خبر وتعليق "فرانسوا العربي" لا يريد الخير للخليج وسلاحه لتدمير الأمة!!!
خبر وتعليق "فرانسوا العربي" لا يريد الخير للخليج وسلاحه لتدمير الأمة!!!

الخبر: أعلن الرئيس الفرنسي فرانسوا هولاند أن بلاده تقف إلى جانب الجهود التي تقوم بها دول مجلس التعاون الخليجي. وقال هولاند - في خطاب له أمام القمة التشاورية التي يعقدها مجلس التعاون بالرياض - إن فرنسا تؤكد دعمها للقوة العربية التي شكلتها دول المجلس في قمتها الأخيرة "لأن الأخطار التي تواجهها هي نفسها التي تؤرق فرنسا". وأضاف هولاند أن فرنسا تريد أن تكون حليفًا قويًا وشريكًا ذا مصداقية لدول المجلس، موضحًا "نحن نفعل ذلك عن طريق توفير أحسن التكنولوجيا وتوفير السلاح الفعال". المصدر: الجزيرة.     التعليق: إن القمة التشاورية الخليجية التي تعقد بالرياض، لا تعدو كونها قمةً جديدةً من القمم الخيانية التي اعتادت الأمة أن تشاهدها منذ عقود. إلا أن لهذه القمة أهميةً خاصةً في الكشف عن مدى انبطاح حكام الخليج للغرب وتفانيهم في خدمة من نصبوهم على عروشهم، حيث جاء انعقادها في الوقت الذي تقود فيه الرياض والدول المتشاركة معها حربًا ضروسًا ضد اليمن وأهلها المسلمين، حتى إن البعض يطلق على القمة "قمة الحزم". وقد استخدمت في هذه الحرب أسلحة الأمة وطائراتها فسببت الدمار والخراب والقتل والتشريد والتهجير خدمةً للكافر المستعمر. تلك الأسلحة والطائرات التي كنا نسمع كثيرًا عن صفقات شرائها بمليارات الدولارات التي كانت تدفع من أقوات المسلمين للذود عنهم وردع عدوهم، إلا أننا لم نرها من قبل لا لتحرير أقصانا الأسير ولا لنصرة المسلمين في الشام من الطاغية بشار ناهيك عن نصرة المسلمين المضطهدين في غيرها من البلاد، فحكام المنطقة العملاء لا يخوضون حربًا إلا بأوامر من أسيادهم في الغرب. لقد أراد المستعمر الكافر أن لا تستخدم هذه الأسلحة إلا لقتل المسلمين وسحقهم بأيدي أبناء هذه الأمة، وقد قام هؤلاء الخونة بتنفيذ الأوامر بحذافيرها. فيا لها من خيانة لله ورسوله ولأمة الإسلام وثرواتها ومقدراتها. أما الجديد في هذه القمة فهو الحضور الفرنسي لها، حيث حضر الرئيس الفرنسي فرانسوا هولاند جانبًا من القمة الخليجية، ليكون بذلك أول رئيس غـربي يحضر قمةً خليجيةً منذ قيام مجلس التعاون عام 1981م. إن كل ذي حس ولب يدرك أن فرنسا حاقدة على الإسلام وهي عدو الأمة اللدود. فسجلها الاستعماري الدموي القذر، ونهبها للثروات في البلاد التي احتلتها، ومنعها المسلمات من ارتداء الحجاب، ودعمها لمليشيات النصارى في أفريقيا الوسطى، والتي قتلت وعذبت وارتكبت جرائم وحشيةً مما لا يمكن وصفه بحق المسلمين، واستهزاؤها بالمسلمين وإساءتها لنبيهم وإسلامهم لتؤكد على مدى حقدها الدفين تجاه الإسلام والمسلمين. هذه فرنسا ذاتها يأتي رئيسها ليصول ويجول في بلادنا ويجلس بين هؤلاء الحكام الرويبضات ليؤكد دعم فرنسا للقوة العربية التي شكلتها دول المجلس في قمتها الأخيرة وليقول لهم بأنها تريد أن تكون حليفًا قويًا وشريكًا ذا مصداقية لتلك الدول. إن فرنسا الحاقدة على المسلمين لم تأت للقمة لتقدم الخير للخليج بل إن الهدف الذي أفصح عنه الرئيس الفرنسي هو توفير "أحسن التكنولوجيا وتوفير السلاح الفعال". إن أمريكا وبإشراك الدول الاستعمارية الأخرى ومنها فرنسا هي التي أشعلت الحرب التي تشنّها السعودية ودول الخليج على اليمن وهذه الدول لا تهمها سوى مصالحها على حساب تدمير الأمة. وقد وجدت فرنسا الحرب الدائرة الآن في المنطقة فرصة لها لتستدرك ما فاتها لعلها تجد فتات صفقات لم تذهب إلى أمريكا، لذلك سارعت مؤخرًا بعقد صفقات بيع الأسلحة مع دول المنطقة والخليج خاصة، منها صفقة بيع 24 طائرة فرنسية مقاتلة من طراز "رافال" لقطر بقيمة سبعة مليارات دولار، والتي حضر مراسم التوقيع عليها فرانسوا هولاند في الدوحة قبيل سفره للرياض لحضور القمة، وكذلك تجري مناقشات لمشروعات سعودية فرنسية بقيمة مليارات الدولارات والتي تشمل عشرين مشروعًا بما فيها قطاع الأسلحة. هذا السلاح الذي سوف يدفع المسلمون الثمن الباهظ لشرائه هو لتدمير سلاح الأمة في اليمن وفي المنطقة، فالسلاح الذي استخدم في الحرب من قبل دول التحالف والسلاح الذي دمر في اليمن هو جزء من سلاح الأمة يتم استخدامه لتنفيذ المشاريع الاستعمارية في المنطقة للحيلولة دون قيام دولة الخلافة الراشدة، وهذا ما قصده هولاند بقوله "لأن الأخطار التي تواجهها هي نفسها التي تؤرق فرنسا". فهاجس الخلافة يقض مضاجع الغرب وبشائر عودتها التي تلوح بالأفق القريب تقض مضاجع الحكام العملاء. لقد أوصل هؤلاء الحكام العملاء الأمة إلى الدرك الأسفل من الذل والهوان بسبب تبعيتهم لأسيادهم المستعمرين وغياب حكم الله في الأرض. فمنذ أن خسر المسلمون درعهم الواقي بسقوط الخلافة في الثامن والعشرين من رجب 1342هـ، تكالب عليهم أعداؤهم من كل حدب وصوب بشكل لم يمر على الأمة مثلها من قبل، وهيمن الكافر المستعمر على الأمة وتجذر في البلاد الإسلامية. لذلك لا انعتاق لهذه الأمة الكريمة بدينها من هذا الذل والهوان والخضوع للغرب إلا بخلع هؤلاء الحكام الرويبضات وإقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة التي تجعل سياستها الداخلية والخارجية على أساس الإسلام، ولا تسمح بأي تدخل أجنبي في بلاد المسلمين. ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ لِلّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا﴾ [النساء: 144]     كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرفاطمة بنت محمد  

0:00 0:00
Speed:
May 08, 2015

خبر وتعليق "فرانسوا العربي" لا يريد الخير للخليج وسلاحه لتدمير الأمة!!!

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست