اقتربت اليونان من الموافقة على أخذ 45 مليار يورو، مساعدات من الاتحاد الأوروبي وصندوق النقد الدولي كحزمة لإعادة هيكلة الدين الخارجي والذي بلغ 300 مليار يورو، ولقد كان لألمانيا دور في تفاقم الأزمة. ففي حديث للصحيفة الإيطالية كورييري ديلا سيرا قال الملياردير جورج سوروس ، "لطالما قدم الألمان التنازلات الضرورية للمضي قدما في تقوية الاتحاد الأوروبي عندما كان الآخرون يبحثون عن صفقات، ولكن لن يستمر ذلك بعد الآن. لهذا السبب فإنّ المشروع الأوروبي قد توقف، وإن لم يستطع المضي قدما فإنّه سيعود إلى الوراء. من المهم جدا أن نفهم بأنّه إن لم نتمكن من التقدم خطوة إلى الأمام لمصلحة اليورو ، فإنّ اليورو سيتجزأ إلى قطع وكذلك الاتحاد الأوروبي." وشاطر سوروس الرأي وزير المالية الألماني الذي قال في مقابلة مع شبيجل "لا يمكننا السماح لإفلاس دولة عضو في اليورو مثل اليونان ليتحول إلى بنك ليمان براذرز ثاني" فعلى الرغم من تفهم خطورة وضع الدين في اليونان وتأثيره على اليورو، لماذا إذاً سمحت ألمانيا للمشكلة بالتفاقم وتسبب ذلك بريبة واسعة الانتشار. ما الذي يمكن أن تقوم به ألمانيا لتجنب الأزمة؟
التفسير التقليدي الذي يميل إليه معظم المحللين يدور عادة حول ثلاثة أسباب.
أولاً: أنّ الرأي العام الألماني يعارض بشدة إنقاذ زميل من دول الاتحاد الأوروبي، خصوصا تلك البلدان التي لم تلتزم بالقواعد الصارمة للاتحاد النقدي الأوروبي. ويشار هنا إلى الدول المتهمة بالإنفاق المسرف والذي من شأنه تقصير العمر الاقتصادي للاتحاد وتلك الدول هي ايطاليا وايرلندا واليونان واسبانيا. وعلاوة على ذلك فإنّ المستشارة الألمانية أنجيلا ميركل مقبلة على انتخابات في ولاية شمال الراين في 9 أيار حيث الأغلبية من حكومة يمين الوسط في مجلس الشيوخ على المحك. وتتخوف حكومتها فيما إن تحركت لمساعدة اليونان فإنّ الناخبين سيقومون بمعاقبة الحكومة القائمة.
ثانيا: هناك عقبة دستورية يجب التغلب عليها قبل أن تشارك ألمانيا في المساهمة بدفع كفالة لليونان. فهناك بعض البروفسورات الألمان يستعدون للطعن في خطة إنقاذ الاتحاد الأوروبي وصندوق النقد الدولي لليونان أمام المحكمة الدستورية في ألمانيا، بالإدعاء بأنّها تنتهك 'شرط عدم إنقاذ' لمعاهدات الاتحاد الأوروبي. وسيتقدم الدكتور كارل البرخت، أستاذ القانون في نورمبرغ وصاحب الشكوى بالادعاء بأن الإنقاذ يحتوي على نسبة للدعم غير مشروعة، ويهدد الاستقرار النقدي المشفر في معاهدة ماستريخت، ويخالف 'شرط عدم الإنقاذ". ويعتقد البرخت وآخرون بأن اليونان هي المسئولة عن الفوضى التي عصفت بها.
ثالثا: والأهم من ذلك، بأنّ الكثيرين في برلين والقليلين من خارجها عندهم فكرة بأنّ ألمانيا -أقوى اقتصاديات أوروبا- عالقة بين الصخور الصلبة في أعماق البحر. فإذا ساعدت ألمانيا في إنقاذ اليونان فإنّ ذلك سيعد سابقة خطيرة، وسوف يُطلب من ألمانيا إنقاذ البلدان الأخرى المتعثرة أي (ايطاليا وايرلندا واسبانيا). من ناحية أخرى فإنّه إن لم تفعل ألمانيا شيئاً فإنّ الأسواق الدولية ستستمر بمعاقبة اليونان وستجعل من الصعب على الحكومة اليونانية تمويل ديونها. كلا الخيارين من المحتمل أن يضعا عبئا لا يُطاق على دول أعضاء الاتحاد الأوروبي، وربما تتسبب في انهيارها. لهذا السبب فأنّ ألمانيا لا تزال تضغط على اليونان لتصبح أكثر شفافية ولتبرهن على قدرتها على الوفاء بالتزاماتها تجاه الديون طويلة الأجل. وفي الحديث عن هذه المسألة أصرت ميركل على أنّ اليونان "يجب أن تقوم بدورها في ضمان التمويل في اليونان للعودة إلى المسار الصلب... استقرار عملتنا هي الأولوية الأولى ".
لقد أدت العوامل المذكورة أعلاه إلى إيجاد التردد والشك بين أوساط السياسيين في ألمانيا، وهذا بدوره تسبب في الاضطرابات في أوروبا. فالبعض مثل مورغان ستانلي يتوقع بأنّ ألمانيا سوف تتخلى عن العملة الأوروبية. وقال بنك الولايات المتحدة بأنّ إنقاذ اليونان قد يكون ضرورياً لتفادي وقوع أزمة للنظام المالي الأوروبي، لكنه حذر من أنّه "سيزرع بذوراً لمزيد من المشاكل المحتملة في المستقبل".
وفيما يتعلق بالسؤال الثاني، ما الذي يمكن عمله؟
فإنّ ألمانيا مرة أخرى تواجه فرصة فريدة للتحرر من براثن القوى الكبرى التي حاولت احتواءها وإخضاعها خلال السنوات المائة والأربعين الماضية.
فقبل هزيمة ألمانيا في الحرب العالمية الثانية، عملت كل من روسيا وفرنسا وبريطانيا بكل قوتهم لكبح جماح النزعة العسكرية الألمانية. وبعد عام 1945 تم احتواء ألمانيا عن طريق مساعي أمريكا والاتحاد السوفيتي مجتمعتين. فقد تمكنت أمريكا من تحويل البراعة الألمانية نحو الاقتصاد ومنظمة حلف شمال الأطلسي لمنع استغلال النزعة العسكرية الألمانية. بالإضافة إلى ذلك، فإنّ الولايات المتحدة والاتحاد السوفيتي قسموا ألمانيا إلى قسمين، شرقية وغربية. وفي أواخر التسعينات بدأ اليورو باحتواء ألمانيا الموحدة.
وما خُطط له في الأصل من قبل مهندسي خطة مارشال، ومعاهدة ماستريخت كوسيلة لمنع ألمانيا من الحصول على مركز القوة الرئيسية قد انقلب رأسا على عقب، فألمانيا اليوم ومن خلال برنامجها الاقتصادي قد تبدو أقوى من قوة عسكرية، وتقف الآن على مفترق طرق لتصبح قوة عظمى مرة أخرى.
ينبغي على المسلمين أن يلتفتوا للمأزق في أوروبا وأن يعملوا على إعادة الخلافة. فالخلافة لن توفر نظاماً اقتصادياً سليماً كبديل للنظام الرأسمالي المنتكس فحسب، بل إنّ الدولة الإسلامية وببراعة استغلال الخلافات بين القوى الكبرى في أوروبا ستشجع ألمانيا على الانفصال عن الاتحاد الأوروبي. قال تعالى((..تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى..)) الحشر 14
كتبه للإذاعة: عابد مصطفى
خبر وتعليق ديون اليونان أزمة أوروبية أم فرصة ألمانية
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست