الدستور السوداني كل الحقوق للمرأة وتكفل الدستور بالحق المتساوي للرجل والمرأة وفي كل الحقوق المدنية والسياسية.


وأشارت الوزيرة إلى جهود السودان في إطار مكافحة الفقر واعتماد الاستراتيجية المرحلية لمكافحة الفقر والسياسات والتشريعات التي وضعت للتمويل الأصغر وتوفير فرص التشغيل واعتماد المشروع القومي للمرأة الريفية واهتمام الدولة بقضايا المرأة والطفولة بالإضافة إلى الإشادة بالجهود المقدرة التي قامت بها مستشارة الأمين العام لشئون النوع وكيان المرأة بالأمم المتحدة للارتقاء بأوضاع المرأة.


ودعت الوزيرة إلي أهمية تعزيز التعاون الإقليمي والدولي حتى يؤدي السودان دوره الرائد والطليعي في المنطقة كما طالبت بضرورة الالتزام الكامل بما جاء في إعلان أديس أبابا بتفيذ خطة بكين وتحقيق أجندة 2063م لإفريقيا، وبما جاء في الإعلان العربي وتوصياته حول تجديد الالتزام في تطبيق منهاج عمل بكين.


من جهة ثانية التقت وزيرة الرعاية والضمان الاجتماعي بمساعد الأمين العام للعنف الجنسي والنزاعات بالأمم المتحدة بحضور وزيرة الشئون الاجتماعية بولاية شمال دارفور فاطمة إبراهيم ومديرة مركز العنف ضد المرأة الدكتورة عطيات مصطفى وأعضاء الوفد السوداني حيث دار نقاش مثمر في هذا الملف.

التعليق:


لا شك أن قضية الدعوة إلى الله سبحانه وتعالى، وتخليص الناس من كل ألوان العبوديات، وإخراجهم من عبادة العباد إلى عبادة الله، ومن جور الأديان إلى عدل الإسلام، ومن ضيق الدنيا إلى سعة الدنيا والآخرة، واستنقاذهم من حياة الضنك نتيجة إعراضهم عن منهج الله تعالى، وإلحاق الرحمة بهم، ووضع إصرهم والأغلال التي عليهم هي من أخص خصائص المسلم وأبرز مسؤولياته، وهي الأمانة التي قبل حملها عندما رضي بالله رباً، وبالإسلام ديناً، وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبياً ورسولاً الذي كانت الغاية من إرساله، ومن رسالته إلحاق الرحمة بالعالمين، قال تعالى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾.


ولكن هؤلاء نسوه تطوعا بالعمل في صف المنظومة الغربية الرأسمالية ليبينوا أن مهمتهم تنحصر في تبني تطبيق شرعتهم النتنة التي أزكمت رائحتها الأنوف فكانوا تبعا لها مصداقا لحديث الرسول صلى الله عليه وسلم حيث قال: «لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى قَالَ فَمَنْ».


والتابعية الفكرية المرجعية تنساب بسهولة في كل كلمة يقولونها فالبيان تكررت فيه كلمات التمكين والنهوض بالمرأة والمكاسب الاقتصادية والسياسية والاجتماعية والتشريعات التي وضعت لأجل ذلك ومنهاج بكين واستيفاء التزاماته ما هذه الكلمات والأفكار إلا شرعة الغرب الرأسمالي التي تلظت بها المرأة في معقل هذه الحضارة التي لا تألو جهدا في استقلال المرأة وتحميلها فوق ما تطيق.


إن هذه التشريعات البشرية جعلت المرأة مبتذلة مستهلكة أنوثتها في الأغراض التجارية وهي عنصر أساس في الحملات الدعائية وأبيح جسدها وعرضها بموجب تشريعات قررها أرباب العمل للكسب المادي ولتكون متعة لهم في كل مكان. هذه العناية بالمرأة فقط عندما تكون قادرة على العطاء بيدها أو فكرها أو جسدها وإذا فقدت العطاء فلا ملجأ من المصحات النفسية.


إننا نمتلك في دين الله الحنيف للمرأة ما يجعلها ملكة تحاط بهالة من الرجال تجب عليهم النفقة عليها، ولو عجزوا جميعا تؤول نفقتها للدولة الإسلامية وهي في ظل تشريعات الله سبحانه العليم بخلقه، عرض يجب أن يصان تبذل من أجله الأرواح والمهج رخيصة، وهي ربة البيت وصمام أمانه تربي وتنشئ الشخصيات الإسلامية التي تعقل الإسلام وتحبه، فتسهم في رفعة المجتمع، وهي شقيقة الرجل لها أن تمتلك المال بأسباب شرعية وتنفقه كذلك ولها ذمة منفصلة عن الرجل.


شتان بين التبر والتراب فما تتبناه هؤلاء اللاتي وصلن إلى مناصب بذات العقلية الغربية الرأسمالية التي تمتهن المرأة وهن مسلمات متحجبات فكن صورة مشوهة للمرأة المسلمة التي يُفترض أنها تعتز بشرع ربها ومكلفة في الوقت نفسه بالدعوة إليه وحمله إلى المغضوب عليهم والضالين، وهن دون حياء من الله، يتبنين فكرة الغرب الكافر ضاربات بعرض الحائط شرع الله الرحمة للعالمين، فيا لبشاعة التناقض المزري الذي تعشن فيه هن وحكوماتهن البعيدة عن تمثيل المسلمين وأفكارهم ومفاهيمهم الحقة التي هي المنقذ من الضنك والضلال.


إلى أولئك نقول لو ارتديتن الحجاب لأنه فرض ربنا. ألا تعلمن أن موالاة الكفار والدعوة إلى فكرهم ومفاهيمهم عن الحياة حرام قطعا؟ قال شيخ الإسلام ابن تيمية: "ومن جنس موالاة الكفار التي ذمّ الله بها أهلَ الكتاب والمنافقين الإيمان ببعض ما هم عليه من الكفر، أو التحاكم إليهم دون كتاب الله، كما قال تعإلى: ﴿أَلَمْ تَرَ إلى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيباً مّنَ ٱلْكِتَـٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّـٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ هَـؤُلاء أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءامَنُواْ سَبِيلاً﴾ [النساء:51]... فمن كان من هذه الأمة موالياً للكفار من المشركين أو أهل الكتاب ببعض أنواع الموالاة ونحوها، مثل إتيانه أهل الباطل، واتباعهم في شيء من مقالهم وفعالهم الباطل، كان له من الذمّ والعقاب والنفاق بحسَب ذلك، وذلك مثل متابعتِهم في آرائهم وأعمالهم، كنحو أقوال الصابئة وأفعالهم من الفلاسفة ونحوهم المخالفة للكتاب والسنة، ونحو أقوال المجوس والمشركين وأفعالهم المخالفة للكتاب والسنة".


﴿يَـٰأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَكُمْ هُزُواً وَلَعِباً مّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَٱلْكُفَّارَ أَوْلِيَاء وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾




كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
غادة عبد الجبار / أم أواب

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست