خبر وتعليق   حكام سفهاء عابثون، وعدو ماكر لئيم.. اللهم نصرك الموعود
خبر وتعليق   حكام سفهاء عابثون، وعدو ماكر لئيم.. اللهم نصرك الموعود

الخبر: الخرطوم 10 حزيران/يونيو 2015 ـ تبرعت حكومة ألمانيا بمبلغ مليون يورو "نحو مليون دولار" للصندوق الإنساني المشترك في السودان لعام 2015، ورغم أن هذه هي أول مساهمة من ألمانيا للصندوق، إلا أنها تعتبر أحد المانحين الملتزمين للسودان منذ عام 2000. والصندوق الإنساني المشترك في السودان، هو صندوق لتجميع الأموال من الجهات المانحة التي تدعم تخصيص وصرف الأموال في الوقت المناسب لمقابلة الاحتياجات الإنسانية الأكثر أهمية، وتلقى الصندوق منحة بمبلغ 22 مليون دولار في 2015 ستخصص للمنظمات الدولية، والوطنية، ووكالات الأمم المتحدة، لتمكينها من تنفيذ المشاريع العاجلة المنقذة للحياة. وقال السفير الألماني لدى السودان، رولف ولبيرت، "نظرًا للأعداد الكبيرة من الأشخاص المعرضين للمخاطر في أجزاء كثيرة من السودان، يظل توفير استجابات مبسطة، وفي الوقت المناسب مهم للغاية". وتابع "تستهدف المساعدات الإنسانية نحو 5.4 مليون شخص في جميع أنحاء السودان، أما بالنسبة للعام 2015، فقد منح الصندوق الأولوية للأنشطة التي توفر المساعدات العاجلة المنقذة لحياة الفئات الأكثر عرضةً للمخاطر، مثل النساء والأطفال، فالمنطلقات التي تحرك الشركاء في المجال الإنساني في السودان هي إعمال المبدأ الإنساني لحماية الحياة، والصحة، وضمان احترام الإنسان".   التعليق: قالت مصادر إن ميزانية حفل تنصيب البشير الذي استمر لساعات قليلة بلغت (350) مليون جنيه أي أكثر من 35 مليون دولار. وكشفت المصادر أن اللجنة الإعلامية تعاقدت مع شركة إنتاج إعلامي أجنبية نظير الآلاف من الدولارات لتغطية الحدث، واستأجرت الشركة طائرات هيلكوبتر لتصوير جزء من حفل التنصيب من الجو، بالإضافة إلى معدات وأجهزة تصوير حديثة تم توزيعها في القصر الجمهوري والبرلمان والساحة الخضراء، كل هذا البذخ، والشعب يعاني الفقر والعوز، والتي أصبحت مسوغًا لتدخل الدول الأجنبية بمساعدات ومنح كباسط كفيه إلى الماء ليبلغ فاه وما هو ببالغه، مساعدات لا تحل مشكلة بل تعقّد وتزيد الأزمات. والمانحون يتحدثون عن الصرف على المشاريع العاجلة المنقذة للحياة في بلد العجائب والغرائب والتناقضات المزرية حيث استكانت الفئة الحاكمة بعد أن أعلنت عدة مرات طردها لبعض المنظمات التي تسمى إنسانية على خلفيات متعددة تثبت عدم انتمائها للإنسانية بل تؤكد أنها ذات هدف واستراتيجية ضد أهل البلد بالدليل القاطع. إن إشغال الرأي العام بهذه المنح والأموال هو تضليل عن الأهداف الحقيقية لدول الكفر، أعداء المسلمين، قال تعالى: ﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ﴾. كيف نقتنع بإنسانية هؤلاء وتاريخهم يثبت تدخلهم لصالح الصرب في حربها على المسلمين، وتغطيته على مجازرهم والآن يعطون المهلة تلو المهلة لطاغية سوريا وهو يذبح الأطفال والنساء، وفي أفريقيا الوسطى وبورما حيث تنتفي أدنى قيم الإنسانية؟! وليعلم سفير ألمانيا أن في أمة الإسلام مخلصين لله دينهم، يرصدون ويوثقون كل أعمال تعبث بأمتهم ومنها أعمال السفارات الأجنبية والتي هي الأيدي الخفية لإشعال الفتن وتنفيذ السياسات التي تؤدي إلى الحروب المصطنعة بين أبناء الأمة الواحدة ليتدخل باسم الإنسانية ليدير دفة الصراع عن قرب في ميدان المعارك ليضمن عدم انفلات الأمور من يده القذرة التي لا تمت للإنسانية بصلة، فقد سقطت ورقة التوت، ونعدكم بالمحاسبة العادلة في عهد أول حاكم، إمام جنة للمسلمين والذي سينسيكم إنسانيتكم المكذوبة التي نهبتم بها الثروات وأسلتم بها دماء الناس دون ذنب إلا لإشباع نهمكم ورأسماليتكم التي لا تشبع. حديث السفير عن الفئات الأكثر عرضةً للمخاطر (النساء والأطفال لإنقاذهم بأعمال المبدأ الإنساني لحماية الحياة والصحة واحترام الإنسان) فيه إشارة واضحة للترويج للمبدأ الرأسمالي الذي ولدت منه كل الأزمات والمشكلات الإنسانية التي تخص المرأة حتى في الغرب حيث تباع المرأة وتشترى في سوق النخاسة الرأسمالي الذي جعلها سلعةً تباع وتشترى، بل صرفها عن إنسانيتها وفطرتها فقطع نسلها بإشغالها بأوهام تحقيق الذات الذي لا منال له في فكر الرأسمالية المادي، وفي نهاية المطاف ترمى في ملاجئ العجزة حيث لا يسأل عليها أحد، فليعملوا إنسانيتهم في بلادهم ففاقد الشيء لا يعطيه. فأين الإنسانية التي يروج لها في بلاد المسلمين حيث الإنسانية والرحمة والرأفة تنبع من عقيدة الناس ولولا غياب أحكام الإسلام لعرف الغرب نماذج للإنسانية كما في ماضي المسلمين لم يروا لها مثيلا. وعما قريب بإذن الله يسود الإسلام في بلاد المسلمين فتتزاوج عقيدة الناس بأحكام ربهم العليم الحكيم فيرى الناس العدل والإنسانية الحقيقية فيدخلوا في دين الله أفواجًا تمامًا كما كان في عهد الدولة الإسلامية على مر العصور لأنهم وجدوا الإنسانية والخير العميم.       كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرغادة عبد الجبار - أم أواب

0:00 0:00
Speed:
June 14, 2015

خبر وتعليق حكام سفهاء عابثون، وعدو ماكر لئيم.. اللهم نصرك الموعود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست