الخبر: في اجتماع عقد في الدوحة يومي الثاني والثالث من أيار/مايو ناقش ممثلون من المجلس السلمي الأعلى الأفغاني وحركة طالبان والحزب الإسلامي ووسطاء دوليين، ناقشوا وجهات نظرهم المتبادلة عن الأوضاع السياسية وخصوصًا المتعلقة بالسلام في أفغانستان ومسألة وقت إطلاق النار. مع هذا ففي النهاية لم توافق طالبان على بقاء القوات الأمريكية في أفغانستان. وبحسب وكالة رويترز فقد قال أحد ممثلي طالبان أن المفاوضات لم تسفر عن شيء سوى الاتفاق على معاودة الاجتماع الشهر المقبل في الإمارات العربية المتحدة. التعليق: قال مسؤولون في الحكومة القطرية أن هذا الاجتماع كان لجمع الأحزاب المختلفة المتصارعة من أجل تقليل الاختلافات بينها فيما يتعلق بالسلام في أفغانستان وكيفية تحقيقه، ولكن ما يجب على الأمة الأفغانية المجاهدة أن تعلمه هو أن الحديث عن السلام في بلد يتواجد فيه الغزاة المستعمرون، في كل شيء ويسيطرون على كل شؤونه، ما هو إلا كذب وتضليل، لأن السلام والاستقرار لا يمكن أن يتحقق إلا بخروج القوات الغازية كليًا. إن حكومة الوحدة برئاسة غاني وعبد الله والتي صممها جون كيري ما انفكت تعمل وفق الأجندة الأمريكية وتبذل كل ما في وسعها لتحقيق ما يسمى بالسلام في المنطقة. لقد قام غاني بزيارة السعودية والصين وباكستان والهند من أجل هذا الهدف، وعلى الصعيد نفسه فقد أعطى الملا عمر الضوء الأخضر بإجراء مفاوضات للسلام، ونتيجةً لذلك رفعت أمريكا حركة طالبان عن لائحة المنظمات الإرهابية. ولكن مع كل هذا فما زال المعسكران، الحكومة وطالبان يقومان بمهاجمة بعضهما ويرتكبان الجرائم اللاإنسانية ضد بعضهما البعض. إذا قمنا بتحليل ما يسمى بمحادثات السلام بالتزامن مع عمليات القتل البشعة من كلا الجانبين، فيمكننا القول إن الحديث عن السلام ما هو إلا خيانة للشعب الأفغاني، لأنه في واقع الأمر مصمم من المستعمرين أنفسهم الذين يريدون إقناع الأفغان بأن العملية السلمية هي عملية جادة ومخلصة من أجل إحلال السلام في البلاد. الشيء الذي حققه الاستعمار هو جعل القوات الأمنية الأفغانية توجه سلاحها ضد طالبان بدون إلحاق أي ضرر بالعدو الحقيقي للمسلمين. إن السلام بالنسبة لهم هو توقف المقاومة ضد الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي وتغيير مسارها تجاه الأفغان من كلا الطرفين، وبهذا سوف يستمر الاقتتال بوتيرة عالية ولكن بيد المسلمين أنفسهم في أفغانستان. قال ممثل حركة طالبان، ولم يذكر اسمه، لوكالة رويترز، إن الرئيس غاني وعمه قاريم كوشي طلبا منا وقف القتال وإعلان وقف إطلاق النار، وأضاف أنهما وصفونا بالأخوة، وطلبا منا العودة إلى التيار الوطني والقبول بالدستور الأفغاني، هذا بالضبط ما تريده الولايات المتحدة لم يوافق ممثل طالبان على هذا وقال أن حركة طالبان سوف تستمر بالقتال حتى رحيل آخر جندي أجنبي. وقال الممثل الطالباني إن الحكومة الأفغانية تقول إنه بمجرد وقف القتال فإن القوات المتبقية حاليًا، والتي تقوم بمهمة التدريب، سوف تنسحب كما فعلت القوات الأمريكية المقاتلة. هذا وقد دعا مجلس السلام الوطني حركة طالبان للمفاوضات بشكل مباشر مع الحكومة الأفغانية لإنهاء الأزمات في البلاد. من أجل تحقيق أهدافها الإقليمية، فإن أمريكا قامت بتوقيع معاهدة أمنية استراتيجية مع أفغانستان تمكنها من البقاء في البلاد لمدة طويلة، وتستغل قواعدها في أفغانستان من أجل نشر هيمنتها على المنطقة. لقد أوحت الولايات المتحدة إلى الحكومة الأفغانية بأنها لن تستمر في حالة عدم تنفيذ الأهداف الأمريكية، وللسبب نفسه فإن حركة طالبان أيضًا لا تعير الحكومة الأفغانية أي تقدير أو انتباه وتحاول التفاوض مع الأمريكيين بشكل مباشر حول إنهاء الاحتلال وتحقيق السلام، لذا فإن طالبان قالت خلال هذه المحادثات بأنها عبارة عن نقاش مفتوح ونفت أن يكون لهذه الاجتماعات علاقة بمفاوضات السلام. بالإضافة لهذا فإن الولايات المتحدة وعملاءها في النظام الأفغاني يحاولون كسر تأثير طالبان من خلال إدخال تنظيم الدولة في أفغانستان. نلاحظ تمامًا أنه بعد كل حادثة وقبل تحمل مسؤولياتها أو إنكارها من حركة طالبان أو تنظيم الدولة، تقوم الحكومة بإلقاء اللوم على تنظيم الدولة، ووصل الأمر إلى أن الرئيس غاني أثناء زياراته وخطاباته يقوم بإظهار تأثير تنظيم الدولة على أفغانستان ويؤكد على وجود هذا التنظيم في بلاده. وتقوم الحكومة باستغلال الإعلام والفتاوى الباطلة من أجل تأجيج الصراع بين تنظيم الدولة وحركة طالبان. في النهاية نقول إنه يجب على كافة الأطراف المشتركة في القتال التركيز على الغزاة وعلى الأعداء الحقيقيين، يجب عليهم أن يتحدوا في قتال القوات الأجنبية بدل قتال بعضهم لبعض، كما ويجب عليهم العمل للتغيير الشامل في العالم الإسلامي وهو العمل من أجل إقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة وبهذا لن تتحرر أفغانستان لوحدها من الاستبداد والظلم، بل الأمة الإسلامية جمعاء. كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرسيف الله مستنيركابول - ولاية أفغانستان
خبر وتعليق في ظل الاستعمار، الحديث عن السلام ليس سوى خرافة براقة (مترجم)
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست