خبر وتعليق في ظلال ثورة الشام هل أمريكا تتخبط أم تخادع أم كلاهما؟!
March 28, 2015

خبر وتعليق في ظلال ثورة الشام هل أمريكا تتخبط أم تخادع أم كلاهما؟!

الخبر:


قالت مستشارة الأمن القومي الأمريكي سوزان رايس: "إن بشار أسد فقد كل الشرعية للحكم ويجب أن يرحل" (رويترز 2015/3/24) وذلك بعد اجتماعها مع معاذ الخطيب رئيس الائتلاف السوري السابق يوم 2015/3/23 الذي جاء يؤكد الولاء لأمريكا ويسأل عن تصريح وزير خارجيتها جون كيري لشبكة (سي بي اس نيوز) يوم 2015/3/15 حيث قال: "إن الولايات المتحدة ستضطر للتفاوض مع الرئيس السوري بشار أسد من أجل انتقال سياسي بسوريا". ومن ثم يعدل ويلتف على تصريحه عندما رأى ردة فعل فقال: "لا نريد أن نفاوض الأسد مباشرة". وقد أرسلت أمريكا دي ميستورا مبعوثا باسم الأمم المتحدة ليعلن قبل يومين من تصريحات كيري قائلًا: "إن بشار أسد جزء من الحل" (أ ف ب 2015/3/13)

التعليق:


يُلاحظ على الإدارة الأمريكية أنها تتخبط خبط عشواء فلا تدري أتصيب أم تخطئ ثم تتراجع كأن ساستها هواة أو أن ثورة سوريا أعجزتها فجعلتها تتخبط! فمرةً تقول إن الأسد فاقد الشرعية ويجب أن يرحل، ومرةً تقول أننا يجب أن نتفاوض معه. وهذا دليل فشل وليس نجاحًا.


وقد حصل مثل ذلك يوم أن قال رئيسها أوباما "إن استعمال الأسلحة الكيميائية خط أحمر، إن تجاوزه الأسد تغيرت قواعد اللعبة وعاقبته أمريكا" (سي إن إن 2013/5/27) مرددًا مقولته هذه أكثر من مرة للتأكيد. فقام المجرم بشار أسد وضرب الغوطة بالأسلحة الكيميائية يوم 2013/8/21 وأرسلت أمريكا بوارجها الحربية لتوجه ضربةً للنظام لأنه تجاوز الخطوط الحمر، وبعد فترة وجيزة تراجعت وقالت على لسان وزير خارجيتها كيري "إنه بإمكان السلطات السورية تفادي الضربة العسكرية في حال تسليم كافة الأسلحة الكيماوية الموجودة لديها" (الحرة الأمريكية 2013/9/9).


ويبدو أن أمريكا تعلمت ألا تستعمل لفظة الخطوط الحمر فيما يتعلق بسوريا، ورأت أن ذلك يحرجها ولا تستطيع أن تتعامل مع الواقع وتظهر بمظهر الكذّاب عندما تتراجع كما حصل معها في هذا الموضوع. ولذلك راح أوباما يخطب خطابًا مطولًا في الجمعية العمومية للأمم المتحدة يوم 2013/9/24 ليبرر تراجعه فقال: "وهكذا فإنني أعلم أنه في أعقاب الهجوم كان هناك من شكك بشرعية القيام حتى بضربة محدودة في غياب تفويض واضح من مجلس الأمن.. وقد اتخذت الحكومة السورية الخطوة الأولى بتقديم بيانات بمخزوناتها الكيميائية". مع العلم أن أمريكا عندما تريد أن تضرب لا تسأل عن مجلس الأمن أوافقها أم لم يوافقها كما فعلت في كوسوفا وفي احتلال العراق، وتتهرب من أن تلتزم بقراراته إذا لم تقدر على منع إصدارها، بل هي هذه المرة صارت تقول حتى نوجه ضربةً لسوريا يجب أن نأخذ موافقة مجلس الأمن.


ويظهر أن الثورة السورية التي قامت من صميم الشعب السوري الأبي الذي فضل الموت على المذلة ولم يتمكن العملاء من الخطيب وأضرابه في الائتلاف وخارجه من ركوب هذه الثورة وأخذ زمامها، وأعلنها إسلاميةً إسلامية، وهدفها خلافة إسلامية، وأن قائدها إلى الأبد محمد صلى الله عليه وسلم، هذه الثورة جعلت أمريكا تتخبط وتكشف عن كذبها وخداعها، فاعترف رئيسها أوباما في خطابه الذي أشرنا إليه حيث قال: "وهكذا فإن الأزمة في سوريا وزعزعة الاستقرار في المنطقة يصبان في صميم التحديات الأوسع نطاقًا التي يجب أن يتصدى لها المجتمع الدولي الآن. فكيف ينبغي أن نستجيب للصراعات في الشرق الأوسط وشمال أفريقيا الدائرة فيما بين البلدان ولكن أيضًا الصراعات داخلها؟" فيرى أن ثورات الأمة وخاصة الثورة السورية هي أكبر تحدٍّ لسياسة أمريكا وللدول الأخرى وهو لا يدري كيف سيتعامل مع هذه التحديات والصراع الذي برز لأول مرة بين أمريكا وحلفائها وبين الأمة الإسلامية.


وأصبح الجميع يدرك خداع أمريكا وكذبها ولا يوجد عندها خطوط حمر إلا تحقيق مصالحها فقط لا غير، حيث قال أوباما في خطابه الذي أشرنا إليه، والذي وصفه أنه فيه يحدد الاستراتيجية الأمريكية في المنطقة فقال: "إن الولايات المتحدة جاهزة لتوظيف جميع عناصر قوتنا بما في ذلك القوة العسكرية لتأمين مصالحنا الأساسية". وختم ذلك معلنًا الجزء المهم في استراتيجيته فقال: "ورغم أننا سنتهم أحيانًا بالنفاق والازدواجية والكيل بمكيالين فإننا سوف ننخرط في المنطقة على الأمد البعيد. ذلك أن العمل الشاق من أجل نشوء الحرية والديمقراطية هو مهمة جيل بأكمله".


أي أن الرئيس الأمريكي يعلن بشكل صريح أنه لا يهم أمريكا إذا اتهمهت بالنفاق والازدواجية والكيل بمكيالين فإنها سوف تبقى على عادتها تكذب وتخادع وتنافق وتكيل بمكيالين! فاللوم ليس عليها، وإنما على الذي يثق بها كمن يثق بالشيطان. فمن يثق بأمريكا وقرينات السوء من الدول الاستعمارية إلا المغفل الساذج أو العميل الخائن الذي لا يهمه إلا مصالحه الذاتية.


فالدعوة إلى الحرية والديمقراطية هي عبارة عن سلاح من أسلحة الكذب والخداع والكيل بمكيالين تشهره أمريكا في وجه من تشاء وتغمده متى تشاء. فتدعم عميلها المستبد حسني مبارك ثلاثين عامًا، وعندما يثور الشعب تقول نؤيد حق الشعب في الحرية والديمقراطية، وعندما يحصل انقلاب عسكري ويسقط مرسي الذي سار معها وقد أيدته لأنه التزم بمواثيقها وبديمقراطيتها ووثق بها، تقول نؤيد خطوة الجيش المصري لإعادة الديمقراطية. وهي بأشكال مختلفة ظاهرة ومفضوحة تراها تؤيد نظام بشار أسد الذي سقى الشعب الذل وداس على كرامته وأهان إنسانيته ولم يمنحه لا حرية ولا ديمقراطية، وصرفت النظر عن كل جرائمه وقتله لمئات الآلاف وتدميره للبلد كما أيدت والده الهالك من قبل لمدة ثلاثين سنة، وهي تؤكد أنها ستحافظ على النظام السوري، فتقول على لسان مدير مخابراتها جون برينان يوم 2015/3/13 في مقابلة مع شبكة (بي بي اس) "إن الولايات المتحدة الأمريكية لا تريد انهيار الحكومة السورية والمؤسسات التابعة لها. لأن من شأن هذا الأمر أن يخلي الساحة للجماعات الإسلامية المتطرفة ولا سيما تنظيم الدولة الإسلامية".


فتعمل أمريكا على الخداع بأنها لا تريد أن ينهار النظام السوري بذريعة الجماعات المتطرفة. بل لأنها لم تجد عميلًا بديلًا عن عميلها بشار أسد حتى الآن، فتتذرع بالجماعات المتطرفة، وهي تحارب ثورةً لأنها اتخذت طابعًا إسلاميًا، وهي ما زالت عاجزةً تجاهها رغم تضييقها على الثوار واستخدامها مباشرةً لإيران ولحزبها في لبنان ورغم إمكانياتها وقدراتها ومكرها.


ولكن كما قال تعالى: ﴿وَمَكْرُ أُوْلَئِكَ هُوَ يَبُورُ﴾؛ فإنه سيبطل مكر أولئك الأمريكان وغيرهم من حلفائهم وعملائهم ومن سار خلفهم ووثق بهم فلا ينتفعون به في الدنيا وسوف يضرهم في الآخرة ولعذابها أكبر، وكما قال عز وجل: ﴿وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾، فالنصر حليف المتقين في الدنيا والآخرة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست