October 14, 2014

خبر وتعليق دور تركيا في الحلف الصليبي لحرب الإسلام والمسلمين

الأخبار:

الخبر الأول:الجزيرة انتقد الرئيس التركي حزب الشعب الجمهوري التركي المعارض لمطالبته بإصدار تفويض للجيش التركي بشأن مدينة عين العرب (كوباني) الواقعة شمال سوريا، واعتبر أن تدخل الجيش التركي ضد تنظيم الدولة يوفر "حماية للأسد"، منددا بصمت المعارضة التركية على "مقتل ما بين 200 و250 ألف سوري"، ورغم موافقة برلمانها، ترفض الحكومة التركية حتى الآن التدخل عسكريا ضد تنظيم الدولة، وكان أردوغان أعلن شروطا ثلاثة، بينها إقامة منطقة عازلة شمال سوريا لمساعدة اللاجئين وحماية المدنيين، كي تنضم بلاده إلى الحملة على تنظيم الدولة أو تتدخل لحماية مدينة عين العرب التي تقع قبالة بلدة سروج التركية.


الخبر الثاني: واشنطن تؤكد تقدما في مشاركة تركيا بحرب تنظيم الدولة: قالت الولايات المتحدة الأميركية الجمعة إنه تمَّ إحراز "تقدم" مع تركيا لمشاركتها في الحرب على تنظيم الدولة الإسلامية، مشيرة إلى استعداد أنقرة لتأهيل وتدريب معارضين سوريين "معتدلين".


الخبر الثالث: جريدة الدستور: أعلن الرئيس التركي بعد ساعات من بدء التحالف العالمي ضرباته لتنظيم داعش أمس الثلاثاء، أن بلاده ستوفر الدعم اللازم لعملية ضرب داعش، مشيرا إلى أن هذا الدعم قد يكون سياسياً أو عسكرياً.


الخبر الرابع: القدس العربي: كتب النائبان الجمهوريان ليندزي غراهام وجون ماكين مقالا في صحيفة «وول ستريت جورنال» ناقشا فيه أهمية الإطاحة بالرئيس السوري بشار الأسد كطريقة للتخلص من خطر تنظيم الدولة الإسلامية في العراق والشام.


وينظر المسؤولون الأمريكيون للمدخل الذي تبنته الحكومة بأنه «داعش أولا» أما بالنسبة للأسد، فكما قال رئيس هيئة الأركان المشتركة مارتن ديمبسي فسيتم تأجيل قضيته للمستقبل. ويرى النائبان أن هذا تناقض في سياسة أوباما وأن الأسد قد يستفيد بطريقة غير مقصودة من ضرب «داعش». ويشيران إلى تناقض آخر في استراتيجية أوباما تتعلق بتدريب المعارضة، «فكيف سنقوم بتدريب وتسليح 5.000 سوري ونتوقع منهم النجاح ضد الدولة الإسلامية بدون توفير الحماية لهم من طائرات الأسد وبراميله المتفجرة؟ أو نتوقع من المعارضة السورية المعتدلة الاستفادة من الغارات الجوية على «داعش» بدون القيام بالتنسيق معهم؟»

التعليق:


بداية لا بد من التوضيح أن هذه الحرب الصليبية لا تستهدف تنظيم الدولة فقط، بل تتخذه ذريعة لتحقيق غايات أمريكا، ومن الأدلة على ذلك ما يلي: حين ترصد أمريكا خمسمائة مليار دولار أي نصف تريليون دولار لحرب عشرين ألفا من تنظيم الدولة أي بمعدل ثلاثين مليون دولار لكل مقاتل، فإن هذه التكلفة لا يمكن أن تكون لغاية حرب تنظيم مهما بلغت قوة تسليحه!


وحين تكون تكلفة كل طلعة جوية يصحبها إلقاء صواريخ هو مائة ألف دولار، فهذا يعني أن أمريكا ترصد ثلاثمائة طلعة مقاتلات جوية مع صواريخها لضرب كل مقاتل واحد من التنظيم، وهو ما لا تقبله العقلية العسكرية!


وحين تصرح بأن الحرب على تنظيم الدولة ستستغرق عشر سنوات أي أنها ستستغرق سنة كاملة لقتل كل ألفي مقاتل من التنظيم، فإن هذا لا يعني أنها في الحقيقة توجه حربها لتنظيم، بل إنها توجهه لحرب أمة أرادت التغيير، أرادت الانعتاق من ربقة التبعية لأمريكا...


وحين تستعين أمريكا بالسعودية والإمارات والبحرين وقطر والأردن وتركيا وما أنفقته هذه الدول من تريليونات على التسليح، فإن هذا يعني أن حرب التنظيم بالنسبة لهم ليست بأكثر من قميص عثمان اتخذوه ذريعة لغزو المنطقة، لكن هذا يعني أيضا أن أمريكا لم تعد قادرة على خوض أي حرب بعد هزيمتها في العراق وأفغانستان واستنزاف اقتصادها في حروبها ونزواتها الهوليودية، مما دفعها للاستعانة على المسلمين بالمجرمين من حكام الضرار ليخوضوا حربها الصليبية بالنيابة عنها وهي تعلم يقينا أنه ما زال الأشد كفرا من أعراب الجزيرة والشام والعراق ومصر يقبلون الأرض سجدا بين يديها...


وحين تقصف أمريكا الصليبية وحلفاؤها في حربها الصليبية من العرب العديد من الفصائل السنية المقاتلة في الشام، وتهدم البيوت وتقتل العشرات من العزل الآمنين في بيوتهم في الشام، فإن هذا يفصح عن طبيعة الحرب بأنها ضد انعتاق الأمة من ربقة التبعية لأمريكا، وأنها ورقة أمريكا الأخيرة بعد فشل كل أوراقها السابقة في جر المعارضة السورية لتتبنى الهوية العلمانية والتبعية الأمريكية وتحافظ على أمن كيان يهود، فحين فشلت في كل محاولاتها لجأت لهذه الورقة الأخيرة، وحين يصرح الرئيس الأميركي باراك أوباما بأنه "لن يتسامح مع رجال الدين الذين يدعون للكراهية ضد الأديان الأخرى"، فإنه يشير إشارة واضحة إلى أن أهداف الحملةِ خرجت عن مواجهة المجموعات المسلحة إلى "محاربة الهويِة الإسلامية التي تقف في وجه سياسات أميركا وأطماعها في المنطقة".


الوقفة الثانية: إن لحزب العدالة والتنمية التركي من الأعضاء في البرلمان التركي الحالي 326 مقعدا من أصل 550 مقعدا، أي ما يقارب 60 بالمائة من المقاعد، وهذا يعني أن التصويت لصالح الاشتراك في الحرب على الأمة الاسلامية لم يكن ليمر لولا أن سياسة حزب رجب طيب أردوغان تتبناه، وإن حاولت أن تتبنى أجندة تعارض ظاهريا الاشتراك لصالح ضمان أن تكون إزالة نظام الأسد من أهداف الحرب جنبا إلى جنب مع حرب التنظيم، وهي السياسة التي يتبناها الجمهوري ماكين، وهي حين إنعام النظر في الهدف البعيد لأمريكا عين ما تريده أمريكا بعد أن تحكم قبضتها من خلال حربها الصليبية على المنطقة فتمن على المعارضة التي تدربها في السعودية والأردن وتركيا بأن تحقق لها نصرا دعائيا يتمثل بإسقاط الأسد، لتحصد لها شعبية وقبولا داخليا، وإلا فإن ماكين صدق وهو كذوب بأن تدريب المعارضة لن يجدي من غير تأمين ظهرها.


الوقفة الثالثة: من الواضح أن تركيا تشارك بشكل مباشر أو غير مباشر في الحرب على الأمة الإسلامية، فقاعدة أنجرليك العسكرية ستكون تحت تصرف القوات الصليبية، ودعم التحالف سياسيا ولاحقا عسكريا، سيكون مما تقوم به تركيا، وتدريب المعارضة تحت سمع وبصر وتخطيط أمريكا ستقوم به تركيا.


إن مجرد القبول بأن تكون تركيا جزءا من هذه الحرب الصليبية على الأمة الإسلامية لهو جريمة عظيمة في حق هذا الدين، وإن سكوت الأمة على حكامها في السعودية والأردن والبحرين وقطر والإمارات والعراق في انضمامهم لهذا الحلف الصليبي الحاقد على الإسلام والمسلمين لهو جريمة عظيمة في حق هذه الأمة، وإن الواجب على هذه الأمة أن تنبذ حكامها نبذ النجاسات، وأن تعمل على تغييرهم وإراحة البلاد والعباد من شرورهم ومن ركوعهم بين يدي أمريكا الصليبية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أبو مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست